Uncategorized

افغانستان میں طالبان: روس طالبان کے لیے اتنا ’نرم گوشہ‘ کیوں رکھتا ہے؟

گذشتہ ہفتے جب امریکہ اور یورپی ممالک اپنے شہریوں اور افغان اتحادیوں کو کابل سے نکالنے کی کوشش میں مصروف تھے تو اُس وقت روس اُن چند ممالک میں سے ایک تھا جو طالبان کے افغانستان پر قبضے کے حوالے سے بالکل بھی فکر مند نہیں تھا۔

روسی سفارت کاروں نے کابل میں طالبان کو ’عام لوگ‘ قرار دیا اور کہا کہ افغان دارالحکومت اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو کہا کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ ایک حقیقت ہے اور روس کو اس کے ساتھ ہی چلنا ہے۔

یہ صورتحال سنہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں تباہ کن نو سالہ جنگ سے بہت مختلف ہے، جب روس کابل کی کمیونسٹ حکومت کو قائم رکھنے اور سہارا دینے کی کوششوں میں مصروف تھا۔

طالبان کے لیے روس کی گرمجوشی!

روس نے بتایا ہے کہ کابل میں اُن کا سفارت خانہ کھلا ہے۔ یہ صورتحال بہت سے دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ طالبان کے بارے میں روس کی سوچ بھی مختلف معلوم ہوتی ہے۔ روس نے اپنے بیانات کے ذریعے طالبان کے لیے گرمجوشی دکھائی ہے۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی روسی سفیر دمتری زیرنوف نے طالبان کے ایک نمائندے سے ملاقات کی جس کے بعد انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں جوابی کارروائی یا تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ وہ افغانستان میں مفاہمت کی ’نئی امید‘ دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی واپس آ رہی ہے اور یہ کہ ’برسوں کی خونریزی کا خاتمہ‘ ہو گیا ہے۔

افغانستان کے لیے صدر پوتن کے خصوصی ایلچی ضمیر قابلوف نے یہاں تک کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا خود ساختہ جلاوطن صدر اشرف غنی کی ’کٹھ پتلی حکومت‘ کے مقابلے میں آسان ہے۔

اس سے قبل روسی سفارت کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اشرف غنی نے طالبان کے کابل پر قبضے سے کچھ دیر قبل قبل چار گاڑیوں اور ایک ہیلی کاپٹر میں نقدی لے کر ملک چھوڑ دیا ہے۔ تاہم اشرف غنی نے ان الزامات کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

بہتر ہوتے تعلقات

ان سب کے باوجود روس طالبان کو افغانستان کا نیا حکمران تسلیم کرنے کے لیے بے قرار نظر نہیں آتا۔ لیکن روس کے رہنماؤں کے بیانات میں طالبان کے لیے ایک نرمی کا پہلو ضرور نظر آ رہا ہے۔ روسی نیوز ایجنسی ’تاس‘ نے رواں ہفتے اپنی رپورٹوں میں طالبان کے لیے ’دہشت گرد‘ کے بجائے ’بنیاد پرست‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

روس کچھ عرصے سے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ طالبان سنہ 2003 سے روس کی ’دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں‘ کی فہرست میں شامل ہے لیکن سنہ 2018 سے اس کے نمائندے مذاکرات کے لیے ماسکو پہنچے تھے۔

افغانستان کی سابق حکومت نے روسی صدارتی ایلچی پر طالبان کے حامی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ افغان حکومت کو روس اور طالبان کے درمیان تین سالہ طویل مذاکرات سے دور رکھا گیا۔

تاہم صدر پوتن کے خصوصی ایلچی ضمیر قابلوف نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ افغان حکومت ’احسان فراموش‘ ہے۔ سنہ 2015 تک وہ یہ کہہ رہے تھے کہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں سے لڑنے میں روس کے مفادات طالبان کے مفادات سے مماثلت رکھتے ہیں۔

امریکہ نے بھی ان باتوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ اگست 2017 میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے روس پر الزام لگایا تھا کہ وہ طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم روس نے ان کے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔

اس وقت روس کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہم نے اپنے امریکی اتحادیوں سے اس کے شواہد فراہم کرنے کے لیے کہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم طالبان کو کوئی مدد فراہم نہیں کرتے ہیں۔‘

ضمیر قابلوف نے رواں سال فروری میں طالبان کی تعریف کی تھی جس پر افغان حکومت ناراض ہو گئی تھی۔ روس کا موقف تھا کہ طالبان نے اپنی طرف سے دوحہ معاہدوں پر صحیح طریقے سے عمل کیا ہے جبکہ افغان حکومت نے اسے توڑنے کا کام کیا ہے۔

علاقائی سلامتی پر نظریں

طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود روس کسی بھی طرح کی جلدبازی نہیں دکھا رہا۔ وہ اب بھی رسمی طور پر پیش آ رہا ہے اور رونما ہونے والے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس نے ابھی تک طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نہیں نکالا ہے۔ صدر پوتن نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ طالبان امن بحال کرنے کے اپنے وعدے پورے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ دہشت گردوں کو پڑوسی ممالک میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button