پاکستان

مییڈیکل کی پڑھائی کیوں چھوڑنا پڑ گئی

صائمہ لاہور میں رہنی والی لڑکی جو کہ گھر سے ڈاکٹر بننے کے لئے نکلی تھی لیکن وقت اور حالات نے اسے اتنا مجبور کر دیا کہ وہ آج لاہور کی سڑکوں پر جوکر کا روپ دھار کر بچوں کے کھلونے بیچنے پر مجبور ہے انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان کو یہ کام کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ وہ حلال روزی کما رہی ہیں دو وقت کی روٹی, ماں کی دوائی اور گھر کا کرایہ ان کی بنیادی ضرورتیں ہیں
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی لڑکی حلال روزی کمانا چاہتی ہے تو خدارہ اس کو ذلیل مت کریں اس کے کپڑے مت پھاڑیں۔ بہت طرح کے لوگ زندگی میں آئے اچھے اور برے بھی لیکن بہت لوگوں نے سر پر ہاتھ رکھا اور ماں کے لئے بھی دعائیں دی۔
پہلے میں بہت ڈری سہمی ہوتی ہے لیکن اب میں بہت اعتماد کے ساتھ بیٹھ کہ اپنا کام کرتی ہوں
ورنہ شروع کے دن بہت مشکل تھے لوگ سمجھتے تھے کی میں لڑکا ہوں یا کوئی خواجہ سرا وہ بار بار مجھے ہاتھ لگاتے تھے لیکن میں ان کو ہی کہہ کر پیچھے ہٹا دیتی کہ
"میں ایک لڑکی ہوں اور پلیز تھوڑا احترام کریں”
کچھ دفعہ تو موٹر سائیکل سوار میرا بیگ چھین کر بھاگ جاتے جس میں میرا گاؤن اور سکارف ہوتا ہے اور کچھ دور جا کر پھینک دیتے اور میرے جوکر کے ماسک کی وجہ سے کتے بھی پیچھے پڑ جاتے. اب سب کو میرے بارے میں پتا چل چکا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ صائمہ کی حکومت سے یہ درخواست ہے کہ کوئی اس کی مالی مدد نہ کرے صرف اس کی تعلیم کا خرچ فری کر دیں تاکہ وہ ڈاکٹر بن سکے.
پاکستان کی اس بیٹی کو سلام.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button