بلاگزسائنس و ٹیکنالوجی

عدم سے وجود کائنات۔ کیا یہ ممکن ہے؟

صفر توانائی کے ساتھ کامپیکٹ یونیورس۔ شہ مات

کائنات کے عدم سے وجود میں دلچسپی اسی وجہ سے ہے کہ فرسٹ کاز کے سوال سے چھٹکارہ ممکن ہو لیکن پچھلی گفتگو میں آپ نے دیکھا کہ یہ سوال جوں کا توں موجود ہے۔ چنانچہ کوانٹم تھیوری کے قیاسات میں پناہ لینے کے باوجود لارنس اپنے اصل مقصدمیں تو پہلے مرحلے میں ہی ناکام ہو چکے ہیں۔ شاید اسی لیےفلاسفی آف سائنس کے ماہر جان ہورگن سائنٹفک امیریکن کے ایک آرٹیکل میں (حوالہ نیچے موجود ہے) یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ
“Is Lawrence Krauss a Physicist, or Just a Bad Philosopher?”
اس بات سے قطعہ نظر کہ وہ کیسے فلاسفر ہیں ابھی ہم یہ دیکھیں گے کہ فزکس کے قوانین کی وجہ سے دوسرے منظر نامے میں لارنس کی پیش کی گئی کائنات کی تخلیق ناممکن ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ لارنس نے کوانٹم فلکچوئیشن کی وجہ سے کامپیکٹ کلوزڈ کائنات کے پیدا ہونے کی بات کی جسکی کل توانائی انکے مطابق بلا شک وشبے کےصفر ہوتی ہے۔ ہم نے اس پرتفصیلی گفتگو پہلے بھی کی تھی کہ رچرڈ شوئن اور شنگ ٹنگ یاؤ کے پیش کئے گئے پازیٹو ماس تھیورم کے مطابق کسی سسٹم کی انرجی ڈینسٹی اگر مثبت ہو تو اسکی ٹوٹل گریویٹیشنل انرجی سوائے منکاسکی میٹرک ( فلیٹ کائنات )کے لازمی طور مثبت ہونی چاہئے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ لارنس نے ایک ایسی کلوزڈ یونیورس کی بات کی جس کی ٹوٹل توانائی صفر ہے لیکن پازیٹو ماس تھیورم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر کلوزڈ کائنات کی انرجی ڈینسٹی مثبت ہو تو اسکی مجموعی گرویویٹیشنل توانائی بھی لا محالہ مثبت ہو گی۔ اوپر ہم نے کا سمک ڈایا گرام والے موضوع میں بہت تفصیل سے یہ دیکھا تھا کہ بگ بینگ کے وقوع پذیر ہونے میں انرجی ڈینسٹی کا کیا کردار ہے۔ خاص طور پر یہ نکتہ کہ” اگر بگ بینگ کے وقت مادہ کی خاص مقدار خالص توانائی کی حالت میں موجود نہ ہو تو بگ بینگ وقوع پذیر نہیں ہو سکتا” بہت اہم ہے۔ہمارے مشاہدات بھی یہ بتاتے ہیں کہ بگ بینگ کے وقت کائنات کی ساری کی ساری انرجی ڈینسٹی مادے اور تاریک مادے کی توانائی پر مشتمل تھی۔ رچڑڈ شوئن کے پازیٹو ماس تھیورم اور کاسمک ڈایاگرام کو اگر سامنے رکھیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بگ بینگ کے لئے مثبت میٹر انرجی ڈینسٹی کی موجودگی ناگزیر ہے اور میٹر انرجی ڈینسٹی کی موجودگی میں کلوزڈ یونیورس کی کل توانائی صفر نہیں ہوتی نہ ہوسکتی ہے چنانچہ اگر کوانٹم گریویٹی تھیوری ان امکانات پر بات کرتی بھی ہے کہ بغیر توانائی کے کلوزڈ یونیورس پیدا ہو سکتی ہے تو کاسمک ڈایاگرام ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایسی یونیورس میں بگ بینگ نہیں ہو سکتا۔ اینڈ آف سٹوری۔
پچھلی گفتگو کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اگلے مراحل پر بات کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگلے مراحل بھی قیاسات پر مبنی اور گنجلک ہیں کہ ایک قیاس دوسرے قیاس کے ساتھ ملانے پر ایک نیا مسلہ جنم لے لیتا ہے جس کے حل کے لئے تیسرے قیاس کی ضرورت پڑتی ہے۔میرے خیال میں پروفیسر اصغر قادر کے الفاظ ہی بہتریں حل ہیں کہ ہمیں لا علمی کا اعتراف کر کے صحیح وقت آنے تک ایمانداری کے ساتھ ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے رہنا چاہیے۔

