Uncategorized

ٹیلی میڈیسن: پاکستان میں شادی شدہ خواتین ڈاکٹروں کا گھر بیٹھے روزگار کمانے کا ذریعہ

ٹیلی میڈیسن پاکستان میں بے روزگار خواتین ڈاکٹروں کو واپس کام پر لانے کا سبب بن رہی ہے۔

ایک حاملہ ڈاکٹر جو کووڈ کے مریضوں کا علاج کر رہی تھیں وہ بچے کی پیدائش کے صرف 24 گھنٹوں بعد کام پر واپس آ چکی تھی کیونکہ وہ اس گھڑی مریضوں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

ڈاکٹر سارہ سعید خرم بتاتی ہیں کہ آن لائن پلیٹ فارم نے ایسا ممکن بنا دیا۔

ڈاکٹر سارہ سعید ’صحت کہانی‘ ڈیجیٹل ہیلتھ سروس کی شریک بانی ہیں، جو مریضوں کو ویڈیو کے ذریعے خواتین ڈاکٹروں سے ملا رہا ہے۔

ڈاکٹر سارہ بتاتی ہیں کہ پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں طالبات کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے لیکن پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں میں خواتین کی شرح صرف 23 فیصد ہے۔

اس فرق کی وجہ ڈاکٹروں کے سخت اوقات کار اور وہ سماجی رویے ہیں۔ کئی عورتیں شادی کے بعد کئی وجوہات کی وجہ سے اپنے کیریئر کو خیرباد کہہ دیتی ہیں لیکن ٹیلی میڈیسن اب اس فرق کو کم کر رہی ہے اور ڈاکٹروں کو گھر سے کام کرنے کی سہولت مہیا کر رہی

وبا کے دوران دور سے صحت کی سہولیات کی مانگ بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کئی کمپنیوں نے ایسی خواتین ڈاکٹروں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا جو کسی وجہ سےکام چھوڑ کر گھر میں بیٹھ چکی تھیں۔

ڈاکٹر سارہ بتاتی ہیں کہ گذشتہ ایک سال میں ہمارے پول میں خواتین ڈاکٹروں کی تعداد 1500 سے بڑھ کر 5000 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

اہم انتخاب
ڈاکٹر انعم احمد کا شمار ایسی ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جو ٹیلی میڈیسن کے باعث واپس اپنے پیشے میں آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر انعم 2016 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں کام کر رہی تھیں۔ لیکن مارچ 2020 میں کراچی کی اس ڈاکٹر کی زندگی میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔

ڈاکٹر انعم نےمزید کو بتایا کہ میں تو گھر میں بچے کی دیکھ بھال کے علاوہ کچھ خاص نہیں کر رہی تھی۔

ڈاکٹر انعم جانتی ہیں کہ ان کی کئی دوستوں نے شوہروں کے دباؤ میں ہسپتال کی نوکری کو چھوڑ دیا تھا۔ کچھ کو تو گھر سے بھی کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ڈاکٹر انعم کو اپنے شوہر سے کسی ایسے دباؤ کا سامنا نہیں تھا لیکن وہ خود اپنے پیشے اور گھر کی ذمہ داریوں میں توازن نہیں رکھ پا رہی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا اور کئی بار تو ان کی شفٹ 36 سے 48 گھنٹے تک بھی چلتی تھی۔

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں ’مجھے اپنی دو قیمتی چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ظاہر ہے میری بیٹی میرے کیریئر سے زیادہ اہم ہے۔‘

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں کہ ’ہم ڈاکٹر ماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کم از کم چھ ماہ تک بچے کو اپنا دودھ پلائیں جبکہ ہمیں میٹرنٹی چھٹی صرف تین ماہ کی ملتی ہے۔‘

ڈاکٹر انعم نے تین سال کا کیریئر بریک لینے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن جب کووڈ کی وبا پھیلی تو انھیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے پیشے سے دور نہیں رہ سکتیں۔

انھوں نے ٹیلی میڈیسن کے بارے میں اپنی بہن سے سنا جو خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر انعم نے چھ ماہ کی میٹرنٹی چھٹی کے بعد گھر سے مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔

ٹیلی میڈیسن نہ صرف ان کے لیے نئی تھی بلکہ ان کے مریضوں کے لیے بھی نئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے مریضوں کو چھو نہیں سکتی، میں ان کی نبض چیک نہیں کر سکتی۔‘

’کچھ مریض کیمرے سے شرماتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں سے ویڈیو پر بات کر سکتے ہیں ڈاکٹر کو کہیں گے کہ میں اپنے چہرے نہیں دکھاؤں گی۔‘

وہ کووڈ کے ایسے مریضوں کے علاج پر توجہ دے رہی ہیں جنھیں ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہے۔

ڈاکٹر انعم بتاتی ہیں کہ شروع میں اگر کسی میں کووڈ کی نرم علامات بھی تھیں تب بھی انھیں ہسپتال میں داخل کیا جا رہا تھا جب کہ ایسے مریض جن کی علامات شدید تھیں وہ بغیر علاج کے ہی فوت ہو رہے تھے۔

’جب ہم نے کووڈ کی نرم علامات والے مریضوں کا علاج شروع کیا تو ہسپتالوں پر بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا۔‘

انھوں نے حال ہی ایک ایسے مریض کو دیکھا جس کے جسم میں آکسیجن کا لیول کم ہو رہا تھا۔ انھوں نے خاندان کو کہا کہ اسے فوراً ہسپتال منتقل کریں لیکن خاندان نے ان کے مشورے پر عمل نہیں کیا اور مریض رات کو فوت ہو گیا۔

ڈاکٹر انعم بتاتی ہیں کہ ’پھر اسی خاندان میں ماں کو بھی کووڈ ہو گیا، ان کے بیٹے نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ڈاکٹر آپ جیسا کہیں گیں میں ایسا ہی کروں گا۔‘

ان کی دوائیوں کی وجہ سے مریض کی حالت سنبھل گئی اور وہ بالآخر صحت یاب ہو گئیں۔

ابھی تک آن لائن مریضوں کی اکثریت خواتین مریضوں کی ہے جو اپنے علاج کے علاوہ اپنے زندگی کے دوسرے معاملات کو زیربحث لاتی ہیں۔ .

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں کہ ٹیلی میڈیسن نہ صرف مجھے اپنے کیریئر میں واپس لے آئی بلکہ مجھے بچے کی ولادت کے بعد ڈیپریشن سے بھی بچایا۔

’اب میں خود کو بہت کارآمد سمجھتی ہوں اور میرے بہت سے مریض ہیں۔‘

ڈاکٹر انعم اپنی آمدن میں سے آن لائن پیلٹ فارم کو ان کا حصہ دینے کے بعد ہر ماہ تقریباً 200 ڈالر کما لیتی ہیں۔

یہ کمائی میٹرنٹی چھٹی پر جانے سے پہلے ان کی تنخواہ کا صرف 30 فیصد ہے۔ وہ اس آمدن سے اسلام آباد میں ایک سٹوڈیو فلیٹ کا کرایے پر لینے کے قابل ہیں جہاں وہ رہتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button