بلاگز

پاکستانی معیشت، وسطی ایشیائی ممالک اورافغانستان امن

افغانستان میں امن ایک بار پھر آگیا اور چالیس سال سے وہاں جنگ جاری تھی افغان طالبان نے حکومت سمبھال لی ہے اور اپنی حکومت چلا رہے ہیں.

وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کی تائید دنیا کر رہی ہے وزیراعظم تاجکستان کے دورے پر ہیں یہ وسطی ایشیائی ممالک کا ان کا تیسرا دورہ ہے پاکستان وسطی ایشیائی ممالک میں اپنی تجارت بڑھانا چاہتا ہے جہاں بے تہاشہ وسائل ہیں خاص کر سستی بجلی اور اسستی بجلی نے حصول کے لئے مستقل امن بہت ضروری ہے

ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان نے افغان امن کے لئے انتھک کوششیں کیں اور افغان طالبان معترف بھی ہیں وسطی ایشیائی ممالک میں پاکستان کا جانا بہت ضروری ہے اور فائدہ مند بھی وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران ایس سی او سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کے اس خطے میں امن ہو مزید کہا کے پاکستان سب سے زیادہ دہشتگردی کا شکار رہا ہے.

افغانستان میں امن و امان قائم تو ہو رہا ہے مگر کھیل کو سیاست کی نظر کیا گیا ہے اچانک نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے انکار اور واپسی کی تیاری کا واقعہ ایک منظم سازش لگتی ہے. نیوزی لینڈ کا پاکستان پہنچ کر اس طرح سے ایک دم انکار کرنا یہ ایسے ہی نہیں ہوگیا آپ سب بخوبی واقف ہیں کے بھارت کی افغانستان معاملے پر سبکی ہوئی ہے یہ اس کا ری ایکشن ہو سکتا ہے امریکہ آسٹریلیا اور بھارت نے نیوزی لینڈ کی حکومت کو پاکستان میں سیکورٹی تھریٹ کا بتایا جبکہ ایسی کوئی بات نہیں لیکن نیوزی لینڈ کی حکومت نے صاف انکار کیا اور آج شام واپس جا رہی ہے اور اس پر بھارت بہت خوش ہے اس سازش میں پاکستان میں بیٹھے کچھ بین الاقوامی آقاؤں کے حکم کے غلام بھی شامل ہیں کیونکہ ان عناصر کا منصوبہ یہی ہے کے پاکستان کو کسی نا کسی طرح ناکام تصور کروایا جائے اور یہ بھی کہا جائے کے پاکستان محفوظ ملک نہیں

جبکہ کچھ دنوں پہلے نیٹو افواج پاکستان کے زریعے اپنے اپنے ممالک کو گئیں اور پاکستان نے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے آخر کیا وجہ ہے کے اچانک نیوزی لینڈ نے یہ قدم اٹھایا

اب آپ نقطوں کو ملانے کی کوشش کریں وہ ایسے کے آج جامعہ حفصہ میں ایک مذہبی جماعت کی شخصیت نے اسلام پولیس کو دھمکیاں دیں کے انھوں نے افغان طالبان کا جھنڈا وہاں سے کیوں اتارا ساتھ یہ بھی کہا کے اب آپ کو افغان اور پاکستانی طالبان ہی دیکھیں گے ڈیل کریں گے یہ بیان دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کے پاکستان میں مذہب کارڈ کھیل کر بدنام کیا جائے اور جو کام اب تک پاکستان نے افغانستان امن کے لئے کئے ہیں انھیں ناکام کیا جائے اور دنیا ایک بار پھر پاکستان کے متعلق غلط رائے قائم کرے

پاکستان نے دن رات ایک کر دیا کے افغانستان میں کسی نا کسی طریقے سے امن آئے لیکن جیسے ہی اور جب بین الاقوامی سطح پر پاکستانی کی پذیرائی، تعریف ہوتی ہے تو اچانک ایسے واقعات ہوتے نہیں بلکہ کروائے جاتے ہیں کے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے.

اب بھی ایسے عناصر سر توڑ کوششوں میں لگے ہیں کے کسی نا کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے.

اگر آپ کو وزیراعظم پسند نہیں تو بے شک نا کریں مگر اس نفرت کی آگ میں ریاست پاکستان کے خلاف ایسے اقدامات یا سازشوں کا حصہ نا بنیں.

آپ زرا تصور کریں کے جب پاکستان وسطی ایشیائی ممالک میں اپنی تجارت بڑھائے اور وزیراعظم نے تقریر کے دوران یہ بھی کہا کے تاجکستانی بزنس کمیونٹی کو میں دعوت دیتا ہوں کے وہ پاکستان آئیں اور بزنس کریں انویسٹ کریں تو سوچیں کے پاکستان کہاں سے کہاں جائے گا.

امریکہ پر ہم اعتماد کر تو سکتے ہیں مگر پاکستان کے خلاف وہ کسی بھی حد تک جائیں گے اور جب ساتھ بھارت شامل ہو تو ایک اندھے گونگے اور بہرے کو بھی معلوم ہوجائے گا کے کہیں نا کہیں پاکستان کے خلاف کوئی گیم ہو رہی ہے.

اسی کے ساتھ ایک مختصر سے کالم کا اختتام.

اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھے، آمین

سید محمد مدنی

I am Mr. Syed Muhammad Madni a freelance journalist and write columns on Urdu Globally. Follow me on Twitter @M1Pak.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button