بلاگز

بیٹی کی نفسیاتی صحت، ماں کے رویے پر منحصر ہے

ایک طویل عرصہ کے مشاہدے اور تجربے کے بعد آج اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ میاں بیوی، ماں بیٹے، والدین اور اولاد کے درمیان رشتوں کے حوالے سے بننے والے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں تو کافی کچھ پڑھا اور مشاہدے میں آیا مگر دور حاضر میں ماں اور بیٹی کے رشتے کے درمیان ہونے والے مسائل اور ان کے حل اور رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے  جو مشاہدات اور تجربات حاصل کیے ہیں ان میں سب سے پہلی بات یہ تھی کہ اس ٹاپک پر اتنا کچھ نہیں لکھا گیا جتنا لکھنے کا حق تھا۔ زیادہ تر یہی سننے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ کہ بیٹے ماں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور بیٹیاں باپ سے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن بحیثیت ایک عورت بیٹی کا ماں سے زیادہ قریب ہونا اور ماں کا بیٹی کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، ماں بیک وقت اپنی بیٹی کے لیے ایک بہترین استاد اور ایک با اعتماد سہیلی ہوتی ہے۔ بیٹی کی زندگی کے تقریبا 90 فیصد معاملات کا تعلق ماں اور بیٹی کے درمیان رشتے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے ۔
اللہ تعالی نے ماں کے دل میں جو ممتا اور جذباتی محبت ڈالی ہے وہ تمام بچوں کے لئے یکساں ہی ہوتی ہے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔پھر جذباتی محبت کے بعد اللہ تعالی نے ماں کہ زمہ میں کچھ فرائض لگائے ہیں ان میں سے کچھ بیٹا اور بیٹی دونوں کے لیے یکساں ہیں اور کچھ صرف بیٹی اور کچھ صرف بیٹے کے لئے مقرر کیے ہیں جیسے اگر ماں پردے کے حکم کو مد نظر رکھے ہوے ہے تو وہ بیٹی کو پردہ کرنی کے لیے راضی کرے گی اور بیٹے کو نظر جھکانے کی تربیت دی گی یہ مثال اس لیے دی ہے کہ بیٹا اور بیٹی کی تربیت میں کچھ خاص پہلو ہے جو علیحدہ علیحدہ نوعیت کے حامل ہیں۔لیکن بیٹا اور بیٹی سے جذباتی تعلق  اور بچوں کی جذباتی تربیت میں ماں کو چاہیے کہ دونوں کو یکساں توجہ اور محبت ملے۔ مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے کہ جب ماں بیٹی کو بیٹے کے برابر توجہ اور پیار نہیں دے پاتی۔ماں کا بنایا ہوا یہ خود ساختہ فرق اس بچی میں کئی خطرناک محرومیاں پیدا کر دیتا ہے۔ بیٹے کے آرام اور پرورش میں زیادہ نزاکت کا مظاہرہ کرنا جبکہ بیٹی سے یہ توقع کرنا کہ چونکہ میں بھی ایسے ہی بڑی ہوئی  ہوں تو تمہیں بھی ایسے ہی پلنا بڑھنا ہے ۔ اکثر مائیں اپنے شوہروں سے بیٹوں کے لئے وہ کچھ بھی مانگ رہی ہوتی ہیں جو ان کے شوہر اپنی نو عمری میں خود حاصل نہیں کر پاتے لیکن جب بیٹی کی بات آ جائے تو انہیں یہی کہا جاتا ہے کہ میری ماں نے بھی مجھے ایسے ہی سمجھ آیا تھا تو تمہیں بھی میری بات سمجھنی ہوگی اور یہی وہ پائنٹ ہوتا ہے جہاں  بیٹی کو نامحسوس طریقے سے باپ اور بھائی سے دوری محسوس ہوتی ہے اسے لگتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کی اجازت صرف بیٹوں کو دی جاتی ہے۔اس منفی سوچ کی ذمہ دار ماں ہی ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ اپنی آدھی زندگی گزار چکی ہوتی ہے لہذا اس پر اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا اس سوچ کا فرق اس کی بیٹی پر پڑتا ہے کیونکہ وہ بیٹی جوان ہوکر اور پھر شادی کے  بعد اپنی اسی سوچ کی نظر میں زندگی کے فیصلے کرتی ہے۔اکثر گھروں میں یہ بات بڑے فخر سے کہی جاتی ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے زیادہ قریب ہے اور میری بیٹی اپنے باپ سے زیادہ قریب ہے۔اس جملے کی نزاکت بیٹا اور بیٹی دونوں کے لیے یکساں ہے۔ زندگی میں کہیں نہ کہیں بیٹے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ باپ سے کچھ دور ہے اور بیٹی کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ماں سے اتنا قریب نہیں جتنا کہ اس کا بھائی۔ اس سوچ کا اتنا بڑا نقصان ہوتا ہے کہ  بیٹا باپ سے ایک قدم فاصلے پر رہنے کی وجہ سے باپ سے بہت کچھ سیکھنے سے رہ جاتا ہے اور پھر بیٹی کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ میں نے اکثر بیٹیوں کو صرف اس لئے ڈپریشن میں دیکھا ہے کہ  ان کا تعلق ان کی ماں ساتھ ویسا نہیں جیسا ان کے بھائی کا ہے۔