بلاگز

نسل نو کے تربیت اور دجالی دنیا

بنی نوع انسان جس طرح ترقی کی منازل طے کرتا گیا دنیا کے رنگ بدلتے گئے۔ کسی زمانے میں ٹیکنالوجی کا تصور تک نہ تھا اور اس زمانے میں ان چیزوں کا تصور بھی نہیں ہے جو آنے والے وقتوں میں ہونے والی ہیں لیکن کامیاب قوموں  نے اپنی عقل اور فہم کو استعمال کرکے ہمیشہ خود کو آنے والے وقت کے لئے تیار کیا ہے۔دنیا کی تاریخ میں انہی قوموں کی کامیابی کے قصے رقم ہیں جو اپنے آج کو مد نظر رکھتے ہوئے کل کی پلاننگ کرتی رہیں جن قوموں نے یہ عادت ترک کر دی ان کے قصے تاریخ میں ایک ماضی بن کر رہ گئے۔  یہ وہ قومیں ہیں جو دل کو بہلانے کے لیے اپنی کامیابی کے پرانے قصے یاد تو کر لیتی ہیں مگر ان سے سبق حاصل کرنا اور نئی کامیابی کے لیے تحقیق کرنا چھوڑ چکی ہیں اور پھر ایسی کئی قومیں محض دنیا کی تاریخ میں ہی رہ گئیں۔ موجودہ دور میں اگر ہم پاکستانی قوم کی بات کریں تو ہماری قوم بھی تاریخ اور دور حاضر کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی پلاننگ کرنے کی بجائے خواب غفلت کی گہری نیند میں غرق ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ہم بطور قوم ایک حجیان کا شکار ہیں۔ہمیں دوسری قوموں کی ترقی تو بہت اچھی لگتی ہے لیکن جب خود عمل کی بات آئے تو ہمارا عمل زیرو ہو جاتا ہے اور ہم تاریخ کے حوالے دے کر سب کی زبان بند کروانا چاہتے ہیں ۔ چاپانی اور یہودی قوم کو دیکھا جائے تو یہ اقوام اپنی نئی نسل پر اس قدر محنت کرتے ہوے نظر آتی ہیں کہ جیسے انہیں اس بات کا یقین ہو چلا ہو کہ آنے والے وقت میں بس ان کی نسلیں ہی زندہ رہینگی۔ان اقوام کے برعکس اگر ہم بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہونے کی ناطے اپنی حالت زار پر غور کریں تو ہمیں مستقبل میں سوائے اندھیرے کے کچھ نظر نہیں آتا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل پر ایسی توجہ نہیں دی جو ان  دیگر قوموں نے دی ہے۔ جسمانی ، روحانی ، تعلیمی اور اخلاقی طور پر ہماری نئی نسل کسی گہری کھائی میں گرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ ہمارے والدین اس گمان میں ہیں کہ شاید آنے والے وقت میں ہمارے بچے خود اچھے فیصلے کرنا سیکھ لیں گے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کے دور کے بچے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کو لگنے لگا ہے کہ بچے ان کے دور سے زیادہ سمجھدار ہیں لہٰذا اب انہیں کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں اور  پھر اس طرح کے خیالات رکھ کر بچوں کو بے دریغ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے دینا ، دینی اور اخلاقی تربیت کیے بغیر ان پر اندھا اعتماد کرنا ، بچوں کی جائز و نا جائز باتوں کو مان لینا صرف یہ کہہ کر کے ہم تو کماتے ہی بچوں کے لیے ہیں  ، قاری صاحب سے سپارہ پڑھوا کر ،  سال میں تیس روزے رکھنے اور یا دس روزہ تراویح پڑھنے کو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے دین دار ہیں۔ ان روزوں کے حقوق بچے کس طرح پورے کر رہے ہیں والدین کو یہ تک نہیں معلوم لیکن وہ فخر سے سینہ چوڑا کر کے سب کو بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہمارے بچے نے رمضان کے تیس روزے رکھے ، میں نے اکثر ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں جو چھوٹی بچیوں اور بچوں کو باقاعدہ یوٹیوب چینل بنا کر دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہمارا بچہ بہت ٹیلنٹڈ ہے اور میں چاہتی ہوں کے  اس کے ٹیلنٹ کو دنیا دیکھے ، بچے اپنے دوستوں سے اور  گھر سے کس قسم کے اخلاق سیکھ رہے ہیں اس کا بھی کوئی حساب و کتاب نہیں۔  نوعمر بچیاں چست  کپڑے پہن کر سر پر ایک چھوٹا سا اسکارف لے کر اور نوعمر بچے پینٹ کے پائنچے فولڈ کر کے جب والدین کے سامنے آتے ہیں تو والدین ان کے واری صدقے ہونے لگتے ہیں کیونکہ آج کے دور میں نیو فارم آف اسلام یہ ہی ہے کہ ہر وقت دین کی باتیں کر کے خود کو انتہا پسند ثابت نہ کرو بلکہ جب جیسے اور جہاں اپنی مرضی ہو دین کا استعمال کرو اور خود کو پڑھا لکھا مسلمان ثابت کرنے کے لئے دین کے بڑے اور اولین فرائض سے بھی رو کردانی کرنی پڑے تو کر گزرو۔دور حاضر کی والدین کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ بچہ ٹرین کی طرح فراٹے بھرتے ہوئے انگلش بولنا سیکھ لے ، کسی نامی گرامی انگلش اسکول میں بچے کا داخل ہو جائے اس سے زیادہ پر والدین سوچنے پر راضی ہی نہیں ، انتہائی افسوس اور ذمہ داری سے ایک بات اور کہتی چلو کہ آج کے والدین نے بچوں کی خواہشات  کو اپنا قبلہ بنا لیا ہے ۔۔۔۔ کسی بھی قسم کی تربیت سے عاری بچے کوئی بھی خواہش کریں تو والدین انہیں پورا کرنے کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔ دور حاضر کی والدین خود کو پچھلے دور کے والدین سے الگ ثابت کرنے اور ماڈرن والدین بننے کی دوڑ میں اتنی بری طرح بھاگتے چلے جارہے ہیں کہ انہیں اپنی ناک کی سیدھ میں، سامنے سے آتے ہوئے دجالی فتنے نظر نہیں آ رہے۔ بجلی کی سی تیزی سے آنے والے یہ دجالی فتنے جب پوری قوت سے نئی نسل اور ان کے والدین سے ٹکراتے ہیں تو ۔۔۔ پھر کہیں کوئی بچہ پبجی کے بے دریغ استعمال سے خودکشی کرتا نظر آتا ہے ، کوئی نوعمر لڑکی والدین کو بتائے بغیر بند کمرے میں ٹک ٹاک پر ٹھمکے لگاتے میں مصروف ہوتی ہے اور جب اس کی وہ ٹک ٹاک ان کے والد صاحب تک کسی اور ذریعے سے پہنچتی ہے تو وہ خود کو شوٹ کرتے نظر آتے ہیں ، کہیں کوئی جوان سال لڑکی یہ کہہ کر اپنے باپ  کو گولی مار دیتی ہے کہ وہ مجھے میرے بوائے فرینڈ سے ملنے اور بات کرنے سے روکتا تھا ، معصوم بچے موبائل کے ذریعے ایسی عجیب و غریب ذہنی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں کہ جن کا علاج بھی محال ہو جاتا ہے۔ دجالی فتنوں کے باعث نئی نسل کی تباہ کاریوں کی مزید ڈیٹیل میں جانا نہیں چاہوں گی کیونکہ یہ تمام معلومات ہر خاص وعام تک روزانہ کی بنیادوں پر میڈیا کے ذریعے پہنچتی رہتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ آخر ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کیسے کیا جائے۔سب سے پہلے تو والدین کو یہ ماننا ہوگا کہ وہ دجالی دنیا میں داخل ہوچکے ہیں دجال کوئی پرانی کہانیوں کا ولن نہیں ہے بلکہ دور حاضر اور مستقبل میں آنے والا سب سے بڑا چیلنج ہے اور دین نے دجال کے بارے میں واضح موقف بھی بیان کر دیا ہے۔ اگر دینی باتیں آپ کو بے بنیاد معلوم ہوتی ہے تو جن آقاؤں کی بنی ہوئی مصنوعات آپ استعمال کرتے ہیں۔ ذرا ان سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں۔ جن کے لئے دجال ایک مسیحا ہے اور وہ اس کی آمد کی تیاریوں میں زوروشور سے مصروف ہیں اور اپنی نئی نسل کو بھی اپنے ساتھ ان معاملات میں مشغول رکھتے ہیں۔ اچھی بات اگر دشمن سے بھی ملے تو حاصل کر لینی چاہیے اور یہودی قوم کی سب سے بڑی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ وہ آنے والے مستقبل اور نئی نسل پر بھرپور توجہ دیتے ہیں اور توجہ صرف ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لئے نہیں ہوتی  بلکہ ان کے دینی عقائد اور معاملات کو بھی سمجھنے کے لیے ہوتی ہے۔ لہذا سب سے پہلے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ایمان و عقائد جو دین کی رو سے ثابت ہیں ان پر خاص الخاص توجہ رکھیں۔بچوں کی تربیت کے معاملے میں دین کو ہرگز اگنور نہ کریں۔ انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ بچوں کو عربی زبان بھی سکھائیں تاکہ قرآن مجید پڑھنے میں ان کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ روزانہ کی بنیادوں پر بچوں کو احادیث،  سنت ، اسلامی قوانین اور قصے سنائیں۔ نماز نہ پڑھنے جھوٹ بولنے اپنے بہن بھائیوں کی چغلی کرنے کو ایسے ہی سنجیدہ لیں جیسے بچوں کے کم نمبر آنے پر لیتے ہیں۔ ایک خاص عمر تک موبائل فون سے بچوں کو دور رکھیں اور اگر ضرورت کی بناء پر بچوں کو موبائل فون دینا پڑے تو ان پر سخت نظر رکھیں ۔بیٹا ہو یا بیٹی بغیر دینی اور اخلاقی تربیت کیے اندھا اعتماد نہ کریں ورنہ نتیجہ وہ ہی نکلے گا جیسے کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی ابارشن کے بعد لڑکے کی باہوں میں جھولتی ہوئی اسپتال  پہنچنے سے پہلے مرگئ اور پھر لڑکی کے والدین منہ چھپانے اور لڑکے کے والدین اسے جیل جانے سے بچانے میں لگ گئے ۔ تہذیب اسلامی اور پاکستانی کلچر سے ان کو مکمل آگاہی فراہم کریں۔ بچوں کی ذہنی اور جسمانی تربیت کے لیے انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائیں کسی بھی تربیت یافتہ اور کامیاب قوم کے اشخاص کو دیکھ لیں ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر موجود ہوتا ہے۔ والدین کے ںےجا لاڈ پیار نے بچوں کو آج کل بہت نازک اندام بنا دیا ہے۔ اپنے بچوں کو اس قدر آرام طلبی کی عادت نہ ڈالیں کہ وہ چلتی پھرتی لاشیں معلوم ہوں آنے والا دور مشکلات سے بھرا ہوا، ٹیکنالوجیکل جنگوں کا ہوگا اپنے بچوں کو سخت جان بنائیں اور قوت برداشت سکھائیں۔ دنیا خاتمہ کی طرف رواں دواں ہے اور ان تمام حالات کی خبر ہمیں سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی دے چکے ہیں اور سرکار علیہ السلام کی کہی گئی باتیں وہ ہیں جن کے آگے سائنس نے بھی سر جھکا دیا ہے۔ایک کرونا کی تباہکاریوں نے ہی انسان کو گھما کررکھ دیا ہے ہے ، آگے آنے والے فتنے مزید سخت اور خطرناک ہوں گے۔ اور بچے گا صرف وہ ہی جو عقل اور دانشمندی سے ایمان کو ڈھال بناے گا۔ اپنے بچوں کو ایمان کی پختگی اور اور دینی معاملات میں ایسے کامل کر دیں کہ آپ کے بچے آنے والے وقت میں ایک جنگجو (واریر) کی حیثیت سے ان تمام تر فتنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔وما علینا الا البلاغ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button