بلاگز

کنواری حقیقت

ایک شادی شدہ لڑکی کو محض اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ “کنواری ثابت نہ ہو سکی۔۔۔

ایسے بھی لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں جو شادی کی پہلی رات ہم بستری کے دوران خون نکلنے کو ہی کنوارہ پن مانتے ہیں۔

نوجوان اور خاندان والے جو اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات خون نہ نکلا تو لڑکی “بدکردار ” ھے ۔۔۔یونیورسٹی کالجز ہاسٹلز دنیا کے سب سے زیادہ بدکرداری کے جائز اڈے بنتے جا رھے ہیں

جن مردوں کی ساری عمر غلط کاریوں میں گزری ہو۔ اب شادی ہوئی ہے تو ان کے نزدیک بیوی ” با کردار” ہونی چاہیے اور اس کے لیے انھوں نے جو معیار طے کیا ہے وہ ہے “خون کا نکلنا۔” وااااااااااہ کیا بات ھے ان واحیات اور کم عقل کے لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بچپن یا لڑکپن میں کھیل کود کے دوران یا سیڑھیوں ، زیادہ وزنی کام کرنے سے یا رسہ کودتے ہوئے، سائیکل چلاتے ہوئے یا جو لڑکیاں گیموں میں حصہ لیتی ہیں یا پھر بہت سی لڑکیاں ماہواری میں بھی کئ بار اس اندر کی باریک جھلی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں کیونکہ وہ اندر سے کمزور ھوتی ہیں وہ باریک سی جھلی جس کے ہٹنے سے خون نکلتا ہے وہ جھلی پھٹ سکتی ہے۔ ۔ لہذا اگر پہلی رات خون نہیں نکلا تو یہ لازمی نہیں کہ آپ کی بیوی بد کردار ہے یا اگر خدانخواستہ وہ پہلے کسی سے ایسا عمل کروا چکی ہے حقیقت کیا ھے وہ جانے اللہ جانے الزام لگا کر کسی باکردار کو رسوا کرنا اپکو خود ذہنی اور قدرت کی سزا کے قابل بنا دے گا ۔۔۔اپکے پاس اپکے با کردار ھونے کا کیا ثبوت ھے ۔؟

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو شادی کی پہلی رات بیوی کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کو “مردانگی” سمجھتے ہیں۔۔ان کے نزدیک اگر پہلی رات ہم بستری کے دوران بیوی کو تکلیف کی شدت سے رونے پر مجبور نہ کیا تو ان سے بڑا “مرد” کوئی نہیں۔۔اگر ایسا ہو بھی جائے تو اگلے دن دوستوں کو بڑھ چڑھ کر قصے سناتے پائے جاتے ہیں۔۔اگر آپ کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں کام کرتے ہیں یا آپ کا کوئی جاننے والا کام کرتا ہے تو آپ کو علم ہو گا کہ ہر ماہ ایک یا دو کیسسز ایسے لازمی آتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات درد کی شدت لڑکی برداشت نہیں کر سکی اور اس کی حالت غیر ہو گئی ۔۔۔ان “سُورمے ” مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت بھی انسان ہے۔۔آپ کی بیوی بھی کسی کی بہن بیٹی ہے اگر وہ اس عمل سے ابھی یوز ٹو (عادی) نہیں ہو پا رہی تو اسے کچھ وقت دیں لازمی نہیں پہلی رات ہی یہ “ میچ جیت کر رھنا ھے ” اس عمل کے دوران بیوی کو بالکل ویسا ہی درد ہوتا ھے جیسے مار پیٹ کا درد ہو اگر خون نہیں نکلا کوئی بڑی بات نہیں مگر وجائنا اگر ٹائٹ ھے اور عمل کے دوران لڑکی کو درد ھوتی ھے یہ بھی بہت بڑی کنواری ھونے کی دلیل ھے ۔۔

