صحت

ابتدائی علاج سے ہکلاہٹ کو دور کیا جاسکتا ہے

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ افراد ایسے ہیں جو ہکلاہٹ کا شکار ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ہکلاہٹ کی پریشانی انسانوں کو کیوں ہوتی ہے اور اس پریشانی کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے؟

اسی سلسلے میں ہم نے آڈیولوجسٹ اینڈ اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ (ایس پی ایل) اور حیدرآباد کے تلنگانہ آڈیولوجست اور اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ ایسوسی ایشن کے بانی ڈاکٹر کے ناگیندر سے خصوصی بات چیت کی۔جہاں انہوں نے اس مرض کے بارے میں وضاحت سے بات چیت کی۔

جب کوئی شخص روانی کے ساتھ تقریر دیتا ہے تو پورے محفل میں تالیاں بجاکر اس کی سرہانا کی جاتی ہے۔ لیکن بعض اوقات ہمارے اطراف میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو روانی کے ساتھ بولنے سے قاصر ہوتے ہیں یا بولتے وقت ان کی زبان میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوجاتی ہے، جسے ہکلاہٹ یا لکنت کہا جاتا ہے۔اگر اس مرض کو بچپن میں درست نہیں کیا گیا تو زندگی کے اہم مراحل میں یہ پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔اس لیے زبان کی اسی لکنت کا شکار افراد کی پریشانی کا احساس دلانے کے لیے ہر برس 22 اکتوبر کو آگاہی برائے ہکلاہٹ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس مرض کے حوالے سے شعور پیدا کرنا ہے۔رواں برس اس دن کا موضوع ہے ‘ایک ایسی دنیا جو ہکلاہٹ کے مسائل کو سمجھ سکے’۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ افراد ایسے ہیں جو ہکلاہٹ کا شکار ہیں یا جن کی زبان میں لکنت ہے۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ہکلاہٹ کی پریشانی انسانوں کو کیوں ہوتی ہے اور اسے پریشانی کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے؟ اسی سلسلے میں ہم نے آڈیولوجسٹ اینڈ اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ (ایس پی ایل) اور حیدرآباد کے تلنگانہ آڈیولوجست اور اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ ایسوسی ایشن کے بانی ڈاکٹر کے ناگیندر سے خصوصی بات چیت کی۔جہاں انہوں نے اس مرض کے بارے میں وضاحت سے بات چیت کی۔لوگ ہکلاتے کیوں ہیں اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ڈاکٹر ناگیندر نے بتایا کہ زبان میں پیدا ہونے والی اس لرزش یا لڑکھڑاہٹ کو ہکلاہٹ (اسٹٹرینگ) کہتے ہیں۔اس مرض میں گفتگو کے دوران حرف کی ادائیگی میں پریشانی ہوتی ہے۔ایسے مرض میں مبتلا لوگ دوسرے لوگوں کی طرح آرام سے بول نہیں پاتے ہیں۔نیز بعض اوقات ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں بات کرنے یا بولنے کے دوران ہکلاہٹ ہوتی ہے لیکن جب وہ گانا گاتے ہیں تو اس وقت انہیں اس پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔لہذا یہ واضح ہے کہ اگر بولتے یا گاتے وقت ہکلاہٹ ہوتی ہے تو 98 فیصد لوگوں کو بات چیت کے دوران ہکلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہکلاہٹ کے کچھ وجوہات1. جینیاتی وجوہاتہکلاہٹ کی بےشمار وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں سب سے نمایاں وجہ خاندانی سمجھی جاتی ہے۔بہت سارے معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ یہ مرض والدین میں پائے جاتے ہیں اور بعد میں یہ پریشانی والدین کے جین کے ذریعہ بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔2. نقل کرنادوسرے لوگوں کی نقل کرنا بھی بچوں میں اس پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔اگر کوئی بچہ کسی ایسے شخص کی نقل اتارنے کی کوشش کرتا ہے جسے بولنے میں پریشانی ہوتی ہے تو امکان ہے کہ وہ بھی وقت کے ساتھ اس مرض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔3. تناؤنفسیاتی مسائل کے باعث بھی لوگوں کو گفتگو کرنے میں ہکلاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض افراد کسی پریشان کن صورتحال میں بھی ہکلانے لگتے ہیں جیسے انٹرویو وغیرہ کے دوران جو جزوی ہوتی ہے4.اعصابی مسائلبعض اوقات حادثات دماغی چوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں۔