Uncategorized

چینی معیشت 2028 میں کیوں امریکہ سے آگے نکل جائے گی؟

ایک برطانوی تھنک ٹینک کے مطابق چین 2028 میں امریکہ سے آگے نکل کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا اور ایسا اس ادارے کے پچھلے اندازوں سے کم از کم پانچ سال پہلے ہی ہو جائے گا۔

کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے ’ماہرانہ‘ طریقے سے نمٹنے کی وجہ سے آنے والے برسوں میں اس کی ترقی کی شرح امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں بڑھے گی۔

انڈیا 2030 میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا، اس وقت یہ درجہ جاپان کے پاس ہے۔

اگرچہ چین وائرس سے متاثر ہونے والا پہلا ملک تھا مگر ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس نے تیز اور انتہائی سخت کارروائی کر کے بیماری پر کنٹرول پایا، اور اس کی اس حکمتِ عملی کی وجہ سے اسے معیشت کو تباہ کرنے والے ایسے لاک ڈاؤن بار بار نہیں لگانے پڑے جیسے دوسرے ممالک میں لگائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 2020 میں چین ہی دنیا کی وہ واحد بڑی معیشت ہے جیسے معاشی بدحالی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ 2021 اور 2025 کے درمیان چین کی ترقی کی اوسط شرح 5.7 فیصد ہوگی۔

امریکہ کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2021 میں وبا کے بعد اس کی معیشت بڑی تیزی سے مضبوط ہو گی لیکن اس کی ترقی 2022 اور 2024 کے درمیان میں آہستہ آہستہ 1.9 فیصد سالانہ کے حساب سے کم ہوتی جائے گی۔

اگرچہ امریکہ میں ہونے والے معاشی نقصان کو مانیٹری پالیسی اور ایک بہت بڑے امدادی پیکج کے ذریعے کم کیا گیا ہے لیکن شہریوں کو دیے جانے والے ایک نئے پیکج میں امداد پر سیاسی اختلاف کی وجہ سے تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ امریکی اس بنیادی مدد سے محروم رہ سکتے ہیں جس کے وہ منتظر ہیں۔

سی ای بی آر کی پیش گوئی کے مطابق سنہ 2035 تک دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں جیسے انڈونیشیا، برازیل اور روس کے ابھرنے کے ساتھ ہی عالمی معیشت کے توازن میں تبدیلی مستحکم ہو جائے گی۔

دوسری طرف جرمنی مضبوط معیشت کے حوالے سے اپنا چوتھا درجہ کھو بیٹھے گا جو کہ اس دہائی کے آخر میں اس کے پاس تھا اور سنہ 2030 سے ​​یہ پانچویں بڑی عالمی معیشت بن جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ’کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے مابین اقتصادی جدوجہد اور سفارتی اثر و رسوخ دنیا کی معیشت پر چھایا رہا ہے۔‘

کووڈ۔19 کی عالمی وبا اور اس کے معاشی اثرات نے یقینی طور پر امریکہ کے مقابلے میں چین کو فائدہ پہنچایا ہے۔

اندازوں کے مطابق 2023 تک ایشیا کا یہ بڑا ملک ’بلند آمدنی‘ والا ملک بن جائے گا۔

سی ای بی آر کے نائب صدر ڈگلس میک ویلیمز کے مطابق چینی معیشت نہ صرف عالمی وبا پر قابو پانے سے فائدہ اٹھا رہی ہے بلکہ ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ جیسی صنعتوں پر مرکوز جارحانہ پالیسیوں کے استعمال سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک سطح پر تو مرکزی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دوسری سطح پر ایک مناسب آزاد معیشت پر بھی کام کر رہے ہیں۔‘

’اور یہ فری مارکیٹ والا حصہ ہے جو ان کو آگے بڑھنے میں مدد دے گا، خاص طور پر ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں۔‘

لیکن وہ کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا، اس کا اوسط شہری امریکہ کے اوسط شہری سے کہیں زیادہ غریب رہے گا، اور اس کی وجہ چین کی امریکہ سے چار گنا زیادہ آبادی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button