پاکستان

پی ڈی ایم جماعتوں کاملک بھر میں جلسے اور روڈ کاروان چلانے کا فیصلہ

ملک میں غیراعلانیہ مارشل لاء ہے، حکومت کی تین سالہ بدترین کارکردگی اورکرپشن پر وائٹ پیپر جاری کریں گے، عدالتی فیصلے پر فارغ 17ہزارملازمین کیلئے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ پی ڈی ایم اجلاس کا اعلامیہ

پی ڈی ایم جماعتوں نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے اور روڈ کاروان چلانے کا فیصلہ کرلیا، حکومت کی تین سالہ بدترین کارکردگی اور کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا، عدالتی فیصلے پر17 ہزار فارغ کردہ ملازمین کیلئے قانونی چارہ جوئی کریں گے، انتخابی اصلاحات مسترد ،پارلیمنٹ میں صدر مملکت کی تقریرکے دوران احتجاج کریں گے۔
پی ڈی ایم اجلاس کے بعد سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے شہبازشریف ودیگر جماعتوں کے قائدین کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں تمام جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی، اجلاس میں ملک کے اندر بدامنی پر شدید دکھ کا اظہار، کوئٹہ دھماکا، کراچی میں کیمیکل فیکٹری کا المناک واقعہ، لانڈھی بلدیہ میں دھماکے، زیارت میں دھماکے میں معصوم لوگوں کی جانیں گئیں، لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا اور اظہار تعزیت کیا گیا۔
حکومت ایک میڈیا اتھارٹی بنانے جارہی ہے، اجلاس نے اس اتھارٹی کو مسترد کیا اور میڈیا برادری کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا، جس طرح میڈیا نے پارلیمنٹ میں صدر مملکت کی تقریر کے دوران احتجاج کا فیصلہ کیا ، پی ڈی ایم بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ہم اس سیاہ قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔ایسی حکومت جو خود دھاندلی کی پیداوار ہو، اس کو یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات کی اجازت نہیں دیں گے، ان اصلاحات کو مسترد کرتے ہیں، پوری دنیا اور الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر تحفظات کا اظہار کیا، یہ جمہوریت کے خلاف سازش اور آرٹی ایس کی طرح الیکشن کو چوری کرنے کا منصوبہ ہے۔
پی ڈی ایم نے وکلاء کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم آزاد عدلیہ کیلئے خود جدوجہد کی، حال ہی میں ایک عدالتی فیصلے کے تحت17ہزار ملازمین کو فارغ کردیا گیا ہے، کتنے لوگوں کو اس فیصلے سے بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا، اس فیصلے پر بھی احتجاج کرتے ہیں، ان ملازمین کو قانونی مدد مہیا کریں گے اور بحال کرنے کیلئے کردار ادا کریں گے۔
پی ڈی ایم نے ملک میں بڑھتی تاریخی مہنگائی ، بھوک وافلاس میں غریب قوم کی آواز بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسوں اور روڈ کاروان چلانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ عوام حقیقی جمہوریت اور ووٹ کے حق کو حاصل کرنے کیلئے کردار ادا کرسکے۔ستمبر کے پہلے ہفتے میں مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا اور شیڈول جاری کیا جائے گا۔حکومت کی ناکامیوں کی تین سالہ کارکردگی اور کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کریں گے، حکومت کی سیاہ کاریاں عوام کے سامنے لائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے پوری سنجیدگی کے ساتھ پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی، پیپلزپارٹی کا مسئلہ قصہ پارینہ بن چکا ہے، ہم پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ کو نہیں کھولیں گے، ہمارا ہدف صرف ملک پر مسلط نااہل حکومت ہے۔اس موقع پر صدر ن لیگ شہباز شریف نے ایک سوال پرکہا کہ پنجاب میں تبدیلی لانے سے متعلق باتیں مفروضے پر مبنی ہیں، پی ڈی ایم کا کارواں متفقہ طور پر آگے بڑھے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button