جس کے نتیجے میں دماغ کا وہ مخصوص حصہ، جو ہمیں بولنے اور بات چیت کرنے کے قابل بناتا ہے، کو نقصان پہنچتا ہے تو اس شخص میں بھی ہکلاہٹ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔5. احساس کمتریکبھی کبھی احساس کمتری کی وجہ سے بھی بچوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے یا بچوں کے ہم جماعت اس کا مذاق اڑاتے ہیں یا پھر والدین یا اساتذہ اکثر بچے کو کم ذہین اور کمتر کارکردگی والا قرار دے کر ڈانٹ، طنز اور طعنوں کا نشانہ بناتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ ٹوکتے ہیں تو اس سے بچوں کی خوداعتمادی ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ روانی کے ساتھ بات چیت کرنے سے قاصر ہوتےہین۔یہ کس عمر میں ہو سکتی ہے؟ہکلاہٹ کی شکایت زیادہ تر بچپن یا جوانی کے عمر میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے ماہر کا کہنا ہے کہ جب بچہ ڈھائی سے 4 سال کی عمر میں بولنے کے عمل کو سمجھنے یا بولنے کی کوشش کرتا ہے تب اسے اس وقت یہ پریشانی ہوتی ہے، جسے عدم روانی کہا جاتا ہے۔والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس عمر میں بچوں پر درست بولنے کے لیے زبردستی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ یہ ہکلاہت خود بخود ہی وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔اگر یہ مسئلہ 4 سال کی عمر کے بعد بھی برقرار رہتا ہے تو والدین کو کسی ماہر اور اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ (ایس ایل پی) سے رابطہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔وہیں اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر بچپن میں بولنے کی صلاحیت کو درست نہیں کیا گیا تو بعد میں اس کا مکمل علاج نہیں کیا جاسکتا۔ہکلاہٹ کی تھوڑی بہت عادت کہیں نہ کہیں موجود ہی رہے گی۔لہذا ہکلاہٹ کی پریشانی کو شروع میں ہی سمجھنا چاہیے اور اس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ہکلاہٹ میں ہوتا کیا ہے؟اس کا علاج کرنے کا واحد اور بہترین طریقہ اسپیچ تھراپی ہے۔ ڈاکٹر ناگیندر نے بتایا کہ عام طور پر ، لوگ کسی لفظ کے ابتدائی حرف کو بولنے کے ساتھ ہی ہکلانے لگتے ہیں۔جیسے:1 اگر وہ قلم بولتے ہیں تو وہ بولتے وقت ق حرف کو بار بار دہرائیں گے۔ ق ق ق ق قلم۔2 کئی بار بولتے وقت ایک حرف پر کئی دباؤ پڑتا ہے جیسے مممماں3 ہکلاہٹ کا شکار لوگ بولتے وقت رک جاتے ہیں پھر جملے کی ادائیگی میں وقت لگاتے ہیں۔4ایک لفظ کو بار بار دہرانا بھی ہکلاہٹ کی علامت ہے۔یا پھر جملوں کے درمیان آواز اور لفظ کا اضافہ بھی ہکلاہٹ ہے۔اس کا علاج کس طرح کیا جاسکتا ہے؟اس طرح کے مسائل کو اسپیچ تھراپی کی مختلف تکنیکوں کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کچھ تکنیک یہ ہیں:- ایئر فلو تکنیک کا استعمال کرنا- سانس لینے کی مشق کرنا- آرام کی مشق کرنا- انگلی ٹیپ کرنے کی ورزشہر تھراپی کا سیشن تقریبا 40 سے 45 منٹ تک جاری رہتا ہے اور عام طور پر 20 سے 40 سیشن کے دوران ہکلاہٹ کو درست کیا جاسکتا ہے۔تاہم جو تکنیکیں تھراپی سیشن میں سیکھائی جاتی ہیں ان تکنیکوں کو گھر میں کرنے اور ساتھ ہی بات چیت کرنے سے بھی ہکلاہٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی فرد ذاتی سطح پر ان تکنیکوں کا استعمال نہیں کرتا یا تھراپی سیشن کے علاوہ ان تکنیکوں کو استعمال میں نہیا لاتا تو ہکلاہٹ دوبارہ ہوسکتی ہے۔لہذا ہر والدین کو اپنے بچوں کی بات چیت کرنے کے انداز سے آگاہ ہونا چاہیے۔والدین کو اسمارٹ فورٹ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انہیں اپنے بچوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے اور اپنے بچون کے بات چیت کے طریقے پر غور کرنے کی ضرورت ہیں کہ وہ کس طرح بولتے ہیں۔بچپن یا بچوں کی ابتدائی عمر میں ہی ان کی اس پریشانی کو علاج معالجے کی مدد سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن والدین کا کردار اس میں سب سے اہم ثابت ہوگا۔اگر علاج میں تاخیر ہوتی ہے تو کسی کو اپنی پوری زندگی اس کے ساتھ ہی گزارنا پڑسکتا ہے۔ساتھ میں عام لوگوں کو اس مرض کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے اور جو لوگ اس سے مبتلا ہیں ان کو طنز اور طعنوں کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی انہیں نظر انداز کرنا چاہیے۔ان کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ ان کے ساتھ بات چیت قائم کرنے کی شروعات کرنی چاہیے اور جب وہ بات کریں تب ان کی بات کو مکمل کرنے کے لیے وقت اور انہیں سننے کےلیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button