بلاگز

خاتونِ خانہ اور معاشرتی زندگی

یہ موضوع اکثر خواتین کے حلقوں میں زیربحث رہتا ہے۔ کچھ خواتین کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ شادی کے بعد خاتون کے لیے سوشل ہونا اس کے رشتوں میں کمزوری کا باعث ہوتا ہے جبکہ کچھ خواتین اس معاملے میں زیادتی کا شکار ہو کر زیادہ سوشل ہونے کو ترجیح دیتی ہیں۔ در حقیقت یہ دونوں رویے ہی بالکل غلط ہیں۔ شادی شدہ زندگی ہو یا غیر شادی شدہ سوشل لائف میں ہمیشہ اعتدال رکھنا چاہیے اور اعتدال کے فقدان کی وجہ سے ہی مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس اعتدال کو سمجھنے کے لئے یہاں چند پوائنٹس کا سمجھنا لازمی ہے آئیے چند اہم حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔جو خواتین سمجھتی ہیں کی شادی کے بعد سوشل ہونے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی لڑکی کو صرف اپنا گھر دیکھنا چاہیے انہیں اس سوچ کی وجہ سے چند نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی خواتین مالی ، ڈرائیور اور خانسامہ سے بھی صحیح طور پر ڈیلنگ نہیں کر پاتیں۔ حد سے زیادہ محدود زندگی بھی انسان کو ذہنی اور نفسیاتی پریشانیوں میں جکڑ دیتی ہے۔ آس پڑوس سے کٹے رہنے کے باعث کچھ خواتین عدم اعتماد کا شکار ہو جاتی ہیں،یہاں تک کہ ایسی خواتین خود باہر نکل کر گروسری، ہاسپٹل، بل جمع کروانے کے لیے بھی گھر والوں کی محتاج ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین کے بچے بھی گھر کے باہر کے افراد سے یا تو بہت دور رہنا پسند کرتے ہیں یا پھر بہت جلدی دوسروں سے گھل مل جاتے ہیں اور یہ دونوں باتیں ہی خطرناک ہیں۔ اس طرح کی خواتین  بچوں کے اسکول میں جاکر پیرنٹس ٹیچرس میٹنگ کرنے میں بھی عار محسوس کرتی ہیں۔ ان خواتین کو پالر جاکر سروس لینے میں بھی بے انتہا مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی خواتین بے حد محتاط رویے کے باعث پڑوسی خواتین سے دوستی کرنے میں بھی خوفزدہ رہتی ہیں۔ ہمسفر والا تمغہ ان خواتین کے لیے نہیں۔۔۔ کیونکہ بے جا خوف اور عدم اعتماد ایسی خواتین کو شوہر پر بوجھ بنا دیتا ہے۔۔۔ نہ یہ گھر کے ملازمین سے ڈیلنگ کر پاتی ہیں اور نہ گھر سے باہر کے معملات صحیح طور پر دیکھ پاتی ہیں۔ دیکھیں آپ دنیا میں انسانوں کے درمیان رہتے ہیں انسانوں سے الگ رہنا فطرت میں نہیں ہے اور جو کوئی بھی فطرت کے خلاف جا کر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔اب بات کرتے ہیں حد سے زیادہ سوشل لائف میں انوالو خواتین کی ۔۔۔ یہ خواتین حقیقتاً گھریلو معاملات نظر انداز کر کے معاشرتی زندگی کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں، انہیں دوسروں کے گھر کی ٹوہ لینے اور مرچ مصالحہ لگا کر آگے بیان کرنے میں بےحد لطف محسوس ہوتا ہے۔ گھر کے بجٹ کو بالائے طاق رکھ کر اچھے اچھے کھانے بنا کر پڑوس میں یا رشتے داروں کے گھر بھیجنا انہیں بہت پسند ہوتا ہے تاکہ ان کی تعریف کی جائے۔ آس پڑوس کی تمام خبریں ان کے پاس موجود ہوتی ہیں۔ بے موقع دعوت کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے تاکہ اپنے گھر کی تزئین و آرائش اور بہترین کھانوں کی تعریفیں سن کر اپنا خون بڑھا سکیں۔ اکثر خواتین گھر کی راز اور خاص طور پر شوہر اور سسرال والوں کی باتیں آس پڑوس یا سہیلیوں میں پھیلا کر دلی اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ ایسی خواتین کے بچے اور گھر اکثر ابتر حالت میں نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر دھیان نشرواشاعت کی سرگرمیوں میں لگا رہتا ہے اور ان خواتین کی ایسی سرگرمیوں کے باعث گھر کا ماحول بھی ڈسٹرب رہتا ہے۔ ایسی خواتین سے محلے والے بچ کر نکلنا پسند کرتے ہیں۔اعتدال میں کمی اور زیادتی کا جائزہ تو ہم نے لے لیا۔ اب اس اعتدال کے پیمانے کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ خاتونِ خانہ شادی کے فوراً بعد سوشل لائف بڑھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ پہلے نئے بننے والے رشتوں کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے اور وقت دینے کی کوشش کریں۔ ایک دو بچوں کے بعد خواتین کی اکثریت میں میچیورٹی آچکی ہوتی ہے اور نئی نویلی دلہن کا ٹیگ بھی ان پر سے ہٹ چکا ہوتا ہے۔ اس وقت بچے اسکول جانا شروع کرتے ہیں یہ صحیح وقت ہوتا ہے اعتدال اختیار کرکے سوشل لائف میں قدم رکھنے کا۔ بچوں کو اسکول لینے یا چھوڑنے کے لئے خود جانے کی کوشش کریں اور اس وقت بچوں کے دوستوں کی ماؤں سے سلام دعا ضرور رکھیں۔ اگر روز جانا ممکن نہ ہو تو ہفتے میں دو بار اور مہینے میں پیرنٹس ٹیچر میٹنگ کو بھرپور انداز سے اٹینڈ کریں۔ گھر کے ملازمین کو خود ہینڈل کریں کام کیسے اور کب کروانا ہے کون سا ملازم رکھنا ہے یا نہیں خود فیصلہ کریں گھر والوں سے مشورہ ضرور لیں مگر اپنی زمہ داری سمجھتے ہوئے ہر معاملے میں پہلے خود انٹرسٹ لیں۔ گھر کا ماحول دیکھتے ہوے کبھی کبھار آتے جاتے پڑوسی خواتین سے سلام دعا اور ملنا ملانا ضرور کریں۔ہر کسی کو دوست نہ بنائیں۔ میل جول بڑھاتے وقت دوسری خاتون کے گھریلو ماحول سے مکمل واقفیت حاصل کریں اور اس کے بارے میں اپنے شوہر یا گھر والوں سے ضرور ڈسکس کریں اور اگر وہ آپ کو ان سے میل جول رکھنے سے منع کریں تو خود کو روک لیں۔  ہر علاقے میں گھریلو سطح پر درس قرآن و حدیث، قرآن خوانی و درود خوانی اور میلاد جیسی محافل ہوتی رہتی ہیں ان محافل میں گھر کی دیگر خواتین کے ساتھ  خود اور بچوں کو بھی شریک کریں ایسی محافل سے زہن پر بہت اچھے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اعتدال میں رہ کر سوشل لائف آپ کی اپنی ذہنی صحت اور بچوں کے فیوچر کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ بچیوں کے بڑے ہونے  پر اکثر پڑوس میں رہنے والی بچیوں کے ساتھ ٹیوشن سینٹر آنا جانا آسان ہو جاتا ہے اور اچھے لوگوں سے تعلقات بچوں کی جاب سے لے کر شادی بیاہ کے معاملات میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اس اعتدال والی معاشرتی زندگی کا ایک سب سے اہم اصول یہ ہے کہ گھر کے راز اور خاص طور پر شوہر کی باتیں دوسروں سے ڈسکس نہ کریں ، نہ اپنے نجی معاملات کی رپورٹنگ دوسروں تک کریں اور نہ دوسروں کے معاملات میں گھسنے کی کوشش کریں اور اگر آپ ایسا کرنے سے خود کو نہیں روک سکتی تو خود کو سوشل کرنے کی بجائے گھر والوں تک محدود رہیں ۔