بلاگز

ازدواجیات

نکاح دنیا کا سب سے خوبصورت رشتہ ! دو مختلف سوچوں کے مالک لوگ اللہ کے حکم سے ایک دوسرے پہ اپنے جسم و جاں کے ساتھ جائز ھو جاتے ہیں

ایک دوسرے کے عیب کمزوریوں خوبیوں خامیوں اچھائیوں برائیوں کے راز دان بن جاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کا لباس ھوتے ہیں اور لباس جسم کو چھپانے کی زمہ داری رکھتا ھے

ناکہ اسے دوسروں کے سامنے ننگا کرنے کی ۔ جو لباس اپنے جسم کو دوسروں کے سامنے ننگا کرے مطلب اس لباس کو اللہ کی طرف سے ملنے والی عزت راس نہیں آئی اللہ پاک نکاح کے ذریعے مرد کو عورت اور عورت کو مرد کی عزت و ناموس سے جوڑ دیتا ھے اور اس عزت کی حفاظت کرنا بھی دونوں فریقین پہ فرض ھے حفاظت میں کوتاہی اللہ اور فرشتوں کی لعنت کا سبب بنتی ھے ۔

اب چلتے ہیں نکاح کے مراحل کے بعد بیڈ روم مسائل کی طرف یہ مسائل شائد ہی کسی ایک سے دس عدد جوڑوں میں دیکھنے سننے کو نہ ملتے ہوں لیکن اکثریت انہی مسائل کو بھگت رہی ھے اور بھگتی رھے گی ۔

🔮سوال ۔ بیگم کو انٹرکورس کیلئے بلایا جائے تو بیگم سو بہانے بناتی ھے ۔ مرضی ھو تو بات کرے گی ورنہ سڑا ھوا لہجہ تھما دیتی ھے ساتھ نہیں دیتی ۔

🔮جواب شکوہ ۔

جناب کوئی بھی سمجھدار خاتون اپنے شوہر کے پیار کو کبھی بغیر شرعی عزز شٹ اپ کال نہیں دیتی ۔ شوہر اگر بلاتا ھے تو یہ اسکا حق ھے اس نے نکاح کیا ھے نکاح اسی لئے کیا جاتا ھے کہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ اپنے جزبات ،احساسات ، فرسٹریشن، جنسی تکلیف اپنے سارے دن کی تھکاوٹ اپنا وحشی پن اپنی ضرورت کو کھلم کھلا بغیر ڈر خوف کے شیئر کیا جائے اتارا جائے ساتھی کا خوبصورت ساتھ اور اسکی ذات باعث تسکین ثابت ھو ناکہ اپنے ساتھی کی بے رخی لڑاکا پن مطلب کی یاری مطلب کی بات چیت اسکے بعد ہمسائے گیری والا تعلق استوار ھو جائے یہ اجنبی پن کا سلسلہ صرف عورت کا داو پیچ نہیں بلکہ مرد بھی بہت بار اپنی اہمیت جتانے کیلئے گھومتی ھوئی بال کرواتا ھے مگر مانتا نہیں مرد ھمیشہ کی طرح اپنی ٹانگ عورت کے اوپر رکھ کر سوتا ھے اور متمعن رھتا ھے ۔

