صحت

انسانی سوچ کیا ھوتی ھے ۔

ذہن جو ھے وہ دو چیزوں سے چلتا ھے۔ ایک جو ھے احساسات ھوتےھے۔ کچھ چیزوں کو محسوس کرتا ھے۔ اور پھر اس کے اوپر چلتا ھے۔

حواس خمسہ سے۔ اور پھر اس کے اوپر ایک سوچdevelopھوتی ھے۔ وہ سوچ ھے جو یا تو persepation۔ کے حوالے سے ھوتی ھے۔ یعنی کسی کی گفتگو سننے کے بعد آپ کے اندر ایک سوچ پیدا ھوتی ھے۔