صحت

آئس نشہ کیا ہے؟ اس کے نقصانات کیا ہے؟

استعمال میں اضافہ ھوتا جا رھا ھے آئس نشہ یا کرسٹل میتھ ایک مخصوص وقت کیلئے جسم کو جگانے والی ایکٹو کرنے والا ایک کیمیکل

ایک وقت میں لی جانے والی اسکی مقدار یعنی چائے یا کافی کی طاقت کو 1000 میں ضرب دیا جائے تو کچھ حد تک آئس نشے کے زہریلے اثر کو محسوس کیا جا سکتا ھے ۔

آئس نشہ کیا ہے؟

آئس نشہ ایک میتھ ایمفٹامین یا ایفیڈرین نامی کیمیکل سے تیار کی جاتی ہے ایفیڈرین پیناڈول ، پیراسٹامول ، ویکس اور نزلہ زکام کی ادوایات میں استعمال کی جاتی ہے ایک تو براہ راست ایفیڈرین یا میتھ ایمفٹامین حاصل کرنا یا پھر آئس یا کرسٹل میتھ کیلئے استعمال کرنا
دوسرا طریقہ مارکیٹ سے زائد المعیاد ادوایات پیناڈول ، پیراسٹامول ، ویکس ، نزلہ زکام کی ادوایات لینا اور ان سے ایفیڈرین اور ڈی ایکس ایم نکال کر ان سے آئس ڈرگ تیار کی جاتی ہے

یہ باریک شیشے عموما بلب کے شیشے سے گزار کر حرارت دی اور لی جاتی ہے جو سونگھنے اور سانس کے ذریعے استعمال کی جاتی ہے
انجکشن کی صورت میں بھی لگائی جاتی ہے

یہ چونکہ ایک کیمیکل سے تیار کی جانے والی ڈرگ ہے جو باآسانی کہیں بھی تیار کی جا سکتی ہے کیونکہ ہیروئین ، افیون ، چرس وغیرہ جو کاشت سے لیکر اسمگلنگ تک مشکل اور دشوار مراحل سے گزر کر استعمال کرنے والے تک پہنچتی ہیں جبکہ یہ زہر اسانی سے کہیں بھی مل جاتا ھے لیکن بے حد نفسیاتی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ھے کیونکہ یہ نشہ غیر قدرتی طاقت کو پیدا کرتا ھے جس سے نیند کا سسٹم مردہ ھو جاتا ھے سوچ ، یادداشت کی خرابی اور دماغی مسائل بہت تیزی سے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

استعمال کا مقصد :-
اعصابی نظام سنٹرل نروس سسٹم کو کچھ وقت کیلئے حد سے زیادہ ایکٹو کر دیتا ہے دماغ میں موجود کرنٹ کے لیول کو بڑھا دیتا ھے جس کی بدولت ایک نشہ کرنے والا 24 سے 48 گھنٹے تک باآسانی جاگ سکتا ہے نشے کی حالت میں نیند بالکل نہیں آتی اور کچھ گھنٹوں کیلئے دماغ بہت زیادہ تیزی سے کام کرنا شروع کردیتا ہے کیونکہ یہ زہر نیورانز کو overactive کر دیتا ھے ۔

🕳️ نشئ کی علامات

زیادہ دیر تک کچھ نہ کھانا ، بہت زیادہ پرامید رہنا ، تیزی سے بولنا ، یادداشت کا کچھ دیر کیلئے تیز ھو جانا ، جلدی جلدی سبق یاد ھونا ، مباشرت کے ٹائم کو مصنوعی طور پر بڑھانا ، خود کو دوسرے سے پرفیکٹ اور ذہین سمجھنا ، بہت سخت کام کرنے کے بعد بھی تھکاوٹ محسوس نہ ھونا ، گیمز میں پھرتی دکھانے کیلئے بھی اس زہر کا استعمال کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب نشے کے بعد کی حالتوں میں سے ایک حالت ھے جس کو دیکھ کر نوجوان لڑکے لڑکیاں خود کو ٹارزن کی اولاد سمجھنے لگتے ہیں لیکن پریشانی اس بات کی ھے کہ یہ نشہ ایسے لوگ زیادہ کر رھے ہیں جو کالج یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کر رھے ہیں اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ یہ نشہ کچھ گھنٹوں کے لئے تو اُنکو اُنکی من چاہی دنیا میں لے جاتا ھے لیکن اس نشے کے بعد کے نقصانات پر اس اعلی تعلیم یافتہ طبقے کی اعلی تعلیم نے کوئی نظر نہیں ڈالی ، مطلب ھماری اگلی پڑھی لکھی جاہل نسل خود کو نشے کی خرافات میں ڈال کر اپنا مستقبل سنوارنے کی ناکام کوششوں میں ھے شائد کچھ گھنٹوں کی ملنے والی خوشی نے انکو اپنے تاریک مستقبل کی روشنی کو بھانپنے سے روک دیا .. میں تو کہوں گی ایسے عقل کے اندھوں کو کوئی نہ روکے کرنے دو انکو جتنا نشہ یہ کرنا چاھتے ہیں انکو انکے حال پہ چھوڑ دیا جائے کچھ ھی عرصے کے بعد اس نئی پڑھی لکھی لبرل اور نون لبرل جاہل قوم کی قسمت میں گٹنوں میں منہ دے کر رونا لکھا ھے جب انکی بے وقوفیوں کے رنگ انکی اپنی ذات کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں انکے سامنے اُنہی کو منہ چڑاتے نظر آ رھے ھوں گے مگر اس وقت بہت دیر ھو چکی ھو گی …

