Uncategorized

آرٹیفیشل انٹیلیجنس: کیا آپ روبوٹ وکیل سے اپنا کیس لڑوانا چاہیں گے؟

کیا مستقبل میں وکیل کوئی روبوٹ ہو گا؟ یہ شاید آپ کو بہت دور کی کوڑی لگے لیکن مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجینس) کے سافٹ ویئر سسٹمز، ایسے کمپیوٹرز جو اپنی صلاحیت میں خود سے اضافہ کر سکتے ہیں اور خود سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا اب قانون کے ماہرین میں استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جوشوا براؤڈر اپنی نئی ایپ ‘ڈو ناٹ پے’ کو دنیا کا سب سے پہلا روبوٹ وکیل کہتے ہیں۔ اسے استعمال کرنے والے اپنی دستاویز تیار کرتے ہیں۔ آپ اس کے ‘چیٹ بکس’ کو اپنا مسئلہ بتاتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہتے ہیں غلط پارکنگ کرنے کے جرمانے کے خلاف اپیل کرنا ہے، یہ پھر آپ کو مختلف تجاویز دے گا کہ اس کی رائے میں اس مرحلے پر کس قسم کی قانونی زبان زیادہ بہتر ہو گی۔

جوشوا کہتے ہیں کہ اس کو استعمال کرنے والے اس ایپ میں اپنے دلائل اپنے الفاظ میں لکھ سکتے ہیں اور اس کا سافٹ ویئر ایک مشین لرنننگ ماڈل کی بدولت اس بات کا موازنہ کر کے بتاتا ہے کہ انھیں اپنی بات قانونی زبان میں کس طرح بیان کرنا ہو گی۔

چوبیس برس کے جوشوا اور ان کی کمپنی کا دفتر امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سیلیکون ویلی میں ہے، لیکن اس کمپنی کی بنیاد لندن میں سنہ 2015 میں پڑی تھی جب جوشوا براؤڈر صرف 18 برس کے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘شمالی لندن کے ہینڈن میں ایک نوعمر نوجوان کی حیثیت سے میں ایک بہت ہی خراب ڈرائیور تھا۔ مجھے غلط پارکنگ کے بہت مہنگے ٹکٹ (جرمانے) ہوئے، اس وقت میں ابھی سیکنڈری سکول میں تھا اس لیے میں یہ جرمانے ادا نہیں کر سکتا تھا۔‘

براؤڈر کا کہنا ہے کہ ’بہت ساری تحقیق اور معلومات کے ذریعے انھوں نے چلان اور جرمانوں کے خلاف اپیل کرنے کے بہترین طریقے تلاش کیے۔ اگر آپ صحیح طرح بات کرنے کا انداز سیکھ لیں گے تو، آپ بہت وقت اور پیسہ بچا سکتے ہیں۔‘

ہر بار ایک ہی دستاویز کو کاپی اور پیسٹ کرنے کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا لگا کہ اس کے لیے ایک اچھا سافٹ ویئر بنانے کی ضرورت ہے۔’ چنانچہ انھوں نے سنہ 2015 میں چند ہفتوں میں ’ڈو ناٹ پے‘ (DoNotPay) کا پہلا ورژن بنایا۔

وہ کہتے ہیں ’وہ واقعی صرف میرے خاندان کو متاثر کرنے کے لیے تھا۔‘

تب سے یہ ایپ برطانیہ اور امریکہ میں مقبول ہو چکی ہے اور اب یہ صارف کو کئی مسائل سے نمٹنے کے لیے قانونی خط لکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ انشورنس کے دعوے، سیاحتی ویزوں کے لیے درخواستیں دینا، کسی کاروباری یا مقامی اتھارٹی کو شکایت کے خطوط، چھٹی کے لیے اپنے پیسے واپس لینا، یا جِم کی رکنیت حاصل کرنا یا منسوخ کرنا، سب کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔

جوشوا براؤڈر کا کہنا ہے کہ ان میں سے آخری دو استعمال موجودہ وبا کے دوران بڑھ گئے۔

’ڈو ناٹ پے‘ نامی ایپ کے اب ڈیڑھ لاکھ کے قریب فیس ادا کرنے والے صارفین ہیں۔ جبکہ اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ بعض اوقات اس کا قانونی مشورہ کافی درست نہیں ہوتا ہے، تاہم پچھلے سال اس نے قانونی رسائی کو بڑھانے کے لیے امریکن بار ایسوسی ایشن کا ایوارڈ حاصل کیا۔

مسٹر براؤڈر کا دعویٰ ہے کہ کامیابی کی شرح 80 فیصد ہے جو کہ پارکنگ ٹکٹوں کے لیے 65 فیصد رہ گئی ہے کیونکہ کچھ لوگ واقعتاً مجرم ہوتے ہیں۔

آپ کو لگتا ہے کہ انسانی وکلا کو اس بات کا خوف ہو گا کہ مصنوعی ذہانت کے وکلا قانونی میدان میں ان کے مقابلے پر کھڑے ہوں گے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو، کچھ ماہرین خوش ہیں کیونکہ سافٹ ویئر کو تیزی سے بڑی تعداد میں کسی کیس کی بڑی بڑی دستاویزات پڑھنے اور پھر انھیں ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک وکیل سیلی ہوبسن ہے، جو لندن میں قائم قانونی فرم دی 36 گروپ میں بیرسٹر ہے اور فوجداری مقدمات پر کام کرتی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں قتل کے ایک پیچیدہ مقدمے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ اس کیس میں دس ہزار سے زائد دستاویزات کا فوری تجزیہ کرنے کی ضرورت تھی۔

