Uncategorized

ترکی کی مدد سے کابل ائیرپورٹ چلانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا

ترک صدر طیب اردگان طالبان کی مدد کی درخواست پر تاحال فیصلہ نہ کر سکے، بات چیت کا سلسلہ جاری

طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو فعال رکھنے کیلئے ترکی سے تعاون مانگا تھا تاہم ابھی تک ترکی جانب سے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے کابل ائیرپورٹ کے انتظامات چلانے میں مدد کی درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔صدر طیب نے بوسنیا روانہ ہونے سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ طالبان نے کابل ائیرپورٹ کا آپریشن چلانے کے حوالے سے مدد کی درخواست کی ہے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا مشترکہ انتظام سنبھالنے میں مدد سے متعلق حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔
برطانوی نشریاتی ادار ے کے مطابق صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے طالبان سے تین سے چار گھنٹوں پر محیط بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ ترکی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی سکیورٹی کے انچارج طالبان ہوں گے۔

ایئرپورٹ کا انتظام کیسے سنبھالا جاتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ بنایا جاتا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا متحرک ہونا افغانستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گا۔ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور یہ اس اتحادی افواج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ ترکی نے گذشتہ چھ سالوں سے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔تاہم طالبان ترکی سمیت تمام بین الاقوامی افواج کا ملک سے انخلا چاہتے ہیں۔ صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی افواج ایئرپورٹ پر موجود رہیں گی یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button