ایک اور عجیب و غریب مشاہدہ دیکھنے میں آیا کہ اکثر مائیں نوعمر بیٹیوں سے انسیکورٹی فیل کرتی ہیں، جی ہاں میں اس بات کی نزاکت کا اندازہ کر سکتی ہوں اور میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ رہی ہوں کہ کچھ واقعات میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ کچھ مائیں جب یہ دیکھتی ہیں کہ بیٹی جوان ہو کر باپ کی محبت کی زیادہ حقدار ہو رہی ہے یا باپ بیٹی کی بات زیادہ مانتا ہے تو ماں کو کہیں نہ کہیں اپنی سلطنت چھننے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اب یہاں اکثر مائیں الگ الگ رویہ اختیار کرتی ہیں یا وہ جلد سے جلد بیٹی کی شادی کروا دینا چاہتی ہیں یا پھر وہ بیٹی کی کمی اور اس کی غلطیاں بار بار اس کے باپ کے سامنے دوہراتی ہیں تاکہ بیٹی کا بنا ہوا امیج تھوڑا بہت خراب ہو سکے۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ انتہائی کڑوا سچ ہے اور خواتین اس سچ کو چیلنج ضرور کریں گی کیوں کہ بحیثیت ماں عورت  کبھی  بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیتی کہ اس کی محبت میں بچوں کے لئے کوئی فرق یا  کمی ہے لیکن اگر آپ کسی ماہر نفسیات کے پاس جائیں تو آپ کو ایسے بہت سے کیسز ملیں گے جہاں لڑکی کی شدید نفسیاتی محرومی اور بیماری کی وجہ اس کی ماں کا دوہرا رویہ تھا اور پھر جب یہ توجہ سے محروم بچیاں خود ماں بنتی ہیں تو یا تو خود کو بہترین ماں ثابت کرنے کے لیے اپنی بیٹیوں کو لاڈ پیار میں بگاڑ دیتی ہیں یا پھر اپنی ماں سے زیادہ سخت رویہ اختیار کر لیتی ہیں اور یہاں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے والا محاورہ صحیح ثابت ہوتا ہے۔
اب یقینا آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے گا کہ مذکورہ بالا مسائل کا حل کیا ہے۔ مسائل کا حل تو موجود ہے لیکن اس کا ایک پہلو انتہائی سمجھنے والا ہے جو کہ بہت باریک اور نازک بھی ہے۔ بچوں میں مساوات قائم کرنے کے لئے چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی ماں کو صرف اور صرف ماں بن کر ہی کردار ادا کرنا چاہیے جب ماں ، ماں کے دائرے سے نکل کر ایک عورت بن کر سوچتی ہے تو پھر اسے بہت سی چیزوں سے ان سیکورٹی محسوس ہوتی ہے۔ اگر آپ بچوں کی تربیت اور پرورش کے معاملے میں صرف ماں بن کر سوچیں گی تو بیٹا اور بیٹی کو یکساں پیار اور محبت کا حقدار سمجھنگی لیکن جب عورت بن کر  سوچے نگی تو پھر کہیں نہ کہیں آپ بیٹے کو زیادہ اہمیت دینگی۔ ماں بیک وقت ماں بننے کے ساتھ ساتھ کئی کردار نبھاتی ہے جیسے مینجر، استاد، مینٹور، دوست، لیڈر اور نفسیات دان ۔ نفسیات کی جو پہلو ماہر نفسیات کئی سال کی پڑھائی کے بعد سکھتے ہیں وہ پہلو اللہ تعالی ماں کے وجدان میں ویسے ہی ڈال چکا ہوتا ہے۔ اب بیٹا اور بیٹی کے لیے مساوات قائم کرکے ان نفسیاتی پہلو کو سمجھنا یہ ماں پر ہی منحصر ہے۔رب کائنات نے ایک پورا مکمل پیکیج ماں کی صورت میں زمین پر اتارا ہے لیکن اس پیکج کو استعمال کیسے کرنا ہے یہ بطور ماں عورت کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے لہذا بیٹے اور بیٹی کی تربیت کے انداز اور پرورش کو یکساں رکھیں۔قدیم زمانوں کے بادشاہوں اور حکمرانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ وہ اپنے شہزادوں کے ساتھ ساتھ شہزادیوں کو بھی تعلیم و تربیت اور فنِ حرب کی یکساں تعلیم دیا کرتے تھے اور اسلام کا یہ اصول کے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اسلام نے تربیت اور پرورش کے حوالے سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں رکھا  جو اسلام علم کے میدان میں مرد اور عورت کو برابر فرض کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے وہ اسلام تربیت اور پرورش کے حوالے سے بیٹا اور بیٹی کے درمیان فرق کو پروان نہیں چڑھا سکتا ۔ بحیثیت ماں اپنی بیٹیوں کو سمجھیں اور انہیں اپنے قریب ہونے دیں ورنہ آپ آنے والی نسل کو ایک محروم و نامکمل سوچ رکھنے والی ماں دے کر جائیں گی۔بطور ماں ایک عورت نسلوں کی امین ہوتی ہے اور یہ امانت اس نے اپنی بیٹی کے سپرد کرنی ہوتی ہے۔ اپنی بیٹی کے لیے بحیثیت ماں خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کریں۔ آپ کی بیٹی کے یہ الفاظ آپ کی ممتا کے لیے بہت بڑا فیلیر ثابت ہو سکتے ہیں کہ میں اپنے بیٹی کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرونگی جو میری ماں نے میرے ساتھ کیا۔ تربیت کرنے کے پہلوؤں میں فرق ہو سکتا ہے جیسے میں شروع میں  بیٹی کے لیے پردے اور بیٹے کے لیے نظر جھکانے کی مثال دے چکی ہوں،لیکن تربیت اور پرورش کرنے کا انداز کسی بھی قسم کے فرق سے پاک اور یکساں ہی ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button