صحت

اگر پریشان رہنے کی عادت پڑھ جائے۔

کچھ لوگوں کے دکھ سنوگے تو کہوگے کہ آپ اتنی پریشانیاں اور غموں کے انبار میں زندگی کیسے ہیں۔

پہلے پہل آپ کو کیس بہت پیچیدہ اور مشکل لگے گا۔ یہ ایک ایسے مریض کی مانند ہے جو دل کا مریض ہو ،بلڈ پریشر کا مسئلہ اور ساتھ میں شوگر بھی ،اوپر سے معدے کی شکایت بھی۔ اب ڈاکٹر حیران ہے کہ اب کس مرض کو کنٹرول کریں۔
لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایسے لوگ جو پریشان حال زندگی سے بے زار اور ہر وقت رونے دھونے والے لوگ اصل میں خود کو بدلنا نہیں چاہتے۔
اب بات اصل پوائنٹ کی طرف لاتا ہوں ۔ اگر کسی کو ایک بار ایک چیز کی عادت پڑھ جائے بے شک وہ پریشانی ہی کیوں نہ ہو تو اس کو دنیا کی ہر خوشی لا کر دو تو اس میں بھی پریشانی والی جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ایسے لوگ اپنے پریشانیوں سے تکتے نہیں عادت پڑھ جاتی ہے۔ روتے ہیں لیکن بدلتے نہیں۔ اگر کہو کہ اچھا سوچو کوئی اچھا قدم اٹھاؤ تو جواب آئیگا کہ مجھ سے نہیں ہوگا۔اصل میں ان لوگوں کو عادت ہیں۔ نیا کام چاہے کتنا سکھ والا آسان کیوں نہ ہو لیکن قدم اٹھانا ان کے لیے مرنے سے کم نہیں۔
سوچ بدلیں۔ ارادے کر لیں۔ حالات خود بدل جائیں گے۔
جو کوئی اپنی حالت خود نہیں بدلتا دنیا کا کوئی بھی ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button