صحت

خوشی اورکامیابی کے رازکیا ھے۔

کیا بے تحاشیہ دولت ہی کامیابی ھے۔

کس طرع ہم یہ پتاکرسکتے ھے۔ کہ کوی کامیاب ھے یا ناکام۔ ہم پیمانہ بنا کر اسے جس میں ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی پرکھ سکے۔ یا سمجھ سکے کہ کوی کامیاب ھے۔ ہمارے سوشل stand بنے ھوے ھے کامیابی کے۔ کسی بھی معاشرے میں سوشل stand پہلے سے بنے ھوتے ھے۔ اچھا وہ سوشل stand مڈل انڈسڑی کی اپروچ ھے۔ اچھا جی۔ آپ کی آنکھ جو ھے۔ وہ دیکھے گی گاڑی کا ساہز کیا ھے۔ اور اگر کسی کےگھر گے ھے تو وہ بڑا ھے۔ نوکر ھے۔ چار خدمت گزار ساتھ ھے۔ بندہ کامیاب لگ رہا ھے۔ دنیا کیسے مانے گی کہ میں کامیاب ھوں۔

یعنی ہم دنیا کو بتانے یا منوانے کو کامیابی سمجھتے ھے۔ یعنی کامیابی خارجی کوی چیز ھے۔ باھر کی چیز ھے۔ تو پھر بڑا مشکل ھے کامیابی۔ زیادہ تر یہ خارج کی چیز ھے۔ اور خارج سے مراد ھے سوشل stand۔ بنے بناے stand ہمیں ملتے ھے۔ مثال کے طور پر کپڑے کی قیمت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ھے۔ موباہل فون کو دیکھا جاتا ھے۔ گاڑی کی چابی کون سی ھے ۔ دیکھا جاتا ھے۔ بعض اوقات لوگوں کے پروٹوکول میں چار چار بندے ساتھ ھوتے ھے۔ یہ سب کیا ھے ۔ یہ سوشل stand ھے۔
تو وہ چار بندے ساتھ کیو ھے۔ وہ بتانا چاہ رہے ھے کہ کوی ھے۔کوی دروازہ کسی کے لیے کھول رہا ھے۔ تو وہ بتانا چاہتا ھے کہ بندہ کوی معتبر ھے۔ ایسا کیوں ھے۔ وہ اس لیے کہ ہماری آنکھ کہی نا کہی سوشل Stand سے کامیابی دیکھتی ھے۔ اب یہ سوال کس طرع مانپا جاسکتا ھے کہ کوی کامیاب ھے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ طے کر لے اس کا فصلیہ بندہ خود ہی کرسکتا ھے۔ دوسرے نہیں کر سکتے۔ دوسروں کے لیے کوی اور ڈوز ھے۔ لیکن ایسا مکمن ھے پوری سوساہٹی کے کتنے کامیاب ھے۔ اور وہ بندہ اندر سے انتہای ناکام ھو۔ ایسا بڑی بار ھوا ھے۔ کھوکھلا ھونا۔ خلا ھونا۔ سب دکھاوا ھونا۔ اندر کچھ نا ھونا۔ اندر ایک محرومی کا احساس ھونا۔ even کے بڑے بڑے لوگ فلموں میں آگے۔ان کا نام اتنا بن گیا۔ پہچان اتنی بن گی۔کہ وہ سڑک پر آے تو آٹو گراف دینا شروع کردیتے ھے۔ ان کا ایک اشارہ کرنے کی دیر ھے ۔ دنیا ان کی طرف متوجہ ھونا شروع ھوجاتٕی ھے۔ سب کچھ ھے ان کے پاس۔ اس کے باوجود ایسا کیوں ھوتا ھے۔ وہ سارے سوشل stand کو پورا کرچکے ھے۔ لیکن وہ بھول گے ھے ۔ کہ اس علاوہ بھی کوی کامیابی ھے۔ وہ جن پیمانوں پر پورا اتر رہے وہ دنیا دیکھ رہی ھے
۔۔۔۔۔۔۔گھر بڑا۔ گاڑی بڑی۔ شہرت ھے۔ دولت ھے۔طاقت ھے۔سب پیمانوں پر پورا اترے ھے۔ لیکن ان کے اندر جھانک کر کوی دیکھے۔ تو بولے گا۔ یار پتا نہیں مجھے خالی خالی پن سا محسوس ھوتا ھے۔ خلا سا ھے ۔ پتا نہیں کس چیز کی کمی ھے۔ پتا نہیں کیا ایسا ھے۔

اس کی وجہ یہ ھے کہ۔ کسی نے ان کو بتایا ہی نہیں۔ کہ کامیابی ان چیزوں اور اشیا کا نام نہیں ھے۔ یا یہ جملہ میں ٹھیک بولنا چاھوں کہ اشیا ہی کامیابی نہیں ھوتی۔ جس طرع ایک مادہ اور ایک روح ھے۔تو ہم صرف Metrile طرف سے دیکھ کر کامیابی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اب metrile طرف میں۔ پیسہ کتنا ھے۔ انکم کتنی ھے۔کمایا کتنا ھے۔یہ بھی ایک stand بنا بنایا آپ کو مل جاتا ھے۔ اور آپ کا جو کامیابی کا تصور ھے ۔ آپ کی پوری زندگی اس کے گرد گھوم رہی ھے۔ آپ کے مطابق وہ stand کیا ھے ۔ جس کو آپ کامیابی مانتے ھے۔تو اگر آپ گاڑی کلچر دیکھتے ھے تو آپ کہتےھے واہ۔ موجودہ کلچر نے یہ ہی کیا ھے۔ کیونکہ ان کے پاس دکھانے اور سننے کو اور کوی کچھ تھا نہیں۔ اگر آپ زندگی کو دولت سے مانپ رہے ھے۔ اس سے بڑی بد قسمتی کوی نہیں ھے۔ یہ کس کی دین ھے۔ جی ہاں۔ یہ کاپیڈ کلچر کی دین ھے۔ایک کتاب ھے مرنے والوں کے پانچ پچھتاوے۔
اس کتاب کی کہانی یہ ھے۔ کوی نرس تھی۔ icu۔ میں تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے لوگ مرتے رہے۔ 35سال وہ کام کرتی رہی ۔ اس نے ایک ڈاہری لکھی۔ اس نے دیکھا کہ مرنے والوں کے پچھتاوے کیا ھوتے ھے۔ اس نے نوٹ کیا۔ اورایک بلاگ لکھا۔ آسڑیلیا سے۔ اس میں جو پہلا پچھتاوا ھے ۔کہ کاش میں اپنے پیشن کو فالو کرتا ۔ لوگوں کو فالو نا کرتا۔ بنے بناے راستوں پر نا چلتا۔ ہم سے ہر کوی سوشلی کیڈشین ھے۔