سوشل لائف میں خواتین آپس  میں باتیں ضرور کریں مگر ان باتوں کا مرکز چغلیوں کا دفتر کھولنا نہ ہو بلکہ ایک دوسرے سے مثبت خیاث کا تبادلہ ہو۔ اعتدال والی معاشرتی زندگی سے کچھ اچھا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حسد ، کینہ، بغض ، لالچ اور حرص والے جزبات کو سلا دیا جائے کیونکہ کہ یہ محض منفی جذبات نہیں بلکہ ہنستی بستی زندگی کو کھا جانے والے اثداھے ہیں اگر آپ ان اثداھوں پر قابو نہیں پا سکتیں تو فتنہ بننے اور برپا کرنے کی بجائے اپنی زندگی گھر تک محدود رکھیں۔یہاں کچھ گذارشات مرد حضرات سے بھی ہیں۔ ہر مرد اپنی بیوی کے معاملے میں کہیں نہ کہیں محتاط ہوتا ہے ۔ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں کوئی اس کی زوجہ کو مس گائیڈ یا مس یوز نہ کرے اور ہر غیرت مند اور با شعور مرد یہی سوچتا ہے۔ آپ کا یہ رویہ بلکل درست ہے مگر دور حاضر کے معملات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے گھر کی خواتین کو اتنا اعتماد ضرور دیں کے وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے بعد فیصلہ کر سکیں اور یہ صحیح اور غلط کا فرق انہیں جب ہی پتا  چلے گا جب وہ ارد گرد رہنے والوں سے ملیں گی۔ انہیں محتاج نہ بنائیں۔ گھر کی گروسری جیسے باہر کے چھوٹ موٹے معملات اپنی نگرانی میں کرنے دیں۔ ایک حدیث پاک کے مطابق دنیا ایک متاع ہے اور اس کی بہترین متاع نیک بیوی ہے۔ متاع خزانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور خزانہ فائدہ دینے کی چیز ہے تو زندگی کے معاملات میں بیوی کو اپنا مددگار اور معاون بننے دیں۔ بیوی گھر کے اور باہر کے چھوٹے موٹے کام کرکے اور بڑے کاموں میں آپ کو اچھے مشورے دے کر آپ کا بازو ثابت ہو سکتی ہے۔خود اعتماد اور باشعور بیویاں بہترین تربیت کرنے والی مائیں ثابت ہوتی ہیں۔ اپنے بچوں کو پر اعتماد ، مثبت سوچ اور نیک اعمال ادا کرنے والی ماں دیں۔ احساس کمتری کا شکار ، عدم اعتماد اور ڈر پوک، نفسیاتی طور پر کمزور مائیں کبھی بھی بہترین ماں نہیں بن سکتیں۔ آپ کی نسل ان کی گود میں ہے ان پر اعتماد کریں اور انہیں اعتماد دیں۔ انسانی زندگی میں آزمائش اور دکھ اس کا حصہ ہیں جن خواتین کو دہی اور ٹماٹر لینا بھی نہیں آتا وہ اکثر امتحان کے وقت بے وقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈگمگا جاتی ہیں۔ لہذا اپنے گھر کی خواتین خاص کر زوجہ کو معاشرتی زندگی کے آداب سیکھانے اور سمجھانے کے بعد انہیں مثبت طریقے سے اعتدال والی معاشرتی زندگی مہیا کریں اور خواتین بھی معاشرتی زندگی میں قدم رکھتے وقت اپنی حدود کو مدنظر رکھیں۔ کچھ اصول بنائیں اور ان کے مطابق ہی دوسری خواتین سے میل جول کریں۔ نہ خود دوسروں کو بے حد قریب کریں اور نہ خود اوروں کے زیادو قریب ہوں کیونکہ معاشرتی زندگی میں کامیابی کی کونجی کا نام اعتدال ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button