بلاگز

جلد باز اللہ کی رحمت سے دور

جلد بازی ایک قسم کا پاگل پن ہے کیونکہ جلدباز انسان شرمندہ ہوتا ہے اور اگر شرمندہ نہ ہوں تو سمجھ لو گے پاگل پن پختہ ہو چکا ہے۔
(نہج البلاغہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا کے اقوال. صفحہ نمبر 702 )
جلد بازی ٹریڈمل کی مانند ہے۔۔اگر آپ مشین کی سپیڈ اپنی استطاعت سے زیادہ بڑھا دیں گے تو منہ کے بل گر پڑیں گے۔اور یہی حال ایک جلدباز انسان کا اپنی زندگی میں ہوتا ہے۔قرآن مجید کے مطابق انسان کے بارے میں کہا گیا ہےکہ انسان زمین پر جاکر فتنہ برپا کرے گا اور فتنہ برپا کرنے کی بہت سی اقسام ہیں جیسے جھوٹ ،چوری قتل و غارت گری وغیرہ . ان اعمال کے ذریعے انسان نے خود کو بھی نقصان پہنچایا اور مخلوق کو بھی نقصان پہنچایا اور اسی طرح ایک نقصان پہنچانے کا طریقہ جلد بازی ہے جلدباز انسان نہ صرف خود کو بلکہ اپنے سے جڑے دوسرے لوگوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد کی خوشخبری سنائی گئی ہے جبکہ عجلت کرنے والے شیطان کی ساتھی بن جاتے ہیں کیونکہ عجلت شیطان کا کام ہے۔صبر کی کمی اور ہر معاملے میں عجلت کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ اللہ تعالی کی نافرمانی کا ایک طریقہ ہے۔۔۔۔ جس طرح شیطان نے اللہ تعالی کا حکم سنتے ہی بغیر سوچے سمجھے تکبر کی بنیاد پر حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اللہ عزوجل کی رحمت سے دور ہو گیا بالکل اسی طرح عجلت پسند اور جلد بازی کرنے والا انسان اللہ تعالی کی رحمت کے دائرے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔صبر اور سوچ سمجھ کر کام کرنے میں عافیت ہے جبکہ عجلت میں پچھتاوا اور نقصان ہے۔۔ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھیں جو اپنی زندگی سے نا خوش ہیں تو اپ کو یہ جان کر حیرانی نہ ہوگی کہ شادی کا فیصلہ ہو یا بچے کو سکول میں داخل کروانے کا کاروبار کی سلیکشن کا مسئلہ ہو یا جاب کرنے کا فیصلہ کہیں نہ کہیں وہ ناخوش شخص کسی نہ کسی طریقے سے جلد بازی میں ملوث ہوگا اور اگر جلد بازی کی عادت پختہ ہو جائے تو کبھی کبھی انسان تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یہ لگتا ہے کہ میرے اندر قوت فیصلہ بہت ہے اور جلدی فیصلہ لے لینا قائدانہ صلاحیت ہے۔ قوت ارادی کا مضبوط ہونا قائدانہ صلاحیت ضرور ہے مگر بغیر سوچے سمجھے فی الفور فیصلہ کرنا بے وقوفوں کا شیوہ اور احمقوں کی عادت ہے اور ایک دانشور کے قول کے مطابق حماقت کی دوا صرف موت ہے کیونکہ احمق انسان جب تک زندہ رہتا ہے اپنی غلطی کو بار بار دہراتا رہتا ہے۔
اگر انسانی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا بہترین خصوصیات میں شمار ہوتا ہے جب کہ جلد بازی اور عجلت پسندی ایک ایب نورمل بیہیویئر کہلاتی ہے۔ موجودہ دور میں اگر دیکھا جائے تو اکثر افراد جلد بازی جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہیں ،کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا ہو،کوئی سامان خریدنا ہو، کہیں جانا ہو, کاروبار ، شادی بیاہ حتہ کہ زندگی کے ہر معاملے میں بہت جلدی قدم اٹھا لیا جاتا ہے اور یہ ہمارے معاشرے کا طرز زندگی بنتا چلا جا رہا ہے۔مشینی زندگی کی دوڑ میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے بغیر سوچے سمجھے بھاگا جا رہا ہے۔ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم نے زندگی سے کیا حاصل کرنا ہے؟ دوسروں کو زندگی میں کیا دینا ہے؟ ان سب باتوں سے مبرا ہو کر بس اپنی سوچ کے مطابق جلد بازی میں عمل درآمد کرنے کو لوگ پاور آف ڈیسجن میکنگ کا نام دے دیتے ہیں۔ اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو غزوہ بدر ہویا غزوہ خندق، فتح مکہ ہو یا ہجرت مدینہ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام امور فل پلاننگ کے ساتھ انجام دیے۔۔ گھریلو زندگی ہو یا جنگی حکمت عملی ڈیسیجن میکنگ کرنا سکھائی مگر سوچ سمجھ کر لہذا بحیثیت مسلمان ہمیں زندگی کے کے ہر معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو نمونہ بنا کر اپنی زندگیوں میں اعتدال اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی عادت کو اپنانا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں ہمیں خسارہ نہ اٹھانا پڑے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button