_♦️

مرد کوئی مشین نہیں پتھر نہیں جو سنتا نہیں یا سمجھتا نہیں سارے پرزے اسکے بھی عورت کی طرح جینون ھوتے ہیں لیکن مرد باقاعدہ لفظوں کے سہارے سے دوسرے کو سمجھنے اور فیڈ بیک دینے کی اہلیت رکھتا ھے جبکہ عورت جسمانی حرکات ، چہرہ شناسی میں بھی کئ جگہ ماہر پائی گئ ھے ۔ ھمارے معاشرے میں بچپن سے مرد کی تربیت بے نتھے لاپرواہ بیل کی طرح کی جاتی رھی ھے اس کو سر پہ سنمبھال کے رکھا جاتا ھے اور آگے بھی ایسا ہی چلتا رھے گا بیٹیوں کو بچپن سے کام کاج کے طریقے سمجھائے جاتے ہیں اور بیٹوں کو چھوٹے ہوتے سے ہی باپ بنا دیا جاتا ھے گھر کی گورنمنٹ چلانے کا حقدار بیٹا ھے وغیرہ وغیرہ
مختصر یہ کہ بیٹے کی تسبیح ہمارے معاشرے کے ہر گھر کے فرد کی زبان پہ ملتی ھے ۔ اسے یہ نہیں سیکھایا جاتا بہنیں بھی بھائیوں پہ حق رکھتی ہیں ماں بہن کی طبعیت خراب ھو تو بیٹا بھائی بھی پاوں اور سر دبا سکتا ھے والد والدہ بہن آفس یا بازار سے گھر آئے تو بیٹا بھائی بھی پانی کا گلاس پلا سکتا ھے بہن کو اگر کسی چیز کی ضرورت ھے تو بھائی اسے اپنی جیب سے بھی کچھ لا کے دے سکتا ھے ۔ لڑائی میں سوری اگر بہن کہ سکتی ھے تو بھائی پہ بھی لازم ھے وہ غلطی مانے معذرت کرے ۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی بچوں کی تربیت کا ماحول وجود میں آتا ھے جو مرتے دم تک ساتھ چلتا ھے ۔ اب ایسے مرد جن کو نہ خود پتا نہ پتا لگنے دیا گیا بہن والدہ کی تکلیف میں کچھ انکا احساس بھی کرنا ھے طبعیت کا بھی پوچھنا ھے دوائی کھانے پینے کی خبر بھی رکھنی ھے بیشتر گھرانوں میں بھائی ، بیٹوں کو کسی بھی معاملے میں معمولی سی بھی تکلیف نہیں دی جاتی بلکہ ماں بہن باپ کی کسی تکلیف سے بیٹے بھائی کا واسطہ پرنے ہی نہیں دیا جاتا بچپن لاپرواہی میں گزرتا ھے جبکہ بیٹیاں سب گھر کے افراد کے کام کرنے کی پابند ھوتی ہیں یہی پابندیاں انکے اندر احساس پیدا کرتیں ہیں پرواہ کے طریقے سیکھاتی ہیں اور مرد بچپن سے پکی پکائی کھیر کھانے کا عادی بنا دیا جاتا ھے ۔ جب بات آتی ھے بیوی کی تو بیوی جب اپنے ساتھی کا اپنے ساتھ ایسا لاپرواہ رویہ دیکھتی ھے تو سڑ کے رہ جاتی ھے کیونکہ کوئی بھی لڑکی ھو اپنے شوہر کی پریکٹیکل محبت پرواہ رومینس اسکی طرف سے ملنے والے مان کی بھوکی ھوتی ھے شرم میں بھی رہتی ھے مگر اپنے شوہر کی طرف سے ملنے والے اعتماد بھروسے کی راہ تکتی ھے جھجک میں رہتی ھے خود کچھ نہیں کہتی سننے کے انتظار میں پہلے دن اور پھر رات کا انتظار کرتی ھے شادی کے شروع میں وہ شوہر کی ہر خواہش ہر بات کا احتمام بھی کرتی ھے اور احترام بھی مگر کچھ عرصے کے بعد باغی پن سامنے آتا ھے اسکی وجہ یہی لاپرواہی ھے جو مرد کی طرف سے بیوی کو ملتی ھے مرد یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا اسکی پرورش اسی طرح سے کی گئ ھوتی ھے دوسری بات جس گھر میں ماں کی حکمرانی ھو اور ماں کی تربیت میں شعور کی بجائے جہالت بہ رہی ھو اس گھر کے بیٹے بے بہرہ اور خالی دماغ کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں بے شک جنت والدین کی خدمت میں ھے مگر کچھ جاہل غیر تربیت یافتہ مائیں اپنی حکمرانی میں بیٹے کو صرف ماں کی ہر جائز ناجائز بات کی فرمانبرداری پہ جنت ملنے کی ایموشنل بلیک میلنگ کے ساتھ بیوی کو چپل کے نیچے لگا کے رکھنا مرد کی مردانگی کے نام پہ مائنڈ واش کیا جاتا ھے اور خالی دماغ اس پڑھائی گئ پٹی کو طوطے کی طرح رٹ لیتے ھیں ۔

