سائنس و ٹیکنالوجی

بنک UBL ذلالت کا استعارہ ہے!!!!

پاکستان چھوڑے ہوئے چھ ماہ ہوگئے۔ اکاونٹ پاکستان UBL کراچی برانچ میں ہے سوچا بجائے اس کے دیار غیر اکاونٹ کھلواوں اپنا نیا پاکستان ہی ٹھیک ہے۔ اچھا بھلا انلائن ٹرانزیکشن جاری و ساری تھیں کہ ایک دن موبائل نے اپڈیٹ مانگا کہ موبائل میں مزید گند رکھنے کا اسپیس نہیں ہے۔ سو پہلی فرصت میں موبائل ریفریش کیا۔ جس میں انلائن موبائل اپلیکشن بھی اڑ گئی۔ دوبارہ ری انسٹال کیا تو اب بنک میرے پاکستانی نمبر OPT کوڈ بھجے جو ناممکن تھا اس کوڈ تک رسائی۔ سو کسٹمر سروسز کو ای میل لکھی کہ بھیا مجھے OTP کوڈ چاہیئے۔ انھوں نے تین دن بعد مجھ سے پاسپورٹ کاپی، آئی ڈی کارڈ، ویزہ کاپی، اور پاسپورٹ کا وہ صحفہ مانگا جس پر ایگزٹ اسٹمپ لگا ہوا تھا۔ سو اگلے منٹ میں ان کو بھیج دی۔
دس دن بعد بنک سے ای میل آئی کہ آپ نے فلاں ابن فلاں فارم نہیں بھیجے ہیں۔سو اپ کی درخواست پر کام نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو بتایا کہ فارم بھیجیں میں ابھی آپ کو پر کردیتا ہوں۔ دو دن بعد فارم ملے سو پر کرکے بھیجوا دیئے۔ ہفتہ بعد پھر احسان عظیم کرکے ای میل آئی کہ جناب ایک فارم میں اپ کا غیر ملکی فون نمبر نہیں دیا گیا ہے۔ میں نے جواب لکھا کہ جناب چشمہ لگا کر دیکھیں نمبر لکھا ہوا ہے۔ اٹھ دن بعد پھر ای میل آئی سر اپ نے پاسپورٹ اور ویزہ کی تصویریں نہیں بھیجیں ہیں۔ بتایا اللہ کے بندوں اٹیچ فائل تو چیک کریں۔ مگر وہ بضد تھے کہ نہیں ہیں۔ بالآخر ان کو مغلظات بکتا ہوا اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ ایک بنک اتنا غیر ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہے۔
دو دن بعد یاد آگیا کہ اپنے یار دوستوں سے تو اسٹیٹ بنک آف پاکستان بھرا پڑا ہے سو ان کی مدد لے لیتا ہوں۔ یار من گلزار کو فون کرکے اپنے دکھڑے رو رو کر سنائے کہ یو بی ایل والوں کے مظالم کے گواہ رہنا۔ گلزار خان نے اپنی جیک لگا کر میری داد رسی کرانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ میری فائلز وہ لوگ پھر گم کرچکے۔ بالآخر روتے دھوتے دو ماہ بعد میرا انلائن بنکنگ نظام بحال ہوا۔
دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہے اور ہمارے بنک روایتی طریقہ کار کیساتھ ابھی تک 1990 کے دور میں بھٹک رہے ہیں۔ کسٹمر سروس کا ڈیپارٹمنٹ پوری دنیا میں سب سے زیادہ حساس اور ذمہ دار ڈیپارٹمنٹ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے UBL والوں نے پتوکی سے میٹرک پاس مینجرز کو بلا کر اپنے پاس بٹھا رکھے ہیں۔ قسم خدا کی اگر میں کراچی ہوتا میں نے جاکر ان کے مینجمنٹ کے منہ تھپڑیں مار دینی تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے بے غیرت اور کام چور دیکھے ہیں مگر ان جیسوں کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔

عارف خٹک

فاطمہ خان

Fatima Khan is a Freelance Journalist at Urdu Globally, a voracious writer and Social Media Activist playing her role in socio-political movements in Pakistan

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button