بین الاقوامی

داعش نے ہتھیار نہ ڈالے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا.طالبان کی حتمی وارننگ

داعش جیسے بھاڑے کے ٹٹوﺅں سے نمٹنا بخوبی جانتے ہیں ‘افغانستان چھوڑ کرچلے جائیں یا پھر ایسی جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں ان کا مکمل صفایا یقینی ہے.ترجمان طالبان

افغان طالبان نے کہا کہ اگر داعش نے ہتھیار نہ ڈالے تو ان کے خلاف سخت ترین فوجی کاروائی ہوگی ‘داعش جیسے بھاڑے کے ٹٹوﺅں سے نمٹنا بخوبی جانتے ہیں . فرانسیسی ادارے سے انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم کابل سے آغازکرنے جارہے ہیں کابل اور اس کے گرد ونواح میں داعش کے ”محفوظ ٹھکانوں“کا پتہ چلالیا ہے ہم انہیں جلد ”سرپرائزدیں گے
انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے معنی خیزاندازمیں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد داعش کے حملے ختم ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ افغان شہری جو داعش سے متاثر ہیں غیر ملکیوں کی غیر موجودگی اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد اپنی کارروائیاں ترک کردیں گے. داعش کے غیرافغان اراکین کے پاس دو راستے ہیں یا وہ افغانستان چھوڑ کرچلے جائیں یا پھر ایسی جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں ان کا مکمل صفایا یقینی ہے انہوں نے کہا کہ داعش کے حملوں کے جواب میں امریکا کے ڈرون حملوں سے متعلق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ انہیں ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہے امریکا ہماری آزادی اور خودمختاری کا احترام کرئے .
ذبیح اللہ مجاہد نے ایک کہا کہ طالبان کی نئی حکومت کا اعلان اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک امریکا کا آخری فوجی افغانستان سے نہیں چلا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کا اعلان کرنا اہم ہے لیکن اس میں بہت صبر کی ضرورت ہے، حکومت کی تشکیل کے لیے ہم ذمہ دارانہ طریقے سے مشاورت کررہے ہیں. ترجمان طالبان نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا ہے واضح رہے کہ 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں امریکی فوج کے 13 اہلکاروں اور 22 طالبان سیکورٹی اہلکاروںسمیت 170سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے.
ان حملوں کی ذمہ داری داعش خراسان گروپ نے قبول کی تھی جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے فوری ردعمل میں قصورواروں سے بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا اس واقعے کے بعد امریکا نے ہفتے کے روز افغانستان میں ایک ڈرون حملہ کیا . جس میں امریکا نے دعویٰ کیا کہ دولت اسلامیہ کی مقامی وابستگی رکھنے والے 2 ارکان کو ہلاک کردیا ہے جو ماضی میں طالبان سے بھی لڑ چکے ہیں بعدازاں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ اتوار کے روز ایک امریکی ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ افغانستان سے وابستہ مبینہ خودکش حملہ آوروں کو لے جانے والی گاڑی کو اڑا دیا گیا تھا اس سے قبل کہ وہ کابل کے ایئرپورٹ پر جاری فوجی انخلا پر حملہ کر سکے.
تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں عورتوں اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 10افراد سوار تھے جس پر امریکی محکمہ دفاع نے بھی تحقیقات کا اعلان کیا ہے ‘افغانستان میں غیرملکی صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ امریکی ڈرون نے عا م شہریوں کو نشانہ بنایا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button