کچھ اسی طرح کی جہالت بھری پٹیاں لڑکی کے گھر اور سہیلیوں کی طرف سے بھی نئی دلھن کو بطور سلامی ملتی ہیں

بیوی کو گھر لانے کے بعد گھر والوں کے سکھائے گئے سبق پر چل کر مرد دوغلے پن کا شکار رہتا ھے اپنی خوشی مرضی کو اپنے تک رکھتا ھے ڈرتا ھے اگر بیوی سے کچھ دیر ہنس کے بات ھو گئ ماں جی کی نظر پر گئ تو ماں بہنیں مجھے تعنے دیں ماریں گیں ارے بیوی کے نیچے لگ گیا ۔ دوسری جگہ مرد کا مائنڈ سیٹ اس بات پہ بھی کیا جاتا ھے بیوی سے زیادہ فری ھوا تو بیوی سر پہ چڑھ کے ناچے گی ۔ مرد ان دو نکاتی قوانین میں پھس کر کسی ایک صورت حال کا بھی مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رھتا جبکہ بیوی اپنے لئے پرواہ رومینٹک نظر ،خوبصورت ڈائیلوگ ڈلیوری کچھ پیار محبت کچھ ہاں میں ہاں ملنے کی خواہش امید دل میں سجائے دن رات مختصر بات کے ساتھ گزارتی رہتی ھے شوہر کی سرد مہر زبان صرف کمرے میں جنسی ضرورت کے وقت بیوی کو بیوی سمجھنے اور شوہر کی اس خود غرض حقیقت کو دیکھ دیکھ ڈپریشن میں مبتلا رہتی ھے ۔ شوہر کے گھر والوں کی کوشش ھوتی ھے میرے بیٹے سے کم و بیش ہی بہو سے بات چیت ھو اکثر گھروں میں شروع کے دنوں میں میاں بیوی کو رات کے علاوہ کمرہ بند کرنے کی اجازت نہیں ملتی اس قدر گھر والے چوکیداری کی ڈیوٹی دیتے ہیں سارا دن بہو کام کاج میں مصروف رھے گی بیٹا اگر گھر جلدی بھی آجائے اسکے باوجود اسے بہو کے پاس پانچ منٹ سے زیادہ کھڑے ھونے کی عادت نہیں ھونے دی جاتی رات ھونے تک بیٹا گھر والوں کی حکومت میں بیٹھا تھکتا رھے گا سارے گھر والوں کے ساتھ خود کو تھکائے گا اس کے بعد اسے اپنے کمرے میں جانا یاد آئے گا ۔

