بلاگز

ہماری زندگی کے آدھے دکھ بعض دفعہ دوسروں کے شر دوسروں کی شیطانیت کی نظر بھی ھو جایا کرتے ہیں

۔مثال کے طور پر جیسے کہ ایک شیطان صفت نے اپنی کچھ دیر کی فنٹسی پوری کرنے کیلئے لڑکی اغواء کروائی فن پورا کیا اور لڑکی کو ساری زندگی کیلئے نہ ختم ھونے والی ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا

کسی شیطان صفت خاتون نے اپنے فن کیلئے کسی دوسرے گھر کے مرد سے اپنا فن ٹائم حاصل کرنے کیلئے کچھ tricks استعمال کئیے ۔ شیطان صفت انسانوں کا شر پورا ھو گیا متاثرہ لڑکے اور لڑکی کی اپنی ذات اس فن میں چلتے کارناموں چاھے وہ فینٹسی میں ھوں یا عملی طور پر ،، متاثرین سے جڑے باقی رشتے ان سے تعلق اس شر کے نام ھوئے ۔۔۔ پوری فیملی disaster کا شکار ھوئی بنیاد کون تھے وہ شیطان صفت انسان ۔۔۔۔۔ اسی طرح دنیا میں ایسے شیطان صفت لوگ ہر جگہ موجود اپنے فن دکھا کر نمازیں روزے اور اللہ رسول صلی اللہ کی مہر اپنی ہر بات سے پہلے لگا کر اپنے فنپاروں کی نمائش کرتے ہیں تاکہ اپنے بد چہروں کو چھپایا جا سکے کیونکہ جو انکے خرافات کا نشانہ بن چکے ہیں وہ کہیں جوش میں انکا کوئی نقصان نہ کر دیں اس لئے شر پسند شریر سوچ ٹوپی پہن کر ٹوپی ڈرامہ کرتے نظر آتے ہیں ایسے ٹوپی ڈرامے آج ہمارے گھروں میں انے جانے ملنے ملانے والے ، دفتروں ، دوستوں ، استادوں ، ڈاکڑوں کی شکل میں اور معزز پیشے اور تعلقات کی آڑ میں چھپے انسان دوست ہر جگہ ہر سوسائٹی میں بہت عام چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔۔ یہ بد نما چھپے کردار ہیں ان سے بات کرو تو ایسا لگتا ھے شہد سے بھرے ہیں اور اندر سے دجال ہیں ۔ ۔

اپنی انکھیں اور کان کھلے اپنی Awareness کو ہمیشہ قائم رکھیں بہت پیار کرنے والے غیر لوگوں کے بدلتے لفظوں ، چہروں اور عمل پہ دھان دیجئیے ساری کہانی بہت جلد سامنے آ جاتی ھے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button