Uncategorized

’چلو چلو امریکہ چلو‘: افغان پناہ گزین جنھیں کابل ایئر پورٹ کی افراتفری میں موقع نظر آیا

’آنکھوں میں امریکہ یا کسی یورپی ملک جانے کا خواب بچپن سے تھا لیکن راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔‘ اچانک داؤد (فرضی نام) کو اپنے ایک رفیق سے ایسی بات پتا چلی کہ ان کی انکھیں چمک اٹھیں۔

اسے ایسا لگا کہ یہی وقت ہے کہ وہ اپنے خواب کی تعبیر حاصل کر سکتا ہے۔ داؤد نے اس خوشی میں فوری انتظام کیے اور گھر جانے کی بجائے بیوی بچوں کو ورکشاپ بلایا اور گاڑی میں بیٹھ کر کابل روانہ ہو گیا۔

’چلو چلو امریکہ چلو‘

یہ قصہ ہے ایک افغان پناہ گزین داؤد (فرضی نام )کا جن کی پیدائش پشاور کے کچہ گڑھی کیمپ میں ہوئی۔ وہ یہیں پلے بڑھے اور شادی کی لیکن اس کے باوجود انھیں افغان مہاجر پکارا جاتا ہے۔

داؤد اس جدوجہد میں تھے کہ کسی طریقے سے اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے امریکہ یا کسی یورپی ملک چلے جائیں لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

رواں ماہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد کابل کے ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ پہنچے اور یہ افواہ پھیل گئی کہ سب لوگ یہاں سے امریکہ اور یورپی ممالک جا رہے ہیں۔

طالبان کے خوف کی وجہ سے جو لوگ کابل ایئر پورٹ پہنچے اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اس سے یہ تاثر پھیل گیا کہ جیسے سب لوگ بغیر کسی دستاویزات، پاسپورٹ یا ویزے کے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک جا رہے ہیں۔

افغانستان سے تو بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے ہی تھے مگر پاکستان میں موجود افغان پناہ گزین بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے اور مقامی لوگوں کے مطابق ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگ کابل پہنچ گئے۔

داؤد بھی ان میں شامل ہیں اور وہ کابل ایئر پورٹ کے باہر اس انتظار میں ہیں کہ کوئی راستہ کھلے اور وہ امریکہ چلے جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button