صحت

ذہن کیا ھوتا ھے۔سوچ کیا ھوتی ھے

سوچ ایک وہ قوت ھے جو ہماری روح ھے اور جو جسم ھے اس کے درمیان جو تعلق بنتا ھے۔ وہ سوچ کے ذریعے سے بنتا ھے

پہلےسوچ آے گی پھر ہم اس سوچ کا اظہار کرے گے۔ اور ساتھ ہی اس ہر ہم عمل کرے گے۔ یعنی ہمارے عمل کے پیچھے ایک سوچ ھے۔اور ہر سوچ جو ھوتی ھے۔ اسے ہم ایک عملی جامہ پہننا چاہتے ھے۔ سب سے پہلی بات کہ سوچ قدرت کا ایک عطیہ ھے۔ کہ خدا نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا دی۔ وہ ہی سوچ بھی دیتا ھے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما دی۔اور اب یہ بھی بتا دیا کہ اچھیب سوچ کیا ھوتی ھے۔۔منفی سوچ کیاھوتی ھے۔ اچھی سوچ ھوگی اچھا عمل ھوگا۔ منفی سوچ ھوگی منفی عمل ھوگا۔ سوچ قدرت ہمارے ذہن میں ڈالتی ھے۔ شطیان بھی ہمارے ذہن میں سوچ ڈالتا ھے۔ انسان بھی ایک دوسرے کے ذہن میں سوچ ڈال سکتےھے۔ وہ اچھی سوچ بھی ھو سکتی ھے بری سوچ بھی ھسکتی ھے ۔

استاد کیاکہتا ھے۔ استاد ایک نیو سوچ دیتا ھے۔ لیڈر کیا کہتا ھے۔ ایک نیو سوچ دیتا ھے۔ جو بڑےآپ سے ھوتے وہ آپ کو ایک سوچ دیتے ھے۔ کہ ہمیں اس سوچ پر عمل کرکے بہتری کی طرف جانا ھے۔

اگر بدقسمتی سے وہ ایک شطاینی سوچ ھے۔ تو ہمیں منفی عمل کی طرف لےجاے گی۔ اب یہ سوچ بنیادی چیز ھوجاتی ھے۔ انسان کی زندگی میں۔اور سوچ کے اوپر ہی انسان کو آگے چلنا ھوتا ھے۔ یہ سب جب منفی ھوجاتی ھے پرشان اس سے ہم ھوجاتے ھے
اس لیے سورہ ناس میں یہ پناہ مانگی ھے۔ ایسے وسوسے سے جو برے ھے۔ کن کے وسوسے جن اور انسانوں کے۔ یعنی انسان بھی دوسرے انسان کو منفی سوچ میں ڈال سکتا ھے۔ اس کے اندر وہم پٕیدا کر سکتا ھے۔

یہ ساری سوچ کی قسمیں ھے ۔ تو یہ ہی سوچ ھے جو ہماری باڈی کیمسڑی کے اوپر عمل کرتی ھے۔ جب ہم یہ سوچ سوچتے ھے کہ ہمیں یہ کرنا ھے۔ تو ظاہر ھے ہمارے مسلزز سوچ کے مطابق حرکت میں آتے ھے۔ کچھ سوچیں ھے کہ ہمیں ان کا شعور ھے کہ میں یہ سوچ رہا ھوں۔زیادہ وہ حصہ ھے ۔جو ہمارے لاشعور میں ھے۔ اس لیے کوی بات جو ھے جو ہماری مرضی سے لاکھ چاہیے یاد نہیں آے گی۔

جب ہم ویسے ہی بیٹھے ھوں۔ ایک دم سے چزیں یاد آجاے گی۔ وہ ہی سوچیں ھے جو خواب کا روپ دھارتی ھے۔ جب آپ رات کو سو رہےھوتے ھے۔ تو وہ جو لاشعور میں اس کا چھپا ھوا حصہ ھے۔ ہماری سوچو کا۔ وہ ہی ہماری جسم کے کیمسٹری کےاوپر اثر کرتا ھے۔ اور ہمارے جتنے بھی Vital system۔ ھے یعنی ہمارا نظام تنفس۔ سانس کا نظام۔ دل۔ نظام انہظام ھے۔ یہ سارے نظام جو چھاتی اور پیٹ میں ھے۔ یہ ہماری ایک ان کوشینزز کے تحت چلتے ھے۔
اگر ان کوشننز میں ہماری کوی سوچ ھے۔تو وہ ان کے اوپر اثر اندا ز ھوتی ھے۔۔اچھی سوچ ھوگی آپ سکون محسوس کرے گے۔ آپ کا کھانے کو دل چاہیے گا۔

اگر منفی سوچ ھوگی ۔ آپ کو غم کی سوچ آے گٕی۔تو کبھی بھی کسی چیز کو کھانے کو دل نہیں کرے گا۔ خوف آے گا۔ دل کی دھڑکن تیز ھوجاے گی۔ سانس پھول جاے گا۔ بعض اوقات خوف کی حالت میں بار بار موشن شروع ھوجاتے ھے۔

تو یہ سوچ ھے جو ہماری کمیسڑی کے اوپر اثر کرتی ھے۔ اگر ہماری سوچ اچھی ھوگی تو ہماری باڈی ۔کی کمیسڑی بھی اچھی ھوگی۔ ڈپرشین انزاٹی سے ہم نکل آے گےاور ہمارے جع باڈی کے فگنشن ھے جن کو ہم۔ basic biological funcation۔ کہتے ھے

جس میں ہماری نیند ھے۔ بھوک ھے ۔ جنسی خواہشات ھے۔ وہ ساری چزیں نارمل پر آجاے گی۔ اور وہ ہی جو ہماری اچھی سوچ ھے اس کو ہم ڈیلوو کرتے ھے۔ اور ڈپرشین سے نکلتے ھے۔ اس سوچ کو ہم کہتے ھے۔ ول پاور۔ اور ویل پاور جب ہماری مظبوط ھوجاتی ھے۔ تو ہم کسی بھی ایک مسلے میں سے چاہے وہ انزاٹیی ڈپرشین ھے۔ خفی ھے۔یا وہ سٹریس ھے۔جس سے نکل نہیں پا رہے۔وہ اپنی ویل پاور اپنی سوچ کی تبدیلی سے وہ چیز کرے گا۔اور نکلے گا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button