ہر عورت ہر لڑکی کی جسمانی برداشت الگ الگ ہوتی ہے۔اگر آپ زیادہ تکلیف میں دیکھیں تو رک جائیں۔۔کل سہی۔۔پرسوں سہی۔۔اللہ زندگی رکھے وہ آپ کی اپنی ہے۔۔آپ اس کے تمام حقوق رکھتے ہو۔۔۔آپ سے کس نے کہہ دیا کہ پہلی رات یہ کام کرو گے تو ہی ولیمہ جائز ہو گا یا آپ مرد “گردانے” جاو گے۔۔۔؟
تیسری قسم ان لڑکوں کی ہے جو جنسی عمل کے دوران زیادہ دورانیے کو مردانگی گردانتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر شادی کی پہلی رات آپ نے جنسی عمل میں ایک گھنٹے سے کم وقت لگایا تو آپ “مرد” ہی نہیں۔۔اور یہ بدقسمتی سے اس مغالطے کا شکار پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں۔

ایک مرد ساری عمر زنا اور غلط کاریوں میں ملوث رہا ، شادی قریب آئی تو انھیں احساس کمتری ہونا شروع ہو گیا کہ پہلی رات میں ایک منٹ یا اس سے کم وقت میں ہی نزول کا شکار نہ ہو جاوں لہذا اسی پریشر میں انھوں نے شادی سے ایک ماہ قبل ایک حکیم سے معجون لے کر کھانا شروع کیا۔۔ہزاروں روپے بھی لگائے اور شادی کی پہلی رات مسلسل چالیس منٹ بنت حوا کو اس کی مرضی کے خلاف روندتے رہے ،نتیجہ یہ ہوا بیوی کو رات کو تین بجے ہسپتال لے جانا پڑا اور سارے زمانے سے جھوٹ بولنا پڑا کہ اس کے معدے میں درد اٹھا ہے۔۔ان لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لازم نہیں لڑکی کو نقطہ سکون تک پہنچانے کے لیے آپ کو جنسی عمل میں زیادہ وقت لگانا پڑے آپ جنسی عمل سے پہلے بھی بہت سے ” کام ” کر کے اس عمل میں مدد لے سکتے ہو۔

چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جن کے نزدیک شادی کی پہلی رات کم از کم پانچ یا چھے بار ایسا عمل کرنا عمر بھر کی بھڑاس نکال دینے کے برابر ہے یا اس سے انھیں اگلی تئیس مارچ پر تمغہ مردانگی ملے گا۔۔ایسے لوگوں کے دوست بھی پھر انہی کی سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔۔ولیمے کی صبح صبح دولہے کو دیکھتے ہی ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے ” ہاں وئی! کنی واری (کتنی بار) اور دولہا بھی کمینگی والی مسکراہٹ کے ساتھ انگلیوں سے تعداد بتائے گا اور بڑھا چڑھا کر بتائے گا۔اس کے نزدیک یہ عزت کا پیمانہ ہے وہ جتنی زیادہ تعداد بتائے گا معاشرے میں اس کی اتنی عزت گردانی جائے گی۔۔اسے کم عقل مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی بیوی کا لباس ہو۔آپ نے ایسے راز شیئر کر کے بھرے بازار میں اپنی بیوی کو اور اپنے چھپے معاملات کو خود بے لباس کر دیا ہے اور اپنے ہی دوستوں کے ذہن میں اپنی ہی بیوی کے بارے گندگی کا ایک بیج بو دیا ہے۔۔