میاں بیوی سارا دن اسی وقت کے انتظار میں رھتے ہیں جب رات کو کمرے میں داخل ھوتے ہیں اس وقت عورت بھی تھکی ھوتی ھے وہ بھی چاھتی ھے محبت بھری بات چیت کی جائے جبکہ شوہر بات چیت کرنے کی بجائے فورا جنسی عمل کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ھے عورت کو جنسی عمل تک پہنچنے کیلئے پیار بھری باتوں کی ضرورت پرتی ھے جبکہ مرد عورت کو دیکھ کر ہی تیار ھو جاتا ھے یہی سلسلہ عادت بنتا چلا جاتا ھے یہیں سے ازدواجی معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ھوتی ہیں شادی کے شروع میں میاں بیوی کی آپس میں بات چیت کوئی ھونے نہیں دیتا یا پھر کئ جگہ میاں بیوی خود بھی ایک دوسرے سے جھجک میں ہی رھتے ہیں کھل ڈل کے گپ شپ کرنا ہر بات شیئر کرنا بہت سے شادی شدہ جوڑوں کو غیر مناسب سی بات نظر آتی ھے کبھی انہیں خود بھی وقت نہیں ملتا اور کبھی وقت دیا بھی نہیں جاتا کہ میاں بیوی آپس میں mutual انڈرسٹینڈنگ قائم کر سکیں communication gape پہلے دن سے ہی میاں بیوی میں قائم دائم رکھنے کی پوری کوشش کی جاتی ھے اور بہت سی جگہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ لمبی گفتگو کو ترجیح نہیں دیتے آپس میں لمبی بات چیت نہ ھونے کی عادت دونوں میں برقرار رہتی ھے جس کی وجہ سے فونوں ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر ہی رھتے ہیں اور بعض گھروں میں میاں بیوی کو سارا دن اکیلا نہ چھوڑنے کی کوشش کو کافی عرصے تک چلایا جاتا ھے تاکہ ھمارا بیٹا ھم سے دور بیوی کی گود میں ہی نہ لیٹا رہ جائے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ھے نہ مرد عورت کو سمجھ پاتا ھے نہ عورت مرد کی سوچ تک پہنچ پاتی ھے دونوں اپنی اپنی جگہ مسائل کا شکار بننا شروع ھو جاتے ہیں ۔ایک دوسرے سے بدو بدی بد گمان ھوتے رھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پتھر دل میں گھر بناتے چلے جاتے ہیں نہ دونوں ان پتھروں کو صاف کرتے ہیں نہ گھر والے کرنے دیتے ہیں بلکہ ایک وقت آتا ھے کنکڑیاں ایک پہاڑ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں رشتے میں آئے پہاڑ کے ساتھ میاں بیوی بس ایک دوسرے کیلئے صرف جنسی ضرورت پوری ھونے اور کرنے کے لیول تک کا ہی سفر طے کر پاتے ہیں اور وہ بھی وقت ، موڈ اور ماحول کے مرحون منت رہتا ھے یہ حالات بیوی کو دن بہ دن سڑیل اور شوہر کے گھر والوں سے بد گمان کر دیتے ہیں بیوی کی شکل بھی خراب ہوتی ھے اور عقل بھی جب ایسی صورت حال کو لڑکی اپنے گھر والوں یا سہیلیوں سے ڈسکس کرتی ھے تب اسے سمجھانے اور مشورہ دینے والے 400 خود کو سیانہ کہنے والے لوگ کھڑے ملتے ہیں اب آپ خود سوچیں ایک دماغ اور 400 لوگوں کی مختلف زبانیں اس بیوی کے دماغ کا کچومر بنا کے رکھ دیتے ہیں دوسرے مشوروں کے ساتھ شوہر کو جنسی طور پہ تنگ کرنا بھی شامل کیا جاتا ھے ۔ یہی حالات اور واقعات میاں بیوی کے ازدواجی معالات میں لذت کشش ٹائمنگ احتمام احترام ایک دوسرے کے ساتھ باہمی لگاو پیار محبت ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔

_♦️

کیا مرد نے یہ بات کبھی سوچی ھے بیوی کو بلایا جائے وہ منہ کیوں بناتی ھے سیدھے منہ بات کیوں نہیں کرتی ؟ جبکہ مرد عورت کا ازدواجی رشتہ ایسا ھے کہ عورت ھو یا مرد اذدواجیات سے ملنے والا سکون مزہ دونوں کیلئے اہمیت رکھتا ھے کیا وجہ ھے جو عورت انکار کرتی ھے دونوں ایک دوسرے کی ضرورت کے وقت ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے جبکہ میاں بیوی کی محبت ایک دوسرے کے نازک لمحوں میں ساتھ دینے کا ہی نام ھے ۔ مگر ان بدگمانیوں کے ساتھ دونوں میں صرف اپنی اپنی خوشی کا حصول ہی دونوں کےلئے اہم رہ جاتا ھے ۔

