بریکنگ نیوزبین الاقوامیصحت

گٹھیا کی کم خرچ دوا سے کورونا کا علاج بھی ہوسکتا ہے، تحقیق

کورونا کا علاج امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گٹھیا کے علاج میں پچھلے پچاس سال سے استعمال ہونے والی عام اور کم خرچ دوا ’’پروبینیسڈ‘‘ (Probenecid) سے کورونا کا علاج (سارس کوو 2) کے علاوہ انفلوئنزا وائرس کا حملہ بھی ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔

ایک نئ ریسرچ سامنے آ گی جس میں کورونا کا علاج کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے جو کہ کچھ یوں ہے کہ اب تک کے تجربات میں اسے انسانی ناک، حلق اور پھیپھڑوں سے لیے گئے خلیوں کے علاوہ ہیمسٹر (چوہے جیسے ایک جانور) میں ان وائرسوں کے خلاف کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی کورونا کا علاج کی یہ تحقیق پروفیسر ڈاکٹر رالف ٹرپ کی نگرانی میں کی گئی جن کا تعلق یونیورسٹی آف جیورجیا، امریکا سے ہے۔پیٹری ڈش میں کلچر کیا گیا۔ یہ خلیے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ کورونا وائرس ان ہی پر حملہ آور ہوتا ہے۔

دوسرے مرحلے کے دوران خلیوں کے کلچر میں ’’پروبینیسڈ‘‘ کی کچھ مقدار جذب کروائی گئی، جس کے بعد انہیں کورونا وائرس، فلو وائرس اور ’’آر ایس وی‘‘ (سانس کی بیماری پیدا کرنے والے ایک اور وائرس) سے متاثر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ویکسین دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے، تحقیق

اس صورت میں ’’پروبینیسڈ‘‘ نے ان تمام اقسام کے وائرسوں کو خلیوں میں داخل ہونے اور اپنی نقلیں تیار کرنے سے باز رکھا۔ یعنی یہ دوا ان تمام وائرسوں کا حملہ ناکام بنا رہی تھی۔بعد ازاں ان تینوں اقسام کے وائرسوں سے متاثر کیے گئے ہیمسٹرز میں ’’پروبینیسڈ‘‘ آزمائی گئی۔

جب ہیمسٹرز کو یہ دوا دی گئی تو ان میں کورونا وائرس سمیت، باقی دونوں اقسام کے وائرسوں کی تعداد بڑھنا بھی بند ہوگئی۔ یعنی یہاں بھی اس دوا نے ان وائرسوں کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔

ڈاکٹر رالف کے مطابق ’’پروبینیسڈ‘‘ کئی اقسام کے آر این اے وائرسوں کے خلاف مؤثر ہے لہٰذا امید ہے کہ یہ کورونا وائرس کے تمام موجودہ اور آئندہ ویریئنٹس کی روک تھام میں بھی یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ’’پروبینیسڈ‘‘ کی باضابطہ انسانی آزمائشیں نہ کرلی جائیں، تب تک اسے کورونا وائرس کے خلاف تجویز نہ کیا جائے۔تاہم انہیں امید ہے کہ کورونا وائرس کے علاج میں ’’پروبینیسڈ‘‘ کی انسانی آزمائشوں کی اجازت بھی جلد ہی مل جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button