بلاگز

آسلام زادی بننا ہے یا مغرب زادی

اب وہ عورتیں کہنے لگیں کہ ہمیں حقوق چاہیئے

اسلام نے عورت کو آذادی اور خود مختاری دی ہے مگر اتنی جتنی عورت کی ضرورت تھی۔مرد اور عورت دونوں ہی اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا ہے کہ اس کی کون سی مخلوق کو کیسی ذمہ داریاں اور کیسے حقوق ملنے چاہئیے ۔اب ہونا تو یہ چاھیے تھا کہ جتنی اجازت دی گئی تھی، عورت اس کو استعمال کرتے ہوے اللہ کے احکامات پر عمل کرتی ، اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ مضبوط کرتی ۔۔۔۔
مگر ہوا یہ کے مغرب سے ایک ہوا چلی اور جن خواتین کی ناک میں وہ ہوا داخل ہوئی ان خواتین کے دماغ، دل اور آنکھوں پر شر کے پردے پڑ گئے اب وہ عورتیں کہنے لگیں کہ ہمیں حقوق چاہیئے ۔ ہم مردوں سے کم نہیں ۔۔۔۔ ہم بھی مردوں کی طرح ہر کام کرینگی ۔۔۔۔
ارے بی بی عورت کا مرد سے یا مرد کا عورت سے کیا مقابلہ ۔۔۔ مقابلہ تو ایک جیسے فریقین کے درمیان ہوتا ہے۔عورت اور مرد تو الگ الگ ذمہ داریاں اور حقوق لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ جیسے ایک کرکٹر کا مقابلہ فٹبالر سے نہیں ہوسکتا، ایک سبزی بیچنے والے کا مقابلہ ایک کپڑا بیچنے والے سے نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ہیں تو دونوں انسان ہی لیکن دونوں کی فیلڈز ۔ کام ، ذمہ داریاں اور اس حساب سے ان کے حقوق الگ الگ ہے۔ بالکل اسی طرح مرد اور عورت مخلوق ہونے کی بنا پر ایک ہی جیسے ہیں لیکن دونوں کے کام ذمہ داریاں اور حقوق الگ الگ ہیں۔
مغرب نے یہ نعرہ بلند کیا کہ عورت مرد کی طرح ہر کام کر سکتی ہے مگر کوئی یہ تو بتائے کہ عورت کو ہر کام کرنے کے لئے مرد جیسا ہی کیوں بننا ہے ؟ مغرب کی نظر میں مرد عورت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو پھر عورت مرد کی طرح بننے پر کیوں تلی ہوئی ہے ؟
مرد بال چھوٹے کرےگا ہم بھی یہی کریں گی ۔ مرد رات کو دیر سے گھر آئے گا ہم بھی رات کو دیر سے گھر آئیں گی۔ مرد اگر سگریٹ پی رہا ہے تو ہمیں بھی سگریٹ پینے سے کوئی نہیں روک سکتا، مرد اگر تیز آواز میں بات کرے گا تو عورت کو بھی یہی کرنا چاھیے۔۔۔
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مغرب عورت کے حقوق سے زیادہ اس کو مرد بنانے کی فکر میں ہے۔۔۔۔ اگر عورتوں کو مردوں سے شکایتیں ہیں تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ مردوں کے اندر موجود خامیوں کو دور کے لئے ان کی تربیت کرنے کے لئے کوئی مہم چلاتیں۔ مہم تو چلی مگر عورت کو مرد بنانے کے لیے۔مغرب کا یہ ٹکراؤ ۔۔۔۔ مرد سے نہیں بلکہ کہ اسلام اور اللہ کے بنائے ہوئے قوانین سے ہے۔۔۔۔ کیونکہ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا وہ تنگ نظر مغرب دینے کے لیے تیار نہیں۔
ڈیئر خواتین اسلام نے آپ کو جو حقوق دیے ہیں انہیں انجوائے کریں اور اگر وہ حقوق آپ کو حاصل نہیں ہیں تو آپ ان حقوق کی ڈیمانڈ ضرور کریں، اسلام کے دیئے ہوئے حقوق کے حصول کے لیے مہم چلائیں۔۔۔ مگر غیروں کی دیکھائی ہوئی نام نہاد حقوق والی کشتی میں سوار ہو کر خود کو ایسے بھنور میں پھنسنے نہ دیں جس میں پھنس کر آپ خود کو مگرمچھوں کے جھونڈ کے حوالے کر دیں۔۔۔
غیروں سے بھیک میں ملنے والے آزادی کے تصورکو اپنا سمجھ کر اسلام مخالف حقوق مانگنے کی بجائے۔ دین اسلام کے دیے گئے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے مہم چلائیں انشاء اللہ معاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ابھی آپ غیروں کے بنائے ہوئے خواتین کے دن، پر بیہودہ کہاوتوں والے پلے کارڈز اٹھا کر سڑکوں کی خاک چھاننے نکل پڑتی ہیں اور پھر کئی مہینے تک عوام کی طرف سے لعن طعن کا نشانہ بنی رہتی ہیں ؟ کیا اچھا لگتا ہے اس طرح رسوا ہونا ؟؟؟؟؟
آپ کو حقوق چاہیے نہ، معاشرے میں ایک مقام چاہیے نہ؟
تو وہ مقام اور حقوق مانگنے کیوں نہیں نکلتیں جو اسلام نے آپ کو دیے ہیں؟ اسلام والے حقوق سے راہ فرار ۔۔۔اور مغرب والے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے واویلا کرنا ۔۔۔۔مطلب اصل مسئلہ مرد سے نہیں اسلام سے یا اسلام والے مردوں سے ہوا نہ؟ چلیں اس بحث کو رہنے دیتے ہیں یہ بتائیے کہ شریعت نافذ کرنے یا جب کسی چائلڈ ریپ کیس کے بعد شریعت کی نافذ کردہ سزا کی بات آتی ہے تو پھر آپ لوگ شریعت والی سزائیں نافذ کرنے کے حق میں کیوں نعرہ نہیں لگاتے؟ اس لیے کیوں کہ شریعت اگر مرد کو نظریں نیچی رکھنے اور عورت کی عزت کرنے کی تلقین کرتی ہے تو شریعت ، عورت کو بھی حکم دیتی ہے، پردہ کرنے کا اور اسلام کے ان احکامات ہی سے تو اصل جنگ ہے ۔۔۔ مغرب کی، مغرب زادوں اور مغرب زادیوں کی ۔۔۔ غیروں کی لگائی ہوئی آگ میں ہاتھ تاپنے سے بہتر ہے کہ کچھ خوداری اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ مسلمان ہیں تو مسلمان عورتوں والے حقوق مانگیے اللہ خود آپ کو سر بلند کر دیگا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اسلام زادی بن کر اسلام والے حقوق مانگنے ہیں یا مغرب زادی بن کر مغرب کے پیش کردہ حقوق اور بے شک مسلمان مرد ہو یا عورت ، فلاح تو بس دین میں ہی ہے ۔
وما علینا الا البلاغ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button