بلاگز

عاجزی و انکساری اختیار کریں مگر پائے دان نہ بنیں

انسان کی فلاح و بقاء کے لئے ضروری ہے کہ اس پاس کے لوگ اس سے خطرہ محسوس نہ کریں۔ ایک نرم دل انسان بہت سے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے۔اچھے اخلاق والے لوگ ہمیشہ انسانیت کے علمبردار کہلاتے ہیں۔ دینے اسلام نے بھی بہترین اخلاق والوں کو بہترین قرار دیا ہے۔ اعلیٰ مزاج اور حلیم طبیعت رکھنے والے دیگر انسانوں کو اپنی زات سے فائدہ پہنچاتے ہیں اور انسانیت کی معراج بھی یہی ہے کہ ایک انسان کی زات بہت سے انسانوں کے لیے کارآمد ہو۔ سخت طبعیت اور خود غرض مزاج والے افراد معاشرے میں مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ 
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اس پرفتن دور میں نرم دلی اور اخلاق کس حد تک اور کس طرح اپنائی جائے۔ دور حاضر نفسا نفسی کا دور ہے اس وقت ہر انسان دوسروں سے فائدہ حاصل کر کے اپنا راستہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔اس روش میں معاشرے کی اکثریت مبتلا ہے۔ جھوٹ بول کر یا دھوکا دے کر کسی کی اچھائی کا فائدہ اٹھانا ایک آرٹ بن چکا ہے لوگ بڑے فخر سے اپنے کارنامے بتاتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے یہ کام کروایا یا فلاں کو اس کام میں استعمال کیا اور یہ کاموں میں استعمال ہونے والے لوگ وہ ہیں جو معاشرے میں کم تعداد میں ہیں یعنی اخلاق اور حلیم مزاج والے۔ یہ آرٹیکل ان جیسے لوگوں کے لیے ہی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ آپ ایک اچھے اور نرم دل رکھنے والے انسان ہیں لوگوں کی مدد کر کے آپ کو تسکین ملتی ہے۔کسی کی مشورہ دینا ہو یا عملی طور پر جان و مال سے مدد کرنی ہو آپ پیش پیش رہتے ہیں اور بے شک یہ خصوصیات اخلاص کے ساتھ ہوں تو ایک عام انسان کو اللہ کا ولی بنا دیتی ہیں لیکن ٹھہرئیے یہاں چند باتیں قابل غور ہیں۔ پہلے اپنے زہنی سکون اور اندرونی امن کے لیے چند اصول بنایے۔ منافقین کی بار بار مدد کر کر سر پر نا بٹھائیں ، اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے کبھی ان کو اپنے راز نہ دیں ورنہ کسی بھی وقت کسی بڑے نقصان کا شکار ہو جائنگے۔ نیکی کرنے کے راستے ضرور ڈھونڈیے مگریہ خیال رکھیے کہ آپ کی نیکی اور اخلاق کے مستحق سب سے پہلے آپ کے گھر والے ہیں۔ ایسے لوگ جو محض ضرورت کے وقت آپ کو عزت کا تاج پہنا دیں اور کام نکلنے پر اگلے موقعے تک راستہ تبدیل کیے رکھیں ایسے افراد سے خود کو دور کریں اور ان پر اخلاق ضائع مت کریں کیونکہ ایسے لوگ بہت ہائی کوالٹی کے خود غرض ہوتے ہیں اپنے فائدے کے لیے اگر آپ کو نقصان بھی دینا پڑا تو بنا کسی شرم و حیا کے نقصان دے دیتے ہیں۔ کسی کو مشورہ دیتے وقت یہ ضرور دیکھ لیں کہ اسے مشورے کی ضرورت کس حد تک ہے  اور مشورہ مانگنے والا انسان اعلی ظرف ہے یا نہیں کیونکہ خدا نہ خواستہ اگر آپ کے مشورے پر عمل کرنے کے بعد اسے کوئی نقصان ہو گیا اور وہ کم ظرف ہوا تو آپ کو بد نام کر دے گا ہر جگہ یہی بات کہے گا کہ اس کے نقصان کے زمہ دار آپ ہیں اور کامیاب ہوگیا تو صرف اپنی ذہانت کو بڑا سمجھے گا یعنی اب وہ کسی کو نہیں بتائے گا کہ یہ کام کرنے کا مشورہ اپنے اسے دیا۔ مالی امداد کرتے وقت ہر ممکن کوشش کرلیں کہ آپ کو یہ بات پورے طور پر پتہ ہو کے آیا مدد مانگنے والا مستحق ہے اور اس رقم کو صحیح مصرف میں استعمال کرے گا اور اگر بڑی رقم آپ بطور قرض دے رہے ہوں تو لکھت پڑھت اور مناسب ہو تو کسی تیسرے کو بھی ضامن بنایا جائے۔
ان تمام اصولوں کو اپنانے کے بعد آپ کو شازو نادر ہی یہ بات کہنی پڑےگی کہ ہم تو جس کے ساتھ اچھا کرتے ہیں وہی ہمارے ساتھ برا کر جاتا ہے ۔ان اصولوں کے ساتھ ہی  سب سے بڑا اصول اپنائے کہ جو بھی کریں اللہ کی خوشنودی کے لئے کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ کسی بھی قسم کے دھوکے اور برائی سے بچنے کے لیے آنکھیں کھول کر اخلاق کا استعمال کریں۔حدیث مبارکہ میں ہے کہ پہلے اونٹ کو کھونٹے سے باندھو پھر اللہ پر توکل کرو ۔ دور حاضر میں شیطانی طاقتیں بھر پور طریقے سے انسانیت کی فلاح و بہبود کو برباد کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان طاقتوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو  اچھائی کے بدلے میں دوسرے انسان سے  دھوکا دلوانا تاکہ ایک اخلاق والا انسان اچھائی کرنا چھوڑ دے اور اچھائی پر سے لوگوں کا ایمان اٹھ جائے جیسے اکثر لوگ کہتے نظر آتے ہیں کہ یار دوستی پر سے میرا ایمان اٹھ گیا کیوں کہ انہیں کسی قریبی دوست سے دھوکا ملا ہوتا ہے۔ جیسے شیطان کی باتوں میں آکر مور اور سانپ نے مدد کی اور پھر خود بھی شیطان کی اس سازش کا شکار ہوگئے اور زمین پر پھینک دئیے گئے ۔ اکثر شدید بروں کی مدد آپ کو کسی بڑے ذہنی اور دلی صدمے  یا بڑے نقصان سے دوچار کر دیتی ہیں۔ عاجزی ،  انکساری ، ہمدردی اور انسانی رواداری بہترین خصوصیات ہیں انہیں ضرور اختیار کریں مگر اپنی ذات کو خود غرض اور شیطانی صفت رکھنے والے لوگوں کے لئے ڈور میٹ (پائے دان) نہ بنائیں۔ خود کو دوسروں کے ہاتھوں میں ٹشو پیپر بننے نہ دیں آپ کی اچھائی کے بہت سے اچھے لوگ مستحق ہیں۔ اخلاق کی فضول خرچی سے بچیں ورنہ اخلاق کے معاملے میں یہ دنیا کنگال کر دیگی۔ اپنی مثبت اینرجی کو برباد ہونے سے بچائیے۔ اگر آپ کے دل میں اچھائی کرنے کی خواہش ہے تو دعا کریں اللہ آپ کو اچھائی کے مستحقین تک رسائی دے دیگا ۔ وما علینا الا البلاغ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button