سافٹ وئیر نے اس کام کو چار ہفتوں میں تیزی سے انجام دیا اور اگر یہی کام انسانوں سے کروایا جاتا تو پچاس ہزار پاؤنڈ خرچ ہوتے۔

‘لیومیننس’ نامی کمپنی کی سربراہ ایلینور ویور کا کہنا ہے کہ وکلا میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال’ معمول بن رہا ہے اور اب یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے اچھا نہ سمجھا جاتا ہو۔‘

دنیا کے 55 ممالک میں 300 سے زائد دیگر قانونی فرمیں بھی اسے استعمال کرتی ہیں جو 80 زبانوں میں کام کرتی ہیں

مس ویور کہتی ہیں کہ ‘تاریخی طور پر آپ کے پاس بہت سی (دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے) ٹیکنالوجیز تھیں جو مطلوبہ الفاظ کی تلاش سے زیادہ کوئی کام نہیں کرتی تھیں، جیسے آپ کے لیپ ٹاپ پر کنٹرول-ایف استعمال کرنا۔’

وہ کہتی ہیں کہ اس کے برعکس آج کا جدید ترین سافٹ ویئر متعلقہ الفاظ اور جملوں کو نئے سرے سے جوڑ بھی سکتا ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر صرف وکلا کو دستاویزی شواہد کے ذریعے حل کرنے میں ہی مدد نہیں کر رہے ہیں، یہ اب ان کے کیس کی تیاری اور استدلال کا سٹرکچر بنانے میں بھی مدد کر سکتے ہیں، اور کسی بھی متعلقہ قانونی نظیر کو تلاش بھی کر سکتے ہیں۔

لارنس لیبرمین، جو لندن کی قانونی فرم ٹیلر ویسنگ کے ڈیجیٹائزنگ ڈِسپیوٹس پروگرام کے سربراہ ہیں، وہ اس طرح کے سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں، جسے ایک ‘لٹی گیٹ’ نامی اسرائیلی کمپنی نے تیار کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘آپ اپنے کیس کا خلاصہ اور اپنی درخواستیں اپ لوڈ کرتے ہیں، اور یہ ان کی جانچ پڑتال کرے گا کہ اس کیس میں اہم کھلاڑی کون ہیں اور پھر مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر انھیں ایک دوسرے سے جوڑ دے گا، اور اہم واقعات کی تاریخوں پر کیا ہوتا ہے ان کی وضاحت کر کے انھیں از سرِ نو اکٹھا کر دے گا۔‘

دریں اثنا، ڈیلوئیٹ لیگل نامی قانونی فرم کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر، بروس بروڈ کا کہنا ہے کہ اس کا ٹیکس آئی سافٹ ویئر سسٹم اسی طرح کے ٹیکس اپیل کیسز کے لیے تاریخی عدالتی ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتا ہے۔

ڈیلوئیٹ لیگل، اکاؤنٹنسی کی ایک بہت بڑی کمپنی ’ڈیلوئیٹ‘ کا قانونی شعبہ ہے۔ فرم کا دعویٰ ہے کہ وہ درست اندازہ لگا سکتی ہے کہ اپیلوں کا 70 فیصد وقت کیسے طے کیا جائے گا۔

مسٹر براؤڈ نے مزید کہا کہ ’یہ آپ کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں ایک زیادہ جامع طریقہ فراہم کرتا ہے جسے آپ اس بات کا تعین کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ آیا آپ کو یہ مقدمہ لڑنا ہے یا نہیں۔‘

پھر بھی جبکہ مصنوعی ذہانت قانونی خطوط لکھنے میں مدد دے سکتی ہے، یا انسانی وکلاء کی مدد کر سکتی ہے، کیا ہم کبھی روبوٹ وکیل اور بیرسٹر، یا روبوٹ ججوں کا بھی وقت دیکھیں گے؟

مِس ویور کہتی ہیں کہ ‘میرے خیال میں، حقیقت میں، ہم اس کے قریب کہیں نہیں ہیں۔‘ لیکن دوسرے کچھ ماہرین، جیسے پروفیسر رچرڈ سوسکنڈ، جو مصنوعی ذہانت کے بارے میں انگلینڈ کے لارڈ چیف جسٹس کے مشاورتی گروپ کی صدارت کرتے ہیں، اتنے یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں (کہ ہم اس کے قریب نہیں ہیں)۔‘

پروفیسر سسکنڈ کا کہنا ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی میں وہ ایک ‘کمپیوٹر جج’ کے خیال سے حقیقی طور پر خوفزدہ تھے، لیکن اب نہیں ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس سے پہلے بھی ‘برازیل میں دس کروڑ سے زیادہ عدالتی مقدمات زیر التوا تھے، اور انسانی ججوں اور وکلاء کے لیے اتنے ڈھیر سارے مقدمات سے نمٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔’

لہذا اگر کوئی مصنوعی نظام جو بہت درست طریقے سے (95 فیصد درست امکانات کے ساتھ) عدالتی فیصلوں کے نتائج کی پیش گوئی کر سکتا ہے تو ان کے خیال میں شاید ہم ان پیش گوئیوں کو لازمی رہنما اصول سمجھنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مقدمات کے اتنے سارے ڈھیر پڑے ہیں جنھیں انسانی محنت اور کوششیں طے کرنے کا وقت ہی نہیں رکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button