پاکستان

کراچی؛ شہبازشریف کی ن لیگی عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقات، مفتاح اسماعیل شریک نہ ہوئے

مفتاح اسماعیل کراچی میں موجود نہیں ہیں ، وہ شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ ذرائع مسلم لیگ ن

کراچی پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے ن لیگی عہدیداروں اور کارکنوں سے ملاقات کی جس میں مفتاح اسماعیل شریک نہ ہوئے۔ میڈیا رپورٹ میں ذرائع مسلم لیگ ن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مفتاح اسماعیل کراچی میں موجود نہیں ہیں ، وہ شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مفتاح اسماعیل جو کہ مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکرٹری ہیں ، انہوں نے پارٹی قیادت سے ناراض ہو کر خود پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ مفتاح اسماعیل نے کارساز ہاؤس میں ہنگامہ آرائی کے خلاف ایکشن نہ لینے اور کوئی کارروائی نہ کرنے پر پارٹی عہدہ چھوڑا ، اعلیٰ قیادت کو اپنا استعفیٰ بھجوا کر مفتاح اسماعیل نے پیغام دیا کہ بدمعاش ٹولے کے ہوتے ہوئے کراچی میں کام کرنا بہت مشکل ہے
پاکستان مسلم لیگ(ن)سندھ کے جنرل سیکرٹری اورسابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پارٹی عہدے سے مستعفی ہوئے تو استعفوں کی لائن لگ گئی ، مفتاح اسماعیل سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ن لیگ کے 9 عہدیدار مستعفی ہو گئے۔چار استعفے آنے کے بعد اب تک مستعفی ہونے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے ، مفتاح اسماعیل سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وائس چئیرمین عبدالطیف نیازی عہدے سے مستعفی ہو گئے ، جنرل سیکرٹری ضلع غربی سردار محمد نذیر نے بھی استعفیٰ دےد یا ، صدر ڈسٹرکٹ کیماڑی ظہر جہانگیر مستعفی ہو گئے جب کہ ایڈیشنل سیکرٹری کیماڑی راجہ عمران بھی مستعفی ہو گئے۔
اس سے قبل ن لیگ کے پانچ رہنما مستعفی ہو چکے تھے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کنٹونمنٹ انتخابات کے ٹکٹ پیسوں کے عوض تقسیم کرنے پر کارکنان نے ہنگامہ آرائی کی تھی جب کہ شہباز شریف نے ہنگامہ آرائی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی ، مفتاح اسماعیل کے اس فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے میر صوبہ خان بھنگر کراچی نے کہا کہ مفتاح اسماعیل صاحب کا یہ فیصلہ کافی حد تک درست ہے اگر ایسے گروپ بندی چلتی رہی تو مسلم لیگ ن کو مزید نقصان ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ اعلٰی قیادت فورأ نوٹس لے گی اور پوری نئی باڈی کا اعلان کرے گی ، مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پارٹی عہدے سے استعفے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ استعفیٰ بیانیے کی جنگ کی وجہ سے دیا گیا ہے یا پھر وجہ کچھ اور ہے تاہم مفتاح اسماعیل کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آ سکا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button