دوسری جگہ جبکہ اگر مرد گرل فرنڈ کے ساتھ ایسے تعلقات بناتا ھے تو وہ کبھی منہ نہیں بناتی بلکہ اسکی کوشش ھوتی ھے میں اسکو پیچھے لگا کے رکھوں مرد کی ہر بات مانوں اس وجہ پہ مرد نے کبھی غور کیا ھے ؟ نہیں کیا ۔
جس انداز اور طور طریقے سے مرد گرل فرنڈ کو ٹائم دیتا ھے جیسے اسے پیمپر کرتا ھے جیسے اسکی تعریفوں کے پل باندھتا ھے جس کوالٹی کا رومینس ڈائیلوگ ڈلیوری گرل فرنڈ کے ساتھ چلتا ھے کیا وہ سب بیگم کو مہیا کیا جاتا ھے ؟ ؟ نہیں جناب ایسا ممکن ہی نہیں ھے
__♦️

مرد نے صرف اس بات کو پکڑا بیگم منہ بناتی ھے سڑی ھوئی بولتی ھے مرضی سے ٹائم نہیں دیتی اس لئے دوسری بیوی یا گرل فرنڈ ھونی چاھئیے ۔ارے جب آپ لوگ پہلی گھر کی عورت کو اپنے پیچھے لگانے کی اہلیت نہیں رکھتے تو دوسری کریں یا تیسری کچھ دن کے بعد دوسری یا تیسری بیگم بھی ایسے احمق مردوں کو سڑے ھوئے منہ کے ساتھ ہی انکار کرے گی ۔

بیگم کے ساتھ اپنے بولنے بات چیت کرنے کے لہجے پہ غور کیجئے کیا آپ نے اسکی بنیادی ضروریات اسکے کہے بغیر پوری کی ہیں اسکا پہننا کھانا پینا کبھی کبھی اسکی خوشی کیلئے بھی احتمام کرنا ۔
کیا کبھی اس سے لمبی چوری محبت بھری بات چیت کا موڈ بنایا ھے جیسے گرل فرنڈذ کیلئے لمبی لمبی ہانکی جاتی ہیں کیا بیوی کو اس قسم کا مان ایسے چکنے لفظوں اور سٹائل میں چھپی محبت کا چہرہ کبھی کروایا ھے ؟
جب تک آپس میں اعتماد اعتبار باہمی لگاو عروج پہ نہیں ھوتا بیڈ روم لائف کبھی پر سکون نہیں رھتی ۔ ایک بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ ساس سسر باقی افراد سب کی سنتی ھے اور کام کر کے دیتی ھے ۔ کبھی شام کو واپسی پہ اسکے لئے کوئی خوبصورت الفاظ زبان پہ لے کر گھر میں گھستے ہیں ؟ مرد سمجھتا ھے ھم کام سے آئیں ہیں عورت تو گھر بیٹھی نوکرانیوں داسیوں پہ حکم چلاتی رھتی ھے کرنا کیا ھوتا ھے اس نے ! یہی مرد کا اپنے گھر والوں دوست احباب کی طرف سے مائنڈ سیٹ کیا جاتا ھے ! مرد چاھتا ھے گھر گھستے اسکی ٹہل سیوا شروع کر دی جائے کیا حکم ھے میرے آقا کی بنیاد پہ عورت ہاتھ باندھ کر کھڑی رھے مرد کی ہر ضرورت اسکے مطابق پوری ھو مرد اشارہ کرے کمرے میں آجاو تو چہرے پہ خوشی سجائے عورت ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیئے دوڑتی چلی آئے دل بہلانے والے سارے ڈیزائن سٹائل بنائے ۔شہوت لانے والے کارنامے دکھائے ٹائم بڑھانے والی کرتوتیں اور کشش پیدا کرے کیونکہ ھم شوہر شریف ہیں نکاح کر کے عورت کو اسی کام کے لئے لائیں ہیں ھماری جنسی خواہش پوری کرے چاھے اسکی خواہش ھو یا نہ ھو ھمیں ضرورت ھے ۔

