بریکنگ نیوزبلاگز

خواتین اور بیڈ روم لائف

نکاح کا اصل مقصد صرف لڑکی کو اپنے گھر سے لڑکے کی جسمانی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہی رخصت کر دینا نہیں ھوتا بلکہ نکاح کا اصل مقصد ایسی ذہنی جسمانی سٹیٹ ھے

جس میں مرد اور خاتون آپس کے جائز تعلق کی بنا پر کھل کر باضابطہ طریقے سے اپنے جذبات کو ایک دوسرے تک جسمانی اور زبانی طور پر منتقل کر سکیں اس پروجیکٹ میں سب سے پہلا سٹیپ رومینس جسے foreplay بھی کہا جاتا ھے شامل ھے ، پہلا سٹیپ 👈 جس میں میاں بیوی رومینس میں مست ھو کر لذت کی آخری سٹیج تک پہنچ سکیں دوسرا سٹیپ 👈 مباشرت کے عمل سے گزریں تیسرا سٹیپ 👈 جس کے بعد اولاد کی نعمت سے مالا مال ھوا جا سکے ،، مشن مکمل ،، جذباتی رومینٹک سٹیٹ پیدا کرنا دونوں فریقین کا کام ھوتا ھے ناکہ صرف مرد ،،،،،، دونوں کو اپنے اپنے ازدواجی حقوق کو مد نظر رکھ کر ایک دوسرے پر جسمانی طور پر ٹوٹ پرنا چاھئیے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے تسلی بخش رزلٹ حاصل کر سکیں بیگم کے ازدواجی حقوق بیڈ پر شوہر سے مل سکیں جنکے بارے میں شوہر حضرات ناواقف ہیں صرف اپنی ضرورت کا مان رکھتے ہیں بیگم کو بیڈ پہ اسکا من چاہا سکون دیجئے تاکہ بیگم اپنی پوری توجہ اور مہارت اپکے بچوں اور گھر پہ دے سکے ۔

لڑکیوں کو یہ کبھی نہیں سمجھایا جاتا کہ نکاح کا مطلب انکے لئے بھی جسمانی ضرورت پوری کرنا ہی ھے ناکہ وہ اپنے گھر والے کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بیڈ پہ بستر کی طرح بچھی رہیں ۔ نکاح کا مقصد ھے دونوں فریقین باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کھل کر بے شرم ھو کر مہذب سوچ کو کچھ دیر کیلئے تکیے کے نیچے رکھ کر کھل کر رومینٹک بات چیت کریں ایک دوسرے کے جسم سے کھیلیں جسم کے مختلف حصوں کو پیار کریں ، چومیں ، ہلکا ہلکا رگڑیں ایک دوسرے کے لمس سے لذت حاصل کریں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جنون کی حد تک پہنچ جائیں مگر شرم گاہوں کو کچھ وقت کے لئے ایک دوسرے کے اندر پہنچنے سے روک کر رکھیں تاکہ ایک دوسرے کے جسم پر پیار اور محبت کی حد کی جا سکے ورنہ محبت بھری ایک گھنٹے کی فلم کا اختتام پانچ منٹ کے اندر ھو جائے گا بیگم بھی اپنے گھر والے کی شرم گاہ سے play کرے اسے نرم ہاتھوں سے سہلائے پیار کرے اس پہ تیل سے مساج بھی کر سکتی ھے جس سے اسکے شوہر کی شہوت بھی بڑھے گی اور شوہر اپنی بیگم کیلئے جذباتی بھی ھونگے اسی طرح شوہر بھی بیگم کی شرم گاہ کو ٹچ کرے سہلائے پیار کرے ہلکے ہاتھوں سے نازک جگہ کو رب کرے جس سے بیگم کی بھی شہوت عروج پہ جائے گی ،، اسی طرح جسم کے باقی حصوں پہ بھی ہاتھ سے سہلائیں مرد بھی اور بیگم بھی ،، بیگم کو شہوت اس کے سینے پہ ہاتھ پھیرنے ،، ہلکا ہلکا ٹچ کرنے ،، بار بار دبانے ،، ہلکا ہلکا مسلنے ،، چومنے ،، چاٹنے ،، چوسنے سے بہت جلدی محسوس ھوتی ھے جنکی بیگمات جلدی ایکٹو نہیں ھوتیں اور مردوں کی ٹائمنگ کم ھوتی ھے انکو کوشش کرنی چاھئیے کہ خود پہ کنٹرول رکھ کر بیگم کے سینے اور دوسری نازک جگہ سے کھل کر رومینس کریں تاکہ وہ جلدی ایکٹو ھوں اسی طرح بیگم بھی شوہر کے سینے پہ ہاتھ پھیرے اگر بال ھیں تو بالوں میں اگر بال نہیں ہیں تو پھر بھی شوہر کے سینے کندوں ،، کمر ،، گردن ،، شرم گاہ ،، ہپس ،، آنکھوں ،،کانوں کی لو earlobe اور چہرے پر خوشی اور جنون میں مست ھو کر ہاتھ پھیرے ہلکا ہلکا سہلاتی رھے چومتی رھے چاٹتی رھے ساتھ ساتھ دونوں فریق ایک دوسرے کو پورے جسم پہ بوسہ دیتے بھی رہیں اور لیتے بھی رہیں ،، سر کے بالوں میں دونوں فریقین ہلکا ہلکا مساج کریں بار بار سر کے بالوں میں ہاتھ پھیریں ،، گردن ،، چہرے ،، ہونٹوں ،، چھاتی ،، کانوں کی لو earlobe,, پیٹ ،، ٹانگوں ،، تھائس ،، شرم گاہ ،، پہ دونوں بار بار بوسہ کریں ،، مسلیں ،،سہلائیں ،،کھیلیں جیسے بچے کھیلتے ہیں اس سارے عمل کا سائنٹیفک نام رومینس ( foreplay ) ھے ۔

