بلاگز

آندھی تقلید، کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا

آندھی تقلید، کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا

آندھی تقلید، کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا

کالم نگار: فیض عالم

تاریخ شاہد ہے آج تک جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اپنی زبان ہی میں کی۔ترقی کرنے کے لیے کسی اور زبان کا استعمال کرنے کی ضرورت پڑی تو بس ضرورت کی حد تک ہی استعمال کیا۔ آج دنیا کی ترقی یافتہ اور بہترین قوموں جیسے جاپان اور چائنا کو دیکھ لیں ان کے ملک میں ان کی زبان ہی رائج ہے اور یہ ذہین ترین قومیں 2016 کی ایک تحقیق کے تحت دنیا کی 70 فیصد اکانومی پر چھائی ہوئی ہیں ۔ان کے یہاں بولنے کے ساتھ ساتھ ان کی قومی زبان سرکاری زبان ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے اور پرائیوٹ اداروں میں بھی تمام دستاویزات ان کی اپنی زبان میں ہی ہوتی ہیں۔ درس و تدریس میں بھی انگریزی جیسی اعلی نسل زبان کو بس سبجیکٹ اور ضرورت کے تحت استعمال کرنے کی حیثیت حاصل ہے۔آپ میرے انگریزی زبان کو اعلی نسل زبان کہنے پر شائد حیران ہوے ہوں۔میں نے اعلی نسل کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ مملکت خدا داد پاکستان میں صرف اسی شخص کو ایجوکیٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے جو فراٹے بھرتے ہوئے انگلش زبان بولنا جانتا ہو۔ اور اردو زبان استعمال کرنے والوں کو کم پڑھے لکھے ہونے کا ٹائٹل بھی پاکستانیوں نے ہی مرہمت فرمایا ہے۔ اپنی مادری زبان سے اس قدر بے اعتنائی شائد آج سے پہلے کسی قوم نے نہیں برتی ہوگی۔
اردو جسے لشکری زبان ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔اس زبان نے کی اور زبانوں کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے۔ مگر دور حاضر میں سرزمین پاکستان میں اردو زبان کی حیثیت ضعیف العمر بوڑھی بیوہ سے زیادہ نہیں جسے اس کے گھر کے خود غرض مکین ہی خود پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اردو زبان کو لے کر یہاں چند مشاہدات سامنے آئے۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو عمر کا بیشتر حصہ بیرون ملک گزارتے ہیں اور جب واپس آتے ہیں تو ان کے بچے پوری طریقے سے اردو نہیں سمجھ پاتے اور اس میں سراسر ان کے والدین کا قصور ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگ ہیں جو رہتے پاکستان میں ہی ہے ان کے بچے بھی پاکستانی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں لیکن منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی زبان بولنا ان کے لیے قابل فخر ہے۔ اور انگریزی زبان بولنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ سوری میری اردو زرا کمزور ہے۔ اس کے بات وہ لوگ دیکھائی دیتے ہیں جو بولتے تو اردو زبان ہی ہیں لیکن کسی بڑے ریسٹورینٹ میں جا کر انہیں اچانک انگریزی بولنے کا دورہ پڑتا ہے اور وہاں یہ اردو بول کر خود کو شرمندہ کرنا نہیں چاہتے۔۔۔۔ پھر اس کے بعد ایک طبقہ ایسا آتا ہے جہاں مما اور پاپا بچوں کو سکھا کر خود کو یہ تسلی دی جاتی ہے کہ ہم بھی انگریزی زبان بولنے والوں کی دوڑ میں لنگڑا لنگڑا کر چل رہے ہیں اور اس طبقے کی اردو سنی جائے تو لگتا ہے ک شائد یہ کؤی نی زبان ہوگی، اور پاکستان کی تعلیمی اداروں نے تو وہ بے عزتی کی ہے اردو زبان کی ۔۔۔۔ کہ اللہ اکبر۔۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان بچوں کو انٹیلیجینٹ سمجھا جاتا ہے جو انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہوں ۔اردو زبان کے پیچھے تعلیمی اداروں کے بھاگنے کا حال کچھ ایسا ہے جیسے بھری ہوئی بس میں لٹکا ہوا انسان نہ پورا بس کے اندر اور نہ پورا بس سے باہر۔۔۔ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ اس قوم کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ انگریزی زبان ہی سب سے بڑی خوبی ہے ۔۔۔ غرض یہ کے پاکستان میں رہنے والے ہر انسان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ ضرور ہوتا ہے کہ انگریزی زبان پڑھا لکھا ہونے اور ماڈرن ہونے کی نشانی ہے۔ اگر آپ کسی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں تو انگریزی زبان بول کر متاثر کر سکتے ہیں۔ ہماری قوم کو یہ لگتا ہے کہ انگریزی کوئی زبان نہیں بلکہ انگریزی لیونگ اسٹائل ہے ۔ہم میں اور ترقی یافتہ قوموں میں یہی فرق ہے کہ انہوں نے انگریزی کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی ضروری تھی۔۔۔انہوں نے نہ انگریز کو سر چڑھایا اور نہ انگریزی زبان کو۔ ترقی یافتہ قومیں جس زبان میں خواب دیکھتی ہیں اسی زبان میں ترقی بھی کرتی ہیں اور ذہنی و جسمانی دونوں طرح سے آزاد قوم کا یہی رویہ ہوتا ہے۔مگر صد افسوس ہماری سوچ آج بھی غلاموں والی ہے ہماری لنڈا سے محبت دیکھ کر انگریزوں نے لنڈا کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اپنی لنڈا کی زبان بھی یہاں بھیج دی اور ہم نے پوری پوری قبول بھی کر لی ۔

آرٹیکل لکھتے ہوئے مجھے یہ تجربہ ہوا کہ سلیس اردو والے آرٹیکلز عام عوام کی سمجھ سے باہر ہیں لہزا اپنی بات سمجھانے کے لیے مجھے دوہری زبان یعنی اردو کے ساتھ انگریزی کے الفاظ بھی استعمال کرنا پڑے۔اگر پاکستان میں انگریزی زبان کی ترقی کا یہی حال رہا تو شاید یہ دنیا وہ دن دیکھ لے کے جب اردو اس وطن میں صرف غریب اور ان پڑھ لوگوں کی زبان بن کر رہ جائے۔ اپنی زبان کے ساتھ ایسا سلوک وہ قوم کرتی ہے جو خود غرض اور کم ظرف ہو۔۔۔۔۔ ہماری زبان ہمارا اثاثہ ہے اسے برباد نہ کریں۔ ضرورت اور استعمال کی غرض سے انگریزی ضرور سیکھیں اور بچوں کو سکھائیں مگر انگریزی کو اوڑھنا بچھونا نہ بنائیں۔ بالخصوص اپنے گھر اور رشتہ داروں کے درمیان خالصتاً اردو زبان استعمال کریں یقین جانے اس سے آپ کی شان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آئے گا۔انگریزی زبان کو بحیثیت خوبی اور اسٹینڈرڈ آف لائف سمجھنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ دوسروں کی زبان پر فخر کرنا احساس کمتری میں مبتلا قوموں کا شیوہ ہے۔

اردو گلوبلی

اردو گلوبلی پاکستانی اردو نیوز ویب سائٹ ہے جہاں آپ کو ہر خبر تک بروقت رسائی ملے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button