بلاگز

دوستی کیا ھے

زندگی میں بہت سے تعلقات ھمیں اپنائیت کے ساتھ ساتھ دغا بھی دیتے نظر آتے ہیں مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں ”زندگی“ نظر آتی ہے اور وہ رشتہ ہے ”دوستی کا رشتہ

“ زندگی میں ہر رشتے کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہوتی ہے جس طرح پانی کی پیاس دنیا کی کسی نعمت سے پوری نہیں کی جا سکتی اسی طرح دوستوں کی کمی کو مال و دولت اور آسائشوں سے پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ثبوت وہ مزہ اور خوشی ہے جو انسان کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کینٹین کے سموسوں سے لے کر ریڑھی کے گول گپوں‘ برف کے گولوں روئی کے گالوں جیسے نرم لچھوں اور شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کی سب سے مہنگی اور بہترین ڈش کھانے تک میں نظر آتا ھے

انسان کا دل فطری طور پر خوشی اور اطمینان کے جذبے پہ پیدا کیا گیا ہے۔ دوست وہ رشتہ ہیں جن کے سامنے اٹھنے‘ بیٹھنے‘ ہنسنے‘ بولنے کے اصولوں کا حساب کتاب نہیں رکھنا پڑتا۔ کب بولنا اور کتنا بولنا ہے کمزوریوں کو چھپانا نہیں پرتا آنسوؤں کی نمی کو بہانوں کی ضرورت نہیں پرتی دوستوں کے ایک مصافحے پر اپنے دل کی ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں صرف آنکھوں کے اشاروں سے الجھن ہٹا دیتے ہیں اور ایک بار گلے لگتے ہی تمام دنیا سے چھپائے ہوئے حال دل الف تا ے سنا دیتے ہیں۔

یہ سب نعمتیں جو دوستی کے رشتے کے عوض ملتی ہیں دل کو سمندر کا سا سکوت اور صاف نیلگوں آسمان کی طرح کی وسعت عطا کرتی ہیں ہمیں دنیا کی تکلیفوں سے لڑنے کیلئے نئے سرے سے تیار کرتی ہیں مخلص دوستی غموں کے اکاؤنٹ کو خالی کر کے خوشیوں‘ قہقہوں اور مسکراہٹوں کے خزانوں سے بھر دیتی ھے ۔ یہ وہ اثاثہ ہیں جو انسان سے کوئی چھین نہیں سکتا یہ وہ قوتِ مدافعت ہے جو انسان کو اپنی زندگی کی کٹھن لڑائیوں کو لڑنے کے قابل بناتی ہیں۔والدین مشکل وقت میں سائبان بن کر مشکلوں سے محفوظ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ بیوی شوہر کی کامیابی اور حفاظت کی دعائیں مانگتی ہیں۔ شوہر مشکل وقت میں بیوی کا حوصلہ بڑھاتا ہے کبھی ساتھ بھی دیتا ھے ۔ لیکن صرف ایک رشتہ ایسا ہے جو سکول کالج کے امتحانوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے بہت سے امتحانوں میں ہمارے ساتھ قدم سے قدم‘ کندھے سے کندھا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مشکلوں کا سامنا کرنے کھڑے ھوتے ہیں ‘ کئ بار دوست کے آنسوؤں میں کچھ قہقہے اسے غم بھلا دیتے ہیں دوستی میں لڑائی محبت بڑھا دیتی ہے دوست کے ہاتھ سے چھین کر کھانے سے بھوک مٹا دیتی ہے اور بہت بول لینے سے بھی کئ بار دل نہیں بھرتا۔ یہ سب احساسات اتنے خوبصورت ہیں جیسے کھٹی میٹھی چٹنی کے ساتھ گول گپے ‘ شدید گرمی میں گنے کا ٹھنڈا رس اور یخ سردیوں میں گرما گرم کافی کا مزہ

بہترین دوست وہی ہیں جو ہمیں اس دنیا کی تاریک اور بدصورت حقیقتوں سے بہاروں کی طرح نبرد آزما ہونا سکھائیں۔ ہماری غلطی کو غلط اور اچھائی کو صحیح طریقے سے شناخت کرنے اور ہم پر ہمارے رویے کو بہتر بنانے کی غرض سے پرخلوص ہو کر نصیحت کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں کیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے“ دوست وہ نہیں جو ھمیں دین دنیا اور اپنی ھی ذات کے قابل نہ چھوڑے لیکن آج کے دور میں ایسے ھی خود غرض دوستوں کا نام دوست رکھا گیا ھے جو خود تو ڈوب چکے ھوتے ھیں انکی اگلی کوشش باقی بچے ہوؤں کو بھی ڈوبا کے مارنا ھوتا ھے ۔

اﷲ ہماری زندگیوں میں نیک لوگوں کو شامل حال کرے ہمیں اپنے ہم جنس مخلص دوستوں کیلئے خوشی کی امید بننے کی توفیق دے اور ھمیں مخلص بے غرض دوستی کے خوبصورت رشتے کو نبھانے کے قابل بنائے حقیقی دوستی ایک دوسرے کا بھرم رکھنا دوست کو کندھے کی کمی محسوس نہ ھونے دینے کا نام ھے
دوستی کا پاک رشتہ ھم جنس سے ھو تو جچتا ھے فلاح پاتا ھے جبکہ مخالف جنس سے بنائی گئ دوستی زندگی کو وبالِ جان بنانے کیلئے کافی ھے آج وہ لوگ مر چکے جو دوستی کے نام سے ھی پہچانے جاتے تھے یا پھر آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے صد افسوس آج دوستی کے نام کا تعلق صرف غیر مرد و عورت کے ناجائز رشتے کو ھی سمجھا جاتا ھے کیونکہ آپ جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ تعلق ہمیشہ سے بدصورتی کا نشان رھا ھے اور رھے گا اس لئے یہ ضروری ھے کہ بدصورتی کو زندگی سے نکال دیا جائے تاکہ زندگی کی خوبصورتی سامنے آ سکے .

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button