صحت

جنسی تعلیم کی کمی کیا نقصانات ھے۔

کس قدر تاریکیاں بھی اس روشنی کے ساتھ ملتی ہیں

جنسی ایجوکیشن نہ ھونے کی وجہ سے مردوں کی ٹائمنگ متاثر ھوتی ھے سوچ غبار ذدہ رھتی ھے کاروبار جوب نوکری گھر کے کاموں میں دل نہیں لگتا مرد و عورت کھڑدرے اور چڑچڑے پن کا شکار رھتے ھیں لیکن دونوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ اسکا جائز اور مستقل حل ڈھونڈ سکیں ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے لڑکے مشت زنی سے اپنے مستقبل کا کبارہ کر لیتے ھیں مشت زنی گناہ ھے لیکن نا سمجھی مردوں کی حالت خراب کر چکی ھے ذہنی مریض جسمانی عارضے کا شکار کر چکی ھے ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں پورن فلمز کو دیکھتے ھیں اور اسی انداز کو اپنانے کی کوشش میں خوار ھوتے ھیں کیونکہ انہیں اپنی فرسٹریشن کو نکالنے اور اپلائی کرنے کیلئے پورن کا سہارہ لینا پرتا ھے جبکہ پورن میں جنسی تعلیم کو چھپا کر ایک نئی گندی دنیا کو متعارف کروایا جا چکا ھے جس میں 70 فیصد جھوٹ کے ساتھ آنکھوں اور سوچ کو دیا گیا دھوکا ھے جس دھوکے کا شکار ہمارے بچے ھو چکے ہیں کیونکہ پروپر تعلیم کا پلیٹ فارم موجود نہیں اگر کوئی ہمت کر کے جنسی تعلیم کا چینل چلا بھی لیتا ھے تو ادھار لی گئ عقل اور داڑھی ٹوپی کے ساتھ لوگ اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے میاں بیوی ھم بستری کے باوجود بھی ایک دوسرے سے دلی طور پر دور اندر ہی اندر ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے ملتے ہیں ساتھ میں اپنے لئے کسی سے ملنے والی محبت کے متلاشی بھی رھتے ہیں کیونکہ محبت لینا محسوس کرنا ہر جاندار کی فطری ضرورت ھے ۔ گھر سے پیٹ بھر کر نہیں ملے گی تو باہر نظر رھے گی جس سے معمولات کے کام Disturb ھونگے ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے مرد و عورت ایک دوسرے کا حق ادا نہیں کر پاتے جس کی کمی میاں بیوی دونوں کو ڈپریشن اور بہت سی ذہنی بیماریوں کا مریض بنا دیتی ھے ۔ communication gape اس میں بنیادی رول ادا کرتا ھے ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے نالائک مرد اور عورت غیر لوگوں کے ساتھ حرام کرتوتوں میں مزے تلاش کر رھے ھیں اور حلال رشتوں سے دور ھوتے جا رھے ھیں نتیجہ طلاقیں میاں بیوی کا رشتہ مذاق بن کے رہ گیا ھے ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے بیگمات اپنے شوہروں کے ساتھ نہ خود کو پر سکون مطمئن کر پاتی ہیں اور نہ ہی شوہر مطمئن ھوتا ھے نہ محبت کر پاتے ہیں نہ دینے کا گن جانتے ہیں ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے آج لڑکے اور لڑکیاں حرام ذرائع سے لذتیں حاصل کر رھے ھیں مختلف جنسی بیماریوں جن میں ایڈز بھی شامل ھے کا شکار ھو رھے ھیں چھوٹی عمر میں جنسی طاقت کا ضیاع کر چکے ہیں ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے ایک بیٹی ایک بہن ساری زندگی خون کے آنسو روتی ھے اپنے شوہر کی طرف سے جنسی زیادتی کو برداشت کرتی ھے یا تو شوہر اسے جانوروں کی طرح استعمال کرتا ھے یا پھر اپنی کمیوں کو چھپانے کیلئے عورت میں کیڑے نکالتا ھے کہ یہ بانجھ ھے یا میری ضرورت پوری کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی مگر عورت حقیقت کو سمجھ نہیں پاتی کیونکہ ھمارے معاشرے میں ماں دادی نانی یہ پٹیاں تو پڑھاتی ہیں گھر کیسے سنبھالنا ھے یہ کبھی نہیں سمجھاتیں کہ جنسی معاملات کو کیسے پوڑا کرنا اور کروانا ھے ۔ اس تعلیم کو شرم وحیا سے منسوب کر دیا جاتا ھے جبکہ شادی کا اولین مقصد ہی جنسی تعلقات ھوتے ہیں ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے لڑکے لڑکیاں ھم جنس پرستی کا شکار ھوتے رھے ھیں اور ھوتے رھیں گے کیونکہ تمیز ہی نہیں کیا صحیح ھے اور کیا غلط ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے مرد اپنی بیویوں کے ساتھ حرام طریقہ مباشرت اختیار کرتے آ رھے ھیں جسکی وجہ سے گناہگار بھی ھوتے ھیں نکاح فاسق کرتے ہیں اور بیویوں کو بھی بیمار کرتے ھیں ۔

