Uncategorized

سندھ یونیورسٹی کی طالبہ ماہ نور شیخ نوجوانوں کے لیے مثال بن گئی۔

میں نے اپنے جیب خرچ سے یہ سنٹر شروع کیا کرونا کے دنوں میں میری یونیورسٹی کے پیسے جمع ہو رہے تھے جس سے میں نے سب شروع کیا۔ ابتداء میں میرے پاس تین چاربچے تھے لیکن آہستہ آہستہ اب مجھ سے ڈیڑھ سو بچے پڑھتے ہیں اب یہ بہت اچھا چل رہا ہے۔

ماہ نور شیخ ضلع نوشہرہ و فیروز کے قریبی گاؤں محمد بچل مہر میں ایک چھوٹا سا سکول چلاتی ہیں جہاں۔ وہ بچوں کو مفت تعلیم دیتی ہیں۔ میرا نام ماہ نور شیخ ہے میں یونیورسٹی آف سندھ میں فیکلٹی آف ایجوکیشن میں تھرڈ ائیر کی طالبہ ہوں یہ میرے سسرال کا گاؤں ہے میں اکثر کرونا کے دنوں میں یہاں آتی تھی تو میں نے دیکھا کہ سامنے قبرستان میں جو لوگ شہر سے فاتحہ پڑھنے آتے تھے وہ بچوں کو بھیک دیتے تھے۔

یعنی وہ بچوں کو ابھی سے ھی بھکاری بننے کی تربیت دے رہے تھے یہ  سب دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ میرے سسرال والوں نے شادی کے بعد میرے لیے جو گھر بنایا تھا میں اس کو استعمال میں لاؤں اور اسے ایک سکول کی شکل دے دوں۔ بچوں کو یہاں پڑھاؤں۔پڑھنے سے ان میں خود مختاری پیدا ہو گی۔ پہلے جو مڈل سیکشن چھٹی یا ساتویں کی لڑکیاں تھیں ان کو میں نے سکھایا کہ پڑھاتے کیسے ہیں۔ ان کو میں نے تربیت دی۔ ان کو بتایا کہ کلاس روم کیسے مینج کرتے ہیں۔ بچوں کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔ آج وہی لڑکیاں یہاں پر پڑھاتی بھی ھیں۔ مجھ سے جتنا ممکن ہوتا ہے ان کو تنخواہ بھی دیتی ہوں۔ گاؤں والوں کی توجہ اب  لڑکیوں کی تعلیم پر بھی ہو گئی ہے کہ ہم اپنی بچیوں کو پڑھائیں۔ کووڈ کے دوران میں بہت خیال کرتی تھی جیسے دوسرے سکول بند ہیں۔ جیسے ہی بچے آتے میں ان کو ماسک پہناتی ہوں ان کو سینیٹائز کرتی ہوں۔ اس کے بعد میں سماجی فاصلہ اختیار کراتی ہوں۔ تاکہ یہاں کرونا نہ پھیلے۔ شروعات میں مجھے سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ سانا کمیونٹی چیپٹر والوں نے سولر پینل لگوا کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک دو اور ہیں جنہوں نے مجھے سٹیشنری کے پیسے دیے تھے اس کے بعد ابھی تک میں اپنی پاکٹ منی سے چلا رہی ہوں۔
تھوڑا سا وقت اور کوشش جو کسی کو پڑھنا لکھنا سکھاتی ہے بہت بڑی بات ہے شاید دینے کے لیے اتنا نہ ہو جتنا وصول کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
سلام ہے پاکستان کی بیٹی ماہ نور کو۔

تانیہ مصطفی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button