دوسرا پچھتاوا یہ تھا کہ ہم لوگ زیادہ کما لیتے ھے اور خرچتے ھے نہیں۔ یعنی ہم مہنت بہت زیادہ کرتے ھے۔ ۔ اب بندہ مہنت زیادہ کیو کرتا ھے۔ کیونکہ وہ سوشل stand ھے۔ جس کے پاس اشیا زیادہ ھے وہ امیر ھے۔ لوگ جمع کرتے کرتے مر جاتے ھے۔ قبروں تک چلے جاتے ھے۔ جب ھوش آتی ھے تو پتا چلتا ھے کہ اتنا ضرورت ہی نہیں تھی۔

ذرا ایک پل کے لیے سوچیے ۔ ایک مناسب گھر۔ مناسب گاڑی۔ اور مناسب انکم جس میں چار پیسے بچ جاتے ھو۔ کافی نہیں۔ اچھی زندگی کے لیے۔

لیکن کیا ھوتا ھے۔ بندہ ضرب دیتاھے۔ محل بنا لیتا ھے۔ آپ نیب میں جا کر دیکھے بڑے بندوں کے کیس ھے۔ 85 ارب کا پلاٹ ھے۔ پتا چلا جی۔ اچھا کتنا کھا سکتا ھے بندہ ۔ کبھی واقعی سوچیے۔

اچھا کتنا کھا سکتا ھے بندہ۔ کبھی واقعی سوچیے ہمیں کتنے پیسوں کی ضرورت ھے۔ ایک اچھی زندگی کے لیے۔ تو پتا چلتا ھے۔ کہ ہمارے ساتھ دھوکا ھوجاتا ھے۔ہمارے ساتھ دھوکا یہ ھوتا ھے کہ ہم اپنی خوشی کو اشیا کے بڑھانےکے ساتھ کیڈشین کرتے ھے۔ جب بھی آپ خوشی کو رکھو گے اشیا کے ساتھ۔ تو اشیا بڑھتی چلی جاے گی لیکن خوشی نہیں ملے گی۔ جیسے ہی ٹارگٹ پورا کیا نیو خواہش پیدا ھوگی۔ یہ وش کا جو سرکل ھے ۔ جب آپ اس میں پھنسو گے تو۔ کیا ھوگا ۔ خوشی نہیں ملے گی۔

جو مل گیااس پر مطمن ھونا کامیابی ھے۔ بڑا مطمن ھوکر سوچنا کہ جو ھے۔ اللہ کا شکر ھے۔ اچھی زندگی ھے یہ محسوس کرنا۔ اطمینان ھے۔ دیکھے پورا دین جو بتاتا ھے۔ وہ اطیمنان کی بات کرتا ھے۔مطمن ھونے کی بات کرتا ھے۔ قران کہتا ھے خدا کے ذکر میں راحت میں۔ کبھی سوچا ھے اس کا مطلب کیا ھے۔ جو وہ کر رہے ھے وہ ذکر نہیں ھے۔وہ ذکر کی کوی پریکسٹس کی طرع کی کوی چیز ھے۔ بڑے لوگ تسبع پھیرتے ھے۔ خدا کے ذکر میں سکون ھے ۔ اس کا مہفوم یہ ھے۔ جو ذکر ھے ایک بھروسہ پیدا ھو۔
مثال ۔ والدہ دور ھے تو یاد کرے گے ۔ دل اور دماغ سے تو کچھاو پیدا ھوگا۔ جذباتی ھوجاے گے۔ آنکھوں سے آنسو نکل آے گے جب آپ اپنے رب کا ذکر کرے تسبع کرے ۔ تو آپ کا ایک مان دعوہ ھو۔کہ وہ میرا رب ھے جب رب کو یاد کرے گے تو اطمینان تو نازل ھوگا کیسے ھوگا۔ کیونکہ تذکرہ اتنی بڑی ذات کا ھورہا ھے۔ آپ کے خیال میں کیا ھونا چاہیے ۔ کہ یار۔ وہ تو سب سے بڑا ھے۔۔مجھے اس پر بھروسہ ھے۔ مجھے اپنٕے معملات اس کے سپرد کر دینا چاہیے۔ وہ کل پالتا رہا ۔ وہ آج بھی پالے گا۔ وہ کل بھی پالے گا۔ کتنی مشکلوں سے نکال کر اس نے مجھے یہاں کھڑا کر دیا۔ تو جو کریڈٹ دے گے اس کریڈٹ میں وہ رجحان پیدا ھوگا۔جس کا نام اطمیان ھے۔ خوشی نام کامیابی ھے ۔ اطمینان کا نام کامیابی ھے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button