س ی ک س نالج نہ ھونے کی وجہ سے ماں باپ بچوں کی شادیاں انکے بڑھاپے کی عمر میں کرتے ہیں جسکی وجہ سے لازما اکثر مرد اور خواتین بدکرداری کی سزا بھگت رہے ھوتے ہیں اور بعض مرد اور عورتیں شادی کی عمر گزر جانے کی وجہ سے ذہنی تناؤ نفسیاتی امراض کا شکار ھو چکے ھوتے ھیں۔ انسان کی بقا کے لئے اسے کھانے پینے کی ضرورت ھوتی ھے ؛ اپنی ذات کو چلانے ذہنی جسمانی کارکردگی کو بڑھانے چمکانے اور واضع کرنے کیلئے ھر انسان کو نکاح کی ضرورت ھے اور نکاح کا اصل مقصد سمجھنے کی بھی ،
قدرت نے نکاح کا مقصد صرف اولاد پیدا کرنے کے لئے نہیں رکھا بلکہ انسانی فطرت کے تقاضوں کو حلال طریقے سے پورا کرنے کا ایک ذریعہ بنایا ھے جس کی ضرورت صرف مرد ھی کو نہیں بلکہ عورت کو اتنی ہی ھے ماں باپ طریقے سے اپنے فرائض ادا کریں ، میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق اور ضرورت کو خوش اسلوبی اور پرواہ زمہ داری کے ساتھ انجام دیں تو کوئی وجہ نہیں رہ جاتی کہ مرد ھو یا عورت کسی بدکاری کا شکار ھوں ۔

معاشرے میں پھیلے ان خرافات کو کم کرنے کیلئے ایک مناسب عمر کے بعد جنسیت کی تعلیم کو لازم کیا جائے، اگر کوئی بتانے سمجھانے کیلئے کچھ کوشش کرے تو جاہل کم ظرف ن نکال کے نیک لوگ صرف تنقید کرنے اپنی بِل سے باہر نکل آتے ہیں کیونکہ جاہل خالی دماغ شور کرنے کی بہترین مہارت رکھتا ھے ۔

اپنی لائف کو آسان کیجئے گناہ سے بچنے کیلئے بیٹے بیٹیوں کی جنسی تعلیم کا احتمام کیجئے تاکہ بچے پورن سے جھوٹ اور دھوکے کو اپنے مستقبل کا حصہ نہ بنائیں پورن گرل فرنڈ بوائے فرنڈ عیاشیاں دماغی غبار کو ضرور نکال سکتی ہیں مگر ذہنی جسمانی سکون اطمینان اور صحت کبھی مہیا نہیں کر سکتیں اس پرسکون زندگی کی مسرت کو عیاش سوچ کبھی محسوس نہیں کر سکتی کیونکہ” بندر کیا جانے ادرک کا سواد ” ایک مکمل جنسی معیاری تعلیم ہی حلال رشتوں کی قدروقیمت کی پہچان کروا سکتی ھے …
پورن انڈسٹری تعلیم نہیں بلکہ غلاظت اور انسانی قدروں کو پامال کروانے والا زانی محکمہ ھے ۔
سمجھانا میرا کام تھا عمل کرنا نہ کرنا آپکا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button