تو جناب شوہر حضرات سے مودبانہ گزارش ھے بیگم اگر انہی مندرجہ بالا اوصاف سے بھرپور چاھئیے تو بیگم رکھتے کیسے ہیں یہ پہلے سیکھیں ۔ جو لوازمات گرل فرنڈز کے ساتھ استوار کئے جاتے ہیں انکا اگر 50 فیصد بھی اپنی ذوجہ کے نام کریں تو گارنٹی سے کہتی ھوں عورت سے غلامی کروائی جا سکتی ھے ۔اپنی من مانی کی جا سکتی ھے ۔

سب کی بات نہیں کی پٹی پڑھے ھوئے احمق مرد حضرات کے نام مختصر پیغام ہے اگر آپ گھر سے باہر گھر والوں کیلئے کماتے ہیں تو اپکی بیگم بھی اپکا گھر اپکےگھر والوں اور آپکے بچوں کیلئے دن رات ایک کرتی ھے اتنے اعتماد بے فکری کے ساتھ کیا مرد کسی غیر کے سپرد اپنے گھر اور بچوں کو دے کر اپنے کام پہ جا سکتا ھے کسی غیر کے حوالے سارا گھر کر کے مرد باہر ایک منٹ بھی سکون سے نہیں گزار سکتا ھے ۔
ایک بچے کو باپ سارا دن سنمبھال کے دکھائے بچے کا کھانا پینا نہانا دھونا بڑوں کا کھانا پکانا بچے کے لاڈ شور بیماری سب کچھ ایک دن مینج کرکے دیکھیں گھر کے ہزاروں الٹے سیدھے کام ایسے ھوتے ہیں جو نظر نہیں آتے کیونکہ مرد کے گھر پہنچنے سے پہلے اسکو عورت مینج کر چکی ھوتی ھے سب کام اگر شوہر کو ایک دن بھی کرنے پریں تو لگ پتا جائے کہ باہر کا کام مشکل ھے یا پھر گھر اور بچوں کو چلانا ۔

مرد اپنے کاروبار نوکری چاکری دکان وغیرہ کو تو کام سمجھتا ھے مگر عورت کی زمہ داری دن رات کی بھاگ دوڑ کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتا گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ بیگم کو شوہر ساس سسر سے کافی سڑا ھوا میٹیریل بھی سننے کو ملتا ھے کیونکہ ھم نکاح کر کے لائیں ہیں تیری ایسی کی تیسی !
_♦️