پانچویں قسم ان لوگوں کی ہے جن کی ساری عمر گندی فلمیں دیکھتے گزری ہے اور ان کے دماغ پر گندی فلموں کے سین سوار رہتے ہیں ۔۔اور انھیں شادی کی پہلی رات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے کہ یہ سارے سین “پرفارم” کر کے اپنے آپ کو ” مرد” منوایا جائے۔۔ان لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان موویز میں کام کرنے والے سارے کے سارے پروفیشنل لوگ ہوتے ہیں جو مختلف اور مہنگی ادویات کا سہارہ لے کر لوگوں میں بے راہ روی اور خناس بھر رہے ہیں اور نوٹ چھاپ رہے ہیں۔۔ان مہنگی ادویات کے بغیر وہ بھی عام انسان ہی ہیں کوئی “باھو بَلی” نہیں۔۔ان کا مقصد نوٹ چھاپنا ہوتا ہے۔۔آپ لوگوں کو ترغیب دینا نہیں کہ اپنی بیوی کو “اکھاڑہ” بنا لو۔۔
بے وقوف لڑکے مزے اور عزت کے چکر میں بہت سی دوائیاں اور حکیموں کے کشتے کھاتے ھیں جن سے انکا معدہ بلکل ناکارہ اور خون اور پیشاب میں انفیکشن کی شکایت شروع ھو جاتی ھے ..اور ان دوائیوں کی وجہ سے ان لڑکوں کی بیگمات کو ھر وقت تکلیف دینے والا انفیکشن روح پزیر ھو جاتا ھے نتیجہ کیا نکلتا ھے عورت اندر سے کمزور سے کمزور تر بیمار ھوتی چلی جاتی ھے اور مرد دوائیوں کا محتاج ھوتا چلا جاتا ھے اور اپنی رھی سہی قدرتی طاقت بھی کھو بیٹھتا ھے ..
بدقسمتی سے ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مائیں اپنی بیٹیوں اور باپ اپنے بیٹوں سے ان معاملات پر بات کرتے شرماتے ہیں ۔۔۔انھیں یہ باتیں ماں باپ نہیں سمجھاتے۔۔مساجد کے امام نہیں سمجھاتے۔ عمر میں بڑے دوست یا پڑھے لکھے دوست نہیں سمجھاتے تو پھر غلط صحبت اپنا اثر دکھاتی ہےیا پھر پورن فلمز ۔۔اور انسان چلتا پھرتا جنسی درندہ بن جاتا ہے۔جو بیوی کو بچے پیدا کرنے اور جنسیت کی مشین کے سواء کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا،۔

اپنی سوچ بدلیں لکیر کے فقیر بننا ختم کریں حقیقت کا سامنا ایک مضبوط سوچ کا مرد ھی کر سکتا ھے ناکہ نیم مردہ حالت کا مرد جو اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا سامنا کرنے کے قابل تو ھوتا نہیں بلکہ ان کو چھپانے کے لئے یا تو عورت کی تزلیل کرتا ھے یا پھر اس سے لاتعلق ھو جاتا ھے کسی کی بہن بیٹی “اکھاڑہ” نہیں ھوتیں وہ آپکا لباس ھے آپ کی عزت ھے کیا کوئی غیرت مند مرد اپنی عزت کی غیروں کے سامنے دکان لگاتا ھے ۔۔؟

کیا مرد اپنی شرم گاہ کو دوستوں یاروں یا غیروں کے آگے خوشی خوشی برھنہ کرتے ہوئے عزت محسوس کرتے ھیں ؟؟اگر کرتے ھیں تو گوگل ڈکشنری میں ایسے مرد کی شان کے مطابق کہنے کے لئے کوئی لفظ اس مناسبت سے ابھی تک میری نظر سے نہیں گزرا ۔۔یہ بات ذہن میں رکھیے گا کل کو آپ نے بھی بیٹی کا باپ بننا ہے اور بیٹیاں جب کسی کی بیویاں بنتی ہیں تو وہ چاہنے اور پیار کرنے کے لیے ہوتی ہیں “اکھاڑہ” بنانے کے لیے نہیں۔۔بیویوں کو یوں پیار سے رکھیں جیسے کانچ کے برتن رکھے جاتے ہیںتمھاری عورتوں کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا ۔

نیک مرد کیلئے نیک بیوی اور بدکردار مرد کیلئے بدکردار بیوی اللہ کا فرمان اٹل ھے پھر خون نکلے یا نہ نکلے پہلے خود کی ذات کو چیک کیجئے اپ کتنے پانی میں ہیں قدرت نے اپکو وہی کچھ دیا جس کی قابل اپ تھے تو بیوی کو الزام دینا کس بنیاد پہ ٹھہرا …

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button