بلاگز

سچ کون بولے گا؟

عرصہ دراز سے پاکستانی سیاست میں یہی دیکھا جا رہا ہے کہ سیاستدان ایک دوسرے کو جھوٹا کہتے ہیں اور خود کو سچا مانتے ہیں۔ آج تک بیشتر سیاستدانوں میں یہ اخلاقی جرأت پیدا نہیں ہوئی کہ جہاں ان سے خطا ہوئی ہے اسے قبول کریں۔
اب نوازشریف صاحب کو ہی دیکھ لیں۔ محبوب لیڈر پہلے دن سے ایٹم بم کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے لیکن قوم کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ جس دن ایٹمی تجربات کرنے تھے اس سی پچھلی رات موصوف کے بل کلنٹن کے ساتھ کیا معاملات چل رہے تھے، وہ تو اللہ بھلا کرے آرمی چیف اور ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر مبارک کا جنہوں نے انہیں ایسا کرنے پہ مجبور کیا اور آج وہ اس بات کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے حالانکہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے تو یہ تک کہہ رکھا ہے کہ "اس میں ایک پٹاخہ پھوڑنے کہ ہمت نہیں تھی”
چلیں ان کے زمانے میں دھماکے ہوئے، لینے دیں کریڈٹ لیکن ایک اور بات میری سمجھ سے باہر ہے، جب مشرف نے مارشل لاء نافذ کیا تو موصوف دس سال کی ڈیل فرما کے جدہ بھاگ گئے اور کہتے ہیں ہمیں جلا وطن کیا گیا، ظلم کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ ذرا کوئی مجھے سمجھائے کہ یہ کیسی جلا وطنی تھی جس میں موصوف کے پاس اتنا پیسہ آ گیا کہ دوبئی، ہندوستان اور سعودی عرب سمیت کئی ملکوں میں ملیں اور کاروبار لگا لئے لیکن کسی بھی چیز کا "رسیدی ثبوت” موصوف فراہم نہ کر سکے، پھر بیماری، قطری خط، اور بھی بہت چیزیں ہیں وہ پھر سہی۔۔
چلیں بات کرتے ہیں جناب "ایک زرداری، سب پہ بھاری” صاحب کی۔ کہتے ہیں ہم نے پاکستان بالخصوص "سندھ” کو بہت ترقی دلوائی۔ لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ "مسٹر ٹین پرسینٹ” کیسے مشہور ہوئے؟
سندھ میں روزانہ کی بنیاد پہ اتنے بچے بھوک اور پیاس سے کیوں مر رہے ہیں۔ بلاول اور ایان علی کی ٹکٹیں ایک ہی اکانٹ سے کیوں لی جاتی رہیں؟
نیب کو "پلی بارگین” کے تحت اربوں روپے کیوں واپس کئے گئے؟
بلاول زرداری، بلاول بھٹو کیسے بنا دیا گیا؟
ہر بار بارش میں کراچی، لاڑکانہ، حیدرآباد اور گھوٹکی سمیت آدھا سندھ کیوں ڈوب جاتا ہے؟

اب بات کرتے ہیں عمران خان کی،
پہلے دن سے احتساب کا نعرہ لگا کے نکلنے والا شخص پہلے الیکشن میں ایک سیٹ نہ جیت سکا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری، پھر ایک سیٹ جیتی، پھر ایک صوبے پہ حکومت کی، اسی صوبے نے تاریخ میں پہلی بار کسی پارٹی کو دوبارہ اقتدار دیا۔ پھر تاریخ نے وہ دن بھی دکھایا کہ وہ اس ملک کا بائیسواں وزیراعظم بن گیا۔
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اس نے یہ سفر کیسے طے کیا؟
ایک مافیا کے خلاف "جہاد” کرتا ہوا وہ یہاں تک کیسے پہنچا؟
اس کی ذاتیات اچھالی گئی، گزشتہ زندگی ٹی وی شوز میں ڈسکس ہونے لگی، اسکے والد پہ، بہنوں پہ الزامات لگائے گئے، اسے یہودی ایجنٹ کہا گیا، اسے طالبان خان کہا جاتا رہا، اس پر جھوٹے الزامات لگا کر مقدمے درج کئے جاتے رہے لیکن وہ ڈتا رہا،
آخر ایسا کیا تھا جو اسے یہ سب برداشت کرنے کا حوصلہ دے رہا تھا؟
تو جناب وہ تھا اس کا "سچا” ہونا۔ اس نے کسی الزام سے فرار اختیار نہیں کیا، شوکت خانم میں کرپشن کے الزامات لگے تو اس نے آڈٹ کروانے کا حکم دے دیا اور سچا ثابت ہوا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب جب بھی کوئی شخص شوکت خانم پہ الزام تراشی کرتا ہے تو اسے پہلے سے زیادہ فنڈز ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اس پر کرپشن کے الزامات لگے (حکومت میں نہ ہونے کے باوجود) تو وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے "صادق اور امین” کا اعزازی لقب لے کے سرخرو ہوا۔ اس کے دوستوں پہ الزامات لگے اس نے تحقیقات کروائیں وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی ان کی طرفداری نہیں کی۔
بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں صرف اتنا کہوں گا، اگر عمران خان خدا کے ہاں پسندیدہ نہ ہوتا تو اللہ دنیا کے دلوں سے اس کی محبت نکال دیتا۔ اللہ نے اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں اس طرح پیوست کر دی ہے کہ اب اس کے محبت کرنے والے اس کے منہ سے سچ کے علاوہ کچھ سننا پسند ہی نہیں کرتے، انسان ہوتے ہوئے جب بھی اس سے غلطی سرزد ہوتی ہے تو وہ اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ لوگ اسے "یو ٹرن” کہیں گے، اپنی غلطی پہ رجوع کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

تحریر ختم کرنے سے پہلے صرف اتنا کہوں گا کہ اس ساری بحث میں مریم، بلاول یا حمزہ کا ذکر کرنا ان کا مقابلہ عمران خان سے کرنے کے مترادف تھا لہذا جب وہ اس کے مقام تک پہنچیں گے تب ان کا ذکر بھی کر دیا جائے گا۔ ابھی وہ صرف سٹیجوں پہ کھڑے ہو گے میرے پاپا میرے پاپا کا راگ الاپیں اور چند بے وقوفوں کو بریانیوں اور نانوں کے خواب دکھائیں جبکہ عمران خان اس قوم کو ایک نئے مستقبل کے خواب دکھلا رہا ہے۔ اور ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان ان سب محرومیوں سے نکل کر ایک خود مختار ریاست کے طور پہ سامنے آئے گا اور تب قوم اس شخص کو یاد کرے گی جس کا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔
تحریر: مجاہد حسین خان

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button