جناب عورت بھی چاہے جانے کی چاہ رکھتی ھے عورت بھی خوبصورت لفظوں کے انتظار میں رھتی ھے عورت بھی تھکتی ھے عورت کے بھی جزبات مجروح ھوتے ہیں عورت بھی ازدواجی معاملات کو پورا کرنے کی خاطر ہی نکاح کرتی ھے عورت بھی گھر کو گھر سمجھ کر دن رات اپنی زمہ داری پوری کرتی ھے اتوار کی چھٹی مرد کو ھوتی ھے عورت کو نہیں عورت بھی اپنے بیڈ پہ اپنے شوہر سے رومینس کی طلب گار ھوتی ھے مگر فرق اتنا ھے وہ کہتے شرماتی ھے زبان بند رکھتی ھے اور یہ وہ جان بوجھ کر نہیں کرتی یہ فعل یہ نخرے یہ جھجک نزاکت اسکا قدرتی زیور ھے کیونکہ شروع شادی میں جب میاں بیوی کی آپس میں کھل کھلا کے بات چیت نہ ھو تو وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی کشش کم ھوتے ختم ھو جاتی ھے لمبی چوری محبتوں کا استقبال شادی کے شروع دنوں میں تو کیا جا سکتا ھے لیکن ایک روکھی سوکھی زندگی کے کچھ عرصے کے بعد اس اذدواجی درخت کے پتے پیلے اور خشک ھو کر جھڑنا شروع ھو جاتے ہیں نہ پانی لگایا جاتا ھے نہ کھاد ڈالی جاتی ھے نہ اسکی دیکھ بھال ھوتی ھے آنا اکڑ اپنا حق دل میں سمیٹے مطلب سے مطلب رکھتے ھوئے بس میٹھا تازہ پھل کھانے کا انتظار کیا جاتا ھے تو جناب آپ غلطی پہ ہیں آپ نے سوائے کمانے کے اپنے گھر میں لگائے اس درخت کا کتنا خیال رکھا جو مطلب کا پھل نہ ملنے پہ شکوے شکایتیں شروع ھو گئے ایسی خزان کی حالت کو بھی قبول کیجئے جو آپکے اپنے احمکانہ رویوں کی بدولت آج آپکے سامنے کھڑی ھے جب دلوں میں میل بھر جائے اس وقت محبت بھری بات سوچنا بھی درکنار لگتا ھے باقی بچ گیا صرف جنسی ضرورت کا پورا کرنا تو پھر وہ اسی طرح ہی ٹوٹی پھوٹی پوری ھوتی رھے گی کبھی ھو گی تو کبھی منہ بھی چرائے گی برداشت کرنا پرے گا آپکے اپنے ہاتھوں کی کھیتی ھے ۔
_♦️

_♦️

اس شروع سے چلتی ھوئی خزان کی صورت حال سے مرد بھی تنگ پر جاتا ھے اور عورت بھی دونوں کیلئے بھی صرف اپنی چاہت ہی چاہت رہ جاتی ھے کیونکہ دونوں میں انڈرسٹینڈنگ پہلے دن سے ہی نہیں ھو پاتی قصور دونوں کا نہیں ھوتا بلکہ گھر والوں کا ھوتا ھے جو اپنے ذاتی مقاصد کی بنیاد پہ بیٹے کا گھر اندر سے جلا کے رکھ دیتے ہیں یا پھر بعض جگہوں پہ مرد عورت دونوں ہی ایک دوسرے کو زہنی طور پہ قبول نہیں کر پاتے اسکے پیچھے بھی بہت سے عوامل پنہا ھوتے ہیں جن کو کبھی ڈسکس کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ھے یہ چھپے عوامل وقت کے ساتھ جوان ھوتے ہیں اور میاں بیوی کو ایک دوسرے سے ایک چھت کے نیچے دو اجنبیوں کی طرح رھتے نظر آتے ہیں اسکی اگ صرف اور صرف میاں بیوی کو ہی جلاتی ھے باقی کسی تیسرے کو کوئی فرق نہیں پرتا جہاں دو لوگ ذہنی طور پہ ایک دوسرے سے اجنبی ھوں وہاں رولا اپنی اپنی ضروریات اور ملکیت کا رہ جاتا ھے مرد سمجھتا ھے مجھے انٹرٹینمنٹ فراہم کرنا بیوی کا فرض ھے ۔ عورت بھی اپنی مرضی ٹھوکتی ھے تنگ کرتی ھے مرد سے محبت نہیں اسے پیچھے لگانے یا فرار کے ٹوٹکے چلاتی ھے ۔

مرد کو اپنی جنسی خواہش کا جتنا احترام اور اسکو پورا کرنے کی جتنی چاہ ھوتی ھے کیا اپنے نکاح میں لائی گئ عورت کی بھی ویسی فکر اور چاہ کرتا ھے ۔؟ ؟
اجی نہیں کرتا اگر کرتا ھوتا تو ایسا رولا ہی نہ ھوتا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button