بلاگز

روشن خیالی اور پاکستانی معاشرہ

آج کل مغربی معاشرے کے زیر اثر کچھ خواتین اور آزادی نسواں اور روشن خیالی کو پروموٹ کرنے والی کچھ این جی اوز ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بیانیہ بنا رہی ہیں کہ پاکستانی مرد عورتوں کے لئے خطرہ ہیں۔ در اصل انہیں مسئلہ پاکستانی مردوں سے نہیں ہے بلکہ "اسلام پسند” مسلمان پاکستانی مردوں سے ہے  جن کا خیال یہ ہے کہ عورت گھر میں اور اسلامی شعائر کی پاسداری کرنے میں ہی محفوظ ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ عورت کی حفاظت اس کا پاب، بھائی اور شادی کے بعد اس کے بیٹے اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر کرتے ہیں۔ عورت اپنے گھر میں محفوظ ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق باپردہ رہنے میں ہی اس کی عزت اور پہچان ہے۔ جبکہ ان کے جواب میں یہ "عورت مارچ” کی خواتین چاہتی ہیں کہ پاکستان کی ہر عورت کو مادر پدر آزادی حاصل ہو۔ وہ چاہے تو کپڑے پہنے نا چاہے تو نہ پہنے۔ وہ پاکستان میں کسی مسجد میں کھڑی ہو کے ہندوستانی گانوں پہ رقص کرے یا بھرے بازاروں میں نامناسب لباس پہن کر مٹکتی پھرے لیکن مرد اس کی اس دعوت گناہ پر پتھر بن جائیں۔ وہ سوشل میڈیا پہ لوگوں کو ملاقات کی دعوتیں بھیجے لیکن وہ مرد اس کے محبت بھرے اشارے دیکھتے رہیں لیکن ان کے جذبات مر جائیں۔
یہ صورت حال کی بھی طرح ممکن نہیں ہے کیوں کہ اللہ نے جو انسان کی تخلیق کردہ ہے اس نے مرد کی فطرت میں لکھ دیا ہے کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ متاثر کردہ چیز عورت کی طرف مائل ہونا ہے۔ جب انسانی کی یہ بنیادی ضرورت اسے گلیوں میں بنا کسی حفاظت کے ملے گی تو کیا خیال ہے کسی ہوس کے مارے ہوئے مرد کے جذبات نہیں بھڑکیں گے؟ کیا وہ اس کی طرف مائل نہیں ہوگا؟ کیا وہ اس کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائے گا۔ بالکل اٹھائے۔
لیکن اگر یہی عورت اسلام کے احکام مانتے ہوئے اپنے گھر میں ہی رہے یا ضرورت کی خاطر گھر سے اس طرح باہر نکلے جیسے اسلام نے اسے حکم دیا ہے تو کوئی اس کی طرف بری نگاہ ڈال پائے گا؟ یقیناً اس چیز سے معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے کافی فرق پڑتا ہے۔
جہاں تک بات ہے ان آزاد خیال عورتوں کی جو نعرے لگاتی پھرتی ہیں کہ سب مرد ہی برے ہوتے ہیں، مردوں سے آزادی چاہیئے، ان کا جسم ان کی مرضی اور ان جیسے اور بہت سارے اول فول القابات سے مردوں سے نوازتی پھرتی ہیں ان کے لئے کچھ سوالات ہیں۔
کیا وہ اسلام نہیں ہے جس نے پیدا ہوتے ہیں عورت کو  دفن ہونے سے بچایا اور معاشرے کا ایک بہترین مقام اور عزت دی؟
کیا وہ اسلام نہیں ہے جس نے عورت کو جنسی ضروریات پوری کرنے والی ایک زر خرید لونڈی سے ای با عزت بی وی کا درجہ دلوایا؟
کیا یہ اسلام نہیں ہے جس نے عورت کی عزت مرد سے تین گنا زیادہ رکھی ہے؟
کیا یہ اسلام نہیں جس نے بازار میں بکتی عورت کو جائیداد کا حصہ دار بنا دیا؟
کیا یہ اسلام نہیں جس نے عورت کو ایک پاکیزہ رشتہ دیا؟
کیا یہ اسلام نہیں جس نے عورت کو مرد کی طرح ہی تعلیم کا حق دیا؟
اگر اس سب کا جواب ہاں میں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی آزاد اور روشن خیال عورت کو اسی اسلام سے کیوں آزادی چاہیئے جو اس کی زندگی، عزت، جائیداد اور رشتہ کا ضامن ہے؟
پاکستان بلا شبہ اسلام کے نام پہ بنا تھا اور اس پر حکم بھی قرآن و سنت کا ہی چلے گا۔ اگر آپ کو اسلام سے مسئلہ ہے تو خود کو مسلمان کہلوانا چھوڑیں اور جو مرضی کرتی پھریں کوئی بھی نہیں پوچھے گا۔ لیکن اگر خود کو مسلمان کہتی ہیں اور اسلام، قرآن و سنت کا راستہ اختیار نہیں کرتیں تو ان پر اسلامی شریعت کے مطابق احکامات اور حدود کا اطلاق ہوتا ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ یہ روشن خیال عورتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کا محول بھی مغرب جیسا ہو جائے جہاں بنا رشتہ یا نکاح کے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ جیسا ماحول پیدا کر دیا جائے اور عورت جہاں جس سے مرضی ملتی پھرے، منہ کالا کرتی پھرے کوئی اسے نہ پوچھے کہ اس کا جسم اسکی مرضی کے مطابق چاہتی ہے۔ اس کے بہت بھیانک نتائج ہونگے جس سے ہمارا اسلامی معاشی اور معاشرتی نظام درہم برہم ہو جائے گا اور پھر بغیر باپوں کے اولادوں کی اکثریت آپ کو پاکستان کی سڑکوں پر، ایدھی سنٹروں پر یا پھر کسی ہسپتال سکے باہر کسی کچرے کے ڈھیر پر ملے گی۔
کیا ہم اس سب کی اجازت دے سکتے ہیں؟
@Being_Faani 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button