🕳️نشے کے جسم پر منفی اثرات:-

1- اعصابی نظام میں موجود پیغام رساں ایجنٹ نیورون کا خاتمہ یا ان کی تعداد اور نیچرل سسٹم کو خطرناک حد تک کم یا غیر معمولی لیول تک پہنچانا ۔

2- The Hippocampus damage
پرانی باتوں یا چیزوں کی یاداشت ختم اور نئی چیزوں کو سیکھنے کے عمل کو متاثر کرنا شورٹ ٹرم میموری کارڈ کرپٹ ھو جاتا ھے ۔

3- The Ctriatum damage
جسمانی حرکات کے جاننے کے عمل کو تباہ کر دیتا ھے ۔

4- Prefrontal cortex damage
حساس حصہ ہے جو پیچیدہ مسائل حل کرنے اور توجہ حاصل کرنا اس کا کام ہے اس سسٹم کی تباہی شروع ھو جاتی ھے ۔

🕳️نشے سے پیدا ھونے والی نفسیاتی بیماریاں –

1_وہم کی بیماری
2_ایک بات کو بار بار دہرانا
3_ کسی کام یا بات پہ توجہ نہ دیے پانا
4_حافظہ تباہ ہونا
5_فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو دینا
6_ وزن میں بہت زیادہ کمی ،
7_ خود کی ذات پہ اور دوسروں پر تشدد کرنا
8_قدرتی نیند کا ختم ھو جانا

ظاہری شکل اور کارکردگی میں اضافہ کرنے والی دوائیں اور نشہ جسم میں ہارمونز کی معمول کی پیداوار میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ، جس سے جسم کا بیشتر قدرتی نظام کام کرنا بند کر دیتا ھے اور جسم میں ایسی تبدیلیاں پیدا ھونا شروع ھو جاتی ہیں جن کا دوبارہ قدرتی موڈ پہ واپس آنا بے حد مشکل ھو جاتا ھے۔ ان تبدیلیوں میں سب سے خطرناک مردوں میں بانجھ پن اور خصیوں کے سکڑنے کے ساتھ ساتھ جسمانی بالوں کی نشوونما اور خواتین میں مردانہ طرز کا گنجا پن ماہواری میں مختلف اقسام کی دشواری شامل ہیں ، پینک اٹیک پرنا ۔ اسکے ساتھ ساتھ قدرتی سیکس کی لذت اس جسم کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتی ھے جب تک نشہ نہیں تب تک مزہ نہیں

پاکستان کے اندر اس لعنت میں تقریبا 20 سے 25 فیصد یونیورسٹیوں کالجز اور سکولز کے طلباء و طالبات مبتلا ہیں جن میں لڑکیوں کی خاصی تعداد شامل ہیں
صرف پشاور کے اندر تقریبا 20 ہزار لوگ آئس نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں
آئس نشے کے کاروبار میں ایک پورا مافیا ملوث ہے جو کچھ مقدار افغانستان اور ایران سے اسمگل کر رہے ہیں جو زیادہ تر ایکسپائر شدہ ڈرگز کی صورت میں ہے

پاکستان کے تعلیمی اداروں کے اندر نشےکی بڑھتی ہوئی شرح کی بدولت حکومت نے تعلیمی اداروں کے اندر بچوں کا آئس یا ڈرگز ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس ادارے کے بچے اس لعنت میں پائے گئے ان کو بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ یہ اعلان سنا تو تھا مگر ابھی تک سوچ کی حد تک ہی محفوظ کر دیا گیا ھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button