کیا عدم سے وجود کائنات ممکن ہے۔

ہمارے سوال کا جواب تو رہ ہی گیا۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ عدم سے وجود کائنات ممکن ہے تو میں کہوں گا ہاں نہ صرف ممکن ہے بلکہ ہماری کائنات عدم سے ہی وجود میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں ۔ لیکن سوال تو یہ ہے ہی نہیں اصل سوال تو یہ ہے کہ فرسٹ کاز ( پہلی وجہ ) کیا ہے۔ آپ نے اپنی سی کوشش کی قیاسات پر قیاسات استعمال کر کے ایک منظر نامہ تشکیل دیا پھر اس منظر نامے کو قرین از قیاس بھی ٹھہرا دیا لیکن تسلیم شدہ سائنس کی سوئی نے معمولی سے عرصےمیں (اس سے بھی کم جتنا انفلیشن نے کائنات کو پھیلانے کے لئے استعمال کیا ) اس غبارے سے ہوا نکال دی۔ یہ سوال فلسفے کا ہے آپ نے ان کے میدان میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی اور یہ سوچ کر اپنے میدان میں لے آئے کہ اس میدان کے ہم ماہر ہیں لیکن اپنے میدان میں اپنے مہرے (کاسمک ڈایا گرام اور پازیٹو ماس تھیورم ) شہ مات دے گئے۔ شروعات ہوئی تھی مادے کو بنانے کے لئے درکار توانائی کہاں سے آئی اتنا لمبا چکر لگا کر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں پہنچ گئے کہ بگ بینگ کے وقوع پذیر ہونے کے لئے میٹر انرجی کہاں سے آئی۔ آپ نے کہا میرا منظر نامہ بہتر ہے اس میں سپر نیچرل خدا کی ضرورت نہیں خود نیچرل لاز ( فزکس کے قوانین) کو دھوکہ دینے کے لئے کوانٹم ویئرڈنیس میں چھپتے نظرآئے۔ حد تو یہ ہے کہ دھوکا پھر نہیں دے پائے۔ آج کل آسٹرولوجر اور سوڈو سائنٹسٹ اپنے دعووں کو خوبصورت دکھانے کے لئے کوانٹم مکینکس کے الفاظ استعمال کرتے ہیں آپ نے کوانٹم گریویٹی کو آواز دی لیکن فرسٹ کاز کی ضرورت پھر ختم نہ کر پائے۔ آپ نے فلسفے پر تنقید کی اور پھر فلسفے کے ہی اینتھروپک پرنسپل میں پناہ لی۔ لیکن جان لیں کہ ایڈ انفینٹم سے بچاؤ کے لئے ایک ایسے کاز کا ہونا ضروری ہے جس کا کوئی کاز نہ ہو۔ یہ کاز ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا اور منطق کہتی ہے کہ کائنات کو وجود بخشنے والا کاز اس کائنات سے باہر ہونا چاہئے۔ آپ نے اتنے لمبے چوڑے تصورات اور قیاسات استعمال کئے پھر بھی اس کاز سے چھٹکارہ حاصل نہ کر پائے۔ہم کائنات کی تخلیق کی ایک سادہ وضاحت پیش کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اسکا ایک خالق موجود ہے جو علیم و خبیر ہے جسے اس بات کا ادراک ہے کہ کائنات کو بنانے کے لئے کن اجزا اور کس طرح کے قوانین کی ضرورت ہے۔ جو اس بات پر قادر ہے کہ کائنات کے لئے درکار اجزا کو نہ صرف تخلیق کر سکے بلکہ اجزا کو ان قوانین کا پابند کر سکے۔ اوکمز ریزر کو آپ پہلے بھی استعمال کر چکے، یہاں استعمال کریں اور دیکھیں کہ اوکمز ریزر کے مطابق کونسی وضاحت زیادہ قابل قبول ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button