سائنس و ٹیکنالوجی

اسلام، سائنس اور الحاد کے متعلق غلط فہمی

سائنسی علوم کی کمی کی وجہ سے ہمارے لوگوں میں سائنس کے متعلق کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں

یہاں ہمارے لوگوں سے مراد کم علم مذہبی اور کم عقل ملحد دونوں ہیں،

کم علم مذہبی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم بگ بینگ یا ارتقاء جیسی چیزوں کو مانیں گے تو خدا کا انکار ہو جاۓ گا اور ہم ملحد ہو جائیں گے، اس لئے اس طبقے کی طرف سے ان معاملات میں شدید مخالفت ملتی ہے، مذہبیوں کی طرف سے یہ نظریہ بلکل غلط ہے آگے چل کر ہم اس پر بات کرتے ہیں

دوسری طرف کم عقل ملحدین ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بگ بینگ اور ارتقاء کو پڑھ لیا ہے اور ہمیں پتا چل گیا ہے کہ کائنات اور انسان کیسے بنا لہذا اب خدا کا انکار کر دینا چاہیے کوئی خدا موجود نہیں۔
جبکہ مذہب اور الحاد کے درمیان یہ سوال ہے ہی نہیں کہ کائنات یا انسان کیسے بنا، سوال تو یہ ہے کہ کائنات اور انسان کو کس نے بنایا

میرے سامنے ایک کمپیوٹر پڑا ہے میں جانتا ہوں یہ کمپیوٹر کیسے بنا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس کو کسی نے نہیں بنایا
ان دونوں سوالات (کیسے اور کس نے) میں فرق پتا چل جاۓ تو آدھے سے زیادہ الحاد وہیں دم توڑ دے گا کیونکہ سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ کائنات کیسے چل رہی ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کہ کون چلا رہا ہے، سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ زمین پر گریویٹی ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کہ گریویٹی کس نے پیدا کی ہے، سائنس یہ تو بتاتی ہے کہ بگ بینگ ہوا لیکن یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بگ بینگ کس نے کیا

کیا بگ بینگ کو ماننے سے خدا کا انکار لازم آتا ہے ؟

ہرگز نہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ بگ بینگ کی تھیوری پیش کرنے والا فلکیات دان ” Georges Lemaître ” ایک عیسائی عالم تھا، اس نے بگ بینگ کی تھیوری پیش کی اور بتایا کہ خداوند نے کائنات کو کیسے بنایا لیکن اس کے بعد کچھ سائنس فوبیا کے مریضوں نے یہ خیال کرنا شروع کر دیا کہ بگ بینگ کے ذریعے خدا کا انکار ہو سکتا ہے، فلکیات دانوں میں سٹیفن ہاکنگ کے علاوہ کسی ایک بھی سائنسدان نے خدا کا انکار نہیں کیا، اور یاد رہے کہ سٹیفن ہاکنگ نے بھی اس خدا کا انکار کیا جس کی معلومات اس تک پہنچی تھیں، یعنی کہ عیسائیت کے نظریہ خدا کا انکار کیا، اسلام جو خدا کا نظریہ پیش کرتا ہے اس کا انکار سٹیفن ہاکنگ نے نہیں کیا کیونکہ اس نے اسلام کو کبھی پڑھا ہی نہیں
اگر وہ اسلام کا نظریہ خدا پڑھتا تو ممکن تھا کہ وہ خدا کے وجود کو تسلیم کر لیتا کیونکہ اسلام جو خدا کا نظریہ دیتا ہے وہ عیسائیت کے نظریے سے سینکڑوں گُنا بہتر اور منطقی ہے

دوسری تھیوری کی بات کریں جس کو ارتقاء کے نام سے جانا جاتا ہے

اس کو پیش کرنے والا چارلس ڈارون ہر گز خدا کا انکاری نہیں تھا بلکہ وہ مانتا تھا کہ ارتقاء کے پیچھے ایک ذہن کار فرما ہے جو خدا ہے جس نے یہ سارا پروسیس شروع کیا اور زمین پر لاکھوں جانداروں کو پھیلا دیا

الحاد نے اس تھیوری کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا ہے اور اس کو خدا کے انکار کیلئے بطور دلیل پیش کیا ہے لیکن تھیوری پیش کرنے والے صاحب تو خدا کے انکاری نہیں تھے وہ اس ارتقائی تھیوری کا شروعاتی سرا خدا کے ہاتھ میں ہی پکڑاتے تھے
لیکن ملحدین نے کڑی محنت کے بعد اپنی عقل پر تالا لگا کر یہ جو "خودبخود” والی بے ہودا تھیوری ایجاد کی ہے ایسی بونگی تاریخ انسانیت میں کبھی کسی نے نہیں ماری

اخے جی سائنس نے ہر سوال کا جواب دے دیا ہے اب ہمیں خدا کی ضرورت نہیں،

اچھا تو بتائیں کائنات کیسے بنی ؟
بگ بینگ کے ذریعے
اچھا تو بگ بینگ کس نے کیا ؟
خودبخود

انسان کیسے بنا ؟
ارتقاء کے ذریعے
ارتقاء کی شروعات کس نے کی ؟
خودبخود

اتنا بہترین نظام شمسی کیسے چل رہا ہے ؟
گریویٹیشنل فورس کے ذریعے
یہ فورس کس نے بنائی ؟
خودبخود

یعنی کہ دنیا جہان کے مسئلے پر آپ ملحد سے بات کر لیں جب ملحد لاجواب ہو گا تو آخر میں اپنی یہ ایجاد کردہ خودبخود والی تھیوری آپ کے سامنے پیش کر دے گا جس کو دنیا کا کوئی سائنسدان نہیں مانتا حتی کہ سٹیفن ہاکنگ جو کہ ملحد تھا وہ بھی اس جاہلانہ (خودبخود) تھیوری کو غیر منطقی (illogical) قرار دیتا تھا

سٹیفن ہاکنگ سے سوال کیا گیا کہ بگ بینگ خودبخود ہوا یا اس کی کوئی ریزن تھی ؟
اس نے جواب دیا کہ سائنس میں کسی چیز کا خودبخود ہونا تو ایک غیر منطقی بات ہے، میں ہر گز نہیں مان سکتا کہ کوئی چیز بغیر کسی ریزن کے خودبخود ہو جاۓ، یقیناً بگ بینگ کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی جس تک ابھی سائنسی تحقیق جاری ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button