رومینس کے بعد مباشرت کرنے والا جوڑا کبھی اپنی بیڈ روم لائف سے غیر مطمعن نہیں ملتا کیونکہ انسانی سکن (skin) کی کشش اور طلب ہر انسان میں قدرتی طور پر موجود ھے انسان مر بھی جائے تب بھی یہ کشش قائم رہتی ھے اسی لئے جانور سوچ کے درندہ صفت مرد قبروں میں بھی خواتین کے ساتھ اپنی جسمانی ضرورت پوری کرتے دیکھے گئے ہیں استغفراللہ ۔۔

ہمارے معاشرے میں صدیوں سے یہی رواج اور مائنڈ سیٹ چلتا آرہا ھے کہ بیگم کا کام ھے صرف بیڈ پہ میٹرس کی طرح پری رھے باقی کام شوہر حضرات خود کر لیں گے تو جناب یہ غلط فہمی کو دماغوں سے نکال پھینکیں خواتین کو بھی اپنی جسمانی ضرورت پوری کرنی چاھئیے کچھ خواتین شرم کے مارے کچھ نہیں کرتیں یہ سوچ کر کہ جنسی عمل شوہر کا کام ھے اگر ہم نے کچھ کیا تو شوہر ہمیں بے شرم سمجھے گا ہم خود کو شرافت میں ہی رکھتے ہیں خاموش رھتے ہیں ورنہ شوہر کیا سوچے گا کیا کہیے گا کتنی آگ لگی ھے ،،،، ایسی خواتین بے وقوفی کی انتہا کرتی ہیں ،،،، ارے بی بی شوہر کے جسم پر چڑھنا بھی اپکا شرعی حق ھے ہاتھ پاوں چلانا اپنی مرضی کے مزے کرنا جیسے دل چاہے ویسا شوہر کے ساتھ کرنے کیلئے ہی اپکی شادی کی گئ ھے اس میں شرمانا کیسا ،، بے وقوف خواتین اسی سوچ کے ساتھ بیڈ پر بچھی رہتی ہیں کہ بیگمات تو صرف گدھوں کی طرح اپنے مالک کو منزل تک پہنچانے کے کام لائی جاتی ہیں ارے بی بی اپکو کس نے کہا آپ شوہر کو گدھے کی سواری دیں آپ کا شرعی حق ھے کہ شوہر آپکی جنسی ضرورت پوری کریں اپ ان کو باقاعدہ کہہ کر اپنا حق لے سکتی ہیں ہاتھ پاوں چلانا ،، لذت لینا ،، شہوت پوری کرنا آپکی فطرت میں بھی شامل ھے اسکا استعمال کرنا سیکھیں اور اپنے ذہن کو اپنی مرضی کے رومینس سے تسلی دیں سکون دیں تاکہ اپکا چڑچڑاپن ،، بے سکونی ،، اضطراب ختم ھو تاکہ سکون سے گھر اور بچوں کو چلا سکیں ۔ ارے اللہ کی نیک بندیو یہ جنسی طلب اپکے جسم کی فطرتی ضرورت ھے پہچانو اسکو ۔۔۔۔۔۔۔

رومینس مرد اور عورت دونوں کی فطرتی ضرورت ھے اسکے بغیر کی گئ مباشرت سے کبھی مکمل سکون میسر نہیں ھو سکتا ذہن اکیلی مباشرت کے بعد بھی بے چینی محسوس کرتا رھے گا جسم ٹوٹا ٹوٹا ادھورا پن محسوس کرے گا ۔ جن مردوں کو اپنی بیگم سے محبت نہیں ھوتی صرف اپنی ضرورت پوری کرنے کے چکر میں ھوتے ہیں جسے خود غرضی بھی کہتے ہیں خود غرض مرد کبھی foreplay میں حصہ نہیں لیتے صرف مباشرت کی حد تک اور چلتے بنے ۔ایسے شوہر حضرات اپنی بیگم کے قرض میں دبے ھوئے ہیں بیگم کے جذبات کا خیال نہ رکھنا محبت نہ دینا ازدواجیات کے منہ پر تھپڑ ھے جسکا حساب شوہر سے ہر حال میں لیا جائے گا کیونکہ نکاح دونوں فریقین کی جنسی ضرورت کو پوری کرنے کی وجہ سے سنت قرار دیا گیا عورت بھی وہی شہوت رکھتی ھے جو مرد کے اندر پائی جاتی ھے مگر بیشتر بیگمات کہنے سے شرماتی ھیں خود پہ جبر کرتی ہیں یہ شہوت جبرا روک روک کر اندر ہی اندر جذبات مار مار کر خواتین آخر ہسٹیریا جیسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ھو جاتی ہیں مگر کہنے سے ڈرتی ہیں کہ ہمیں بھی جسم چاھئیے لمس چاھئیے ہمارے جسم کو بھی جسم کی رگڑ کی ضرورت ھے مگر اس حقیقت کو صرف باشعور مرد ہی سمجھتے ہیں کیونکہ گدھے مرد تو پھر بیگمات کو گدھے کے طور پر ہی لیتے ہیں ۔۔۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button