بلاگز

افغانستان کی تاریخ

صدیوں سے افغانستان فوجی مہمات کا مرکز رہا ہے تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان پر کئی قوموں اور طاقتور ملکوں نے حکومت کی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی حملہ آور بیک وقت  اور پورے افغانستان پر قبضہ نہیں کر پایا دنیا کی تاریخ میں افغانستان کا ایک دوسرا کردار بھی ہے اسی افغانستان سے سے اٹھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتور ترین سلطنت قائم ہوئی جن میں چند مشہور ترین سلطنتیں غزنوی سلطنت غوری سلطنت تیموری سلطنت خلجی سلطنت مغل سلطنت اور ابدالی سلطنت شامل ہیں انہی میں سے ایک سلطنت جس کو تیموری سلطنت کہتے ہیں اس میں پندرہ سو چار میں امیر تیمور کی قیادت میں سلطنت عثمانیہ جو اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت اور سپرپاور کا درجہ رکھتی تھی کو نیست و نابود کر کے سلطنت عثمانی سلطان بایزید ثانی قید کر لیا بعد میں کسی وجہ سے امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے اوپر حکمرانی نہیں کی بھاری تاوان ستان کی تاریخ اٹھارویں صدی سے شروع ہوتی ہے اور احمد شاہ ابدالی جدید افغانستان کا بانی سمجھا جاتا ہے آثار قدیمہ کے امریکی ماہرین افغانستان کے صوبے میں کھدائی کے دوران 800 کے قریب قدیم چیزیں دریافت کیں جن میں انسانی کھوپڑی کی ہڈی شامل ہے ماہرین آثار قدیمہ محکمہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین میں باون ہزار سال پہلے بھی انسان موجود تھے 330 قبل مسیح میں پرشین امپائر کے آخری بادشاہ کو شکست دینے کے بعد سکندر اعظم افغانستان کی زمین پر پہنچا تو یہاں پر اس کو بہت مزاحمت کرنی پڑی یہی وہ وقت تھا جب سکندر اعظم نے کہا تھا کہ افغانستان کے اندر داخل ہونا بہت آسان ہے مگر یہاں سے نکلنا بہت مشکل سکندر اعظم کے بعد افغانستان کے اوپر کی تہذیبوں کے قبضے ہوئے تیسری صدی میں قندھار تحریک کا آخری بادشاہ وسودارہ بھی ختم ہو چکا تھا اس کے بعد افغانستان پر ایرانی سلطنت کا قبضہ ہوگیا
اسلام سے پہلے یہ پرشین امپائر کی آخری سلطنت تھی جس کا حوالہ تاریخ سے ملتا ہے اس کے بعد سترہ سو پچاس تک افغانستان ایران کا حصہ رہا اس کے بعد بہت زیادہ نشیب و فراز دیکھے اور افغانستان مختلف ملکوں کے قبضہ میں جاتا رہا ہے اور پھر اس کے بعد آزاد ہوتا
جدید افغانستان میں نائن الیون ن کے بعد امریکہ نے افغانستان کے طالبان کے اوپر اٹیک کرنا شروع کردیئے اور اپنے اتحادیوں سے مل کر اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی تلاش شروع کردی اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی تلاش میں افغانستان نے نے میں میں امریکہ نے بہت زیادہ حملے کئے  اور پھر اسامہ بن لادن کو شہید کر لیا پھر امریکہ نے افغانستان پر بہت سارے ترقیاتی پروجیکٹ لگائے بہت سارے کام کیے یے لیکن اسی وقت سے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں امن مذاکرات سے ہو سکتا ہے انہوں نے کئی مواقع پر اس چیز کا ذکر کیا مگر اس وقت امریکا سمیت کسی نے عمران خان کی بات پر توجہ نہیں دی  امریکہ کو 20 سال افغانستان میں رہنے کے بعد  عمران خان کی ہی بات پر عمل کرنا پڑا اور اپنی فوجوں کو افغانستان سے واپس لے گئے صحیح کہا تھا سکندر اعظم نے تاریخ میں کہ افغانستان کے اندر آنا جتنا آسان ہے افغانستان سے واپس جانا اتنا ہی مشکل ہے آج طالبان افغانستان کے اوپر قبضہ کر چکے ہیں اور پانچشعر بھی طالبان کے قبضے میں جا چکا ہے  گیارہ ستمبر کو طالبان باضابطہ طور پر افغانستان کے اوپر اپنی حکومت وقت کا اعلان بھی کر چکے ہیں ایک دفعہ پھر افغانستان کے اوپر طالبان کا بیس سال کے بعد دوبارہ قبضہ ہو چکا تھا امریکہ جس طرح اپنی پوری طاقت کے ساتھ افغانستان میں آیا تھا اسی طرح اس کو افغانستان سے واپس جانا پڑااور اس موقع پر کسی نے کیا خوب کہا کہ سپر پاور صرف اللہ کی ذات ہے

Twitter address @Ali_AJKPTI

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button