بین الاقوامی

پاکستانی طالبان کا معاملہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق افغان طالبان کا اہم بیان

ٹی ٹی پی کی جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق فیصلہ کرنا ہمارا نہیں پاکستان کا کام ہے، افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق دو ٹوک موقف اختیار کر لیا

پاکستانی طالبان کا معاملہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے، ٹی ٹی پی کی جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق فیصلہ کرنا ہمارا نہیں پاکستان کا کام ہے، افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق دو ٹوک موقف اختیار کر لیا- تفصیلات کےمطابق نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاک افغان طویل سرحد پر بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی تک ان کی رسائی نہیں، حکومت کی تشکیل کے بعد اس سے متعلق مکینزم بنائیں گے۔
اگر کسی کو پڑوسی ملک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پایا گیا تو اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ نہ کریں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ٹی ٹی پی کا معاملہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے، ان کی جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق فیصلہ کرنا اور لائحہ عمل بنانا ہمارا نہیں پاکستان، پاکستانی علما اور دینی حلقوں کا کام ہے- خیال رہے کہ گزشتہ دنوں طالبان نے کہا تھا کہ 31 اگست تک امریکا اور برطانیہ اپنا انخلا مکمل کریں اور اگر 31 اگست کے بعد بھی امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔
(جاری ہے)

طالبان کے اس بیان کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی و دیگر ممالک نے کہا تھا کہ وہ ڈیڈلائن میں توسیع کے لیے اپنے شراکت داروں اور طالبان سے رابطے میں ہیں جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی تھی کہ 31 اگست تک انخلا کا آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد 26 اگست کو کابل ائیرپورٹ پر دو دھماکے ہوئے جس میں تقریباً 170 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں 13 امریکی فوجی، دو برطانوی شہری اور دیگر افغان باشندے شامل ہیں۔ ان دھماکوں کے بعد مختلف ممالک نے انخلا کا عمل تیز کردیا جبکہ بعض ممالک نے آپریشن معطل کردیا۔ یاد رہے کہ 15 اگست کو طالبان افغان دارالحکومت کابل میں بھی داخل ہوگئے تھے جس کے بعد ملک کا کنٹرول عملی طور پر ان کے پاس چلا گیا ہےاور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد حکومتی عہدے دار فرار ہوچکے ہیں۔ طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد غیر ملکی اور افغان شہریوں کی بڑی تعداد ملک سے نکلنے کی خواہش میں کابل ائیرپورٹ پر موجود ہیں جبکہ ائیرپورٹ کا انتظام امریکی فوجیوں نے سنبھال رکھا ہے اور روزانہ درجنوں پروازیں شہریوں کو وہاں سے نکال رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button