Uncategorized

چترال کی سرحد کے ذریعے پاکستان میں ’پناہ لینے والے‘ افغان فوجی افغانستان کے حوالے، آئی آیس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے متصل افغان صوبے کنڑ کے سے پاکستان میں داخل ہونے والے 46 افغان فوجی اور افسران کو افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جارے ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان آرمی کے پانچ افسران سمیت 46 فوجیوں نے پاکستان میں پناہ مانگی تھی تاہم تاہم افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس کی تردید کی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت دفاع کے ترجمان اجمل شنواری نے کہا کہ ’اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے فوجی جوانوں نے کسی دوسرے ملک میں پناہ لی ہے اور وہ بھی پاکستان میں۔ افغان اور بالخصوص افغان فوج میں پاکستان کے خلاف جتنی حساسیت ہے وہ سب کو پتا ہے۔‘

منگل کو آنے والے بیان کے ساتھ جاری ہونے والی ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فوجی افسران افغان فوجیوں سے ہاتھ ملا کر انھیں رخصت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 39 ایسے جنگجوؤں کی لاشیں بین الاقوامی ادارہ ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے حوالے کی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔

افغان اہلکار عملاً گھیرے میں تھے

پیر کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاک افغان سرحد پر بدلتی صورتحال کے باعث افغانستان کے فوجی اپنے مورچوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور پاکستان اس حوالے سے افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق پاکستان میں پناہ لینے والے افغان فوجی افغانستان کے صوبہ کنٹر اور پاکستان کے ضلع چترال کے بارڈر پر تعنیات تھے۔ چترال میں موجود سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ کنٹر میں افغان طالبان نے اپنا دباؤ بڑھایا ہے اور گزشتہ کئی دونوں سے سرحد پر واقع بریکوٹ اور کالام کی افغان چوکیوں کی سپلائی لائن کو کاٹا ہوا ہے۔ ان چوکیوں پر موجود افغان اہلکاروں کو کئی روز سے راشن سمیت مختلف اشیا کی فراہمی رکی ہوئی تھی اور ذرائع کے مطابق فوجیوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

ذرائع کے مطابق افغان اہلکار عملاً گھیرے میں تھے ان کو کوئی بھی مدد نہیں مل رہی تھی جس کے بعد انھوں نے پاکستان سے مدد طلب کی

چترال کے علاقے گرم چشمہ، جو سرحدی علاقے ارندو کے قریب واقع ہے، کے رہائشیوں کے مطابق سرحدی حدود پر انھیں کوئی غیر معمولی سرگرمیاں نظر نہیں آئیں تاہم چترال کی سرحد سے منسلک علاقوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے ہی بریکوٹ سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کے پہنچنے کی اطلاعات مل رہی تھیں

پاکستان نے بھی ارندو سیکٹر میں چند ہی دن قبل فوج کا دستہ تعنیات کیا ہے۔چترال کے ساتھ افغانستان کے صوبے نورستان کا علاقہ بھی لگتا ہے اور اس صوبے کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہاں پر بھی طالبان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل افغان طالبان نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ اور بلوچستان کے ضلع چمن سے جڑی سرحدی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

افغان گورنر کا ’پاکستانی جنگجؤوں‘ کے بارے میں دعویٰ

دوسری جانب پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 39 ایسے جنگجوؤں کی لاشیں بین الاقوامی ادارہ ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے حوالے کی ہیں جن کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔

صحافی محمود جان بابر کے مطابق ننگرہار کے گورنر ضیا اللہ امرخیل نے افغانستان کے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 39 ایسے افراد کی لاشیں آئی سی آر سی کے حوالے کی ہیں جو پاکستانی تھے اور طالبان کے ساتھ افغان فورسز سے لڑنے کے لیے افغانستان آئے تھے۔

ان کا دعوی تھا کہ بہت سارے ایسے زخمی پاکستانی جنگجوؤں کو افغانستان کے مختلف علاقوں سے واپس بھیجا گیا ہے۔

لیکن دوسری ہی جانب آئی سی آر سی کے اہلکاروں نے میڈیا میں گردش کرتی ان خبروں کی تردید کی ہے۔

آئی سی آر سی نے بی بی سی کے خدائے نور ناصر کو بتایا ہے کہ ’ہم یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیمز کو اس تنازعے میں شامل کسی پارٹی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی لہذا ہم کسی بھی ایسی ٹرانسفر میں شامل نہیں۔‘

پاکستانی حکام کی جانب سے اس دعوے کے حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا تاہم مبصرین اور حکام کے مطابق کئی افغان شہری اور طالبان جنگجو ماضی میں پاکستانی شہریت کی دستاویزات رکھتے تھے۔

یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان فورسز اور طالبان کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ طالبان کی مدد کرنے کے لیے پاکستان سے افغانستان آنے والے جنگجوؤں کی لاشیں پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔

حال ہی میں پشاور کے ایک مرکزی بازار میں ایسے ہی ایک جنگجو کے جنازے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں طالبان کے جھنڈے صاف نظر آرہے تھے۔ اس واقعے کے بعد مقامی پولیس نے چند لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے چند روز قبل تاشقند میں بین الاقوامی کانفرنس کے دوران پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں الزام عائد کیا تھا کہ افغان فورسز سے لڑنے کے لیے پاکستان سے 10 ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔

جواب میں عمران خان نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔

گورنر ننگرہار کے سرکاری فیس بک پیج پر شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ضیا اللہ امرخیل نے الزام لگایا کہ ’پاکستان اب کھل کر ان کے ساتھ لڑ رہا ہے اور اپنے جنگجو طالبان کی مدد کے لیے بھیج رہا ہے۔‘

ننگرہار کے گورنر کی فیس بک پوسٹ میں ان جنگجوؤں میں سے کچھ کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔

ان تصاویر میں سے کچھ افراد کی موت سے قبل اور کچھ کی مرنے کے بعد کی ہیں جبکہ بعض کے ماتھوں پر بندھی پٹی پر ’امارات اسلامیہ افغانستان‘ اور کچھ کے ماتھے پر بندھے کپڑے پر ’حقانی‘ درج ہے۔ تاہم اس پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مرنے والے جنگجوؤں کی بطور پاکستانی کیسے شناخت ہوئی۔

جب پاکستانی حکام سے اس دعوے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان مہاجرین تقریباً 40 برس سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور ان میں سے بہت سوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے لوگوں کا راستہ روکنے کے لیے ہی پاکستان نے بارڈر پر خار دار تاریں لگائی ہیں اوران کی تلاش کے لیے پاکستان میں شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا میں ایک قسم کا آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے جس میں اب تک نو ایسے لوگوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو افغانوں کے لیے شناختی کارڈ بناتے تھے اوران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

اہلکار کے مطابق اگرچہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مرنے والوں کے پاس پاکستانی شناختی دستاویزات موجود ہو سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جنگجو پاکستان سے افغانستان بھیجے گئے تھے۔

نادرا کے ترجمان کا مؤقف

جب پاکستان میں شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی کی زبانی باتوں سے اس بات کی تصدیق ممکن نہیں کہ یہ 39 لوگ پاکستانی تھے یا افغانی جیسا کہ کہا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کی تصدیق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کے شناختی کارڈ نادرا کو تصدیق کے لیے دستیاب نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپین بولدک میں ایک افغان فوجی افسر کے پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے کی تصویریں بھی منظر عام پر آئی ہیں جو شاید اس وقت بنا تھا جب پاکستان میں شناختی کارڈ بنانے کےلیے بائیومیٹرک نظام متعارف نہیں ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2007 سے پہلے شناختی کارڈ کاغذی کارروائی پر مبنی روایتی نظام کے تحت بنائے جاتے تھے۔ پرانے نظام کے تحت بعض غیر ملکی افراد، دھوکہ دہی اور جعلی کاغذات کی بنیاد پر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں 2007 تک کامیاب ہوئے۔

2007 کے بعد نادرا میں ڈیجیٹل بائیومیٹرک نظام متعارف کیا گیا اور نئے شناختی کارڈ اسی نظام کے تحت جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

انھوں نے کہا کاغذی کارروائی کی بنیاد پر بنوائے گئے جعلی کارڈوں کی تنسیخ پر جب متعلقہ افراد نے نادرا سے رجوع کیا تو یہ کارڈ منسوخ کر دئیے گئے اور ڈیٹابیس کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا پر افغان کمانڈر کے پاکستانی شناختی کارڈ کی جو تصویریں گردش کر رہی ہیں وہ دراصل 2002 میں روایتی نظام کے تحت بنوایا گیا جسے 2007میں متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل بائیومیٹرک نظام کے تحت 2008 میں غیر فعال کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر طالبان کی افغان باشندوں سے پاکستانی شناختی کارڈ کی برآمد کرنے کی خبریں قطعی طور پر بے بنیاد ہیں۔

’درحقیقت یہ کارڈ دیگر برآمدشدہ دستاویزات سمیت لنڈی کوتل کے پولیس سٹیشن میں موجود ہیں جہاں کے کانسٹبل (محرر) ایاز خان نے متعلقہ افراد کی شناخت کے لئے ان دستاویزات کی تصاویر اپنے فیس بک پر اپ لوڈ کی تھیں جو اس وقت بھی پولیس سٹیشن لنڈی کوتل کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ ایسی بے بنیاد اور من گھڑت خبر کو میڈیا میں افغان طالبان کی جانب سے سپین بولدک ، قندھار میں ان کارڈ کی برامدگی ظاہر کی گئی جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔‘

’عوام الناس سے التماس ہے کہ ایسی افوہوں کو بغیر تصدیق نہ پھیلائیں جس سے قومی ادراے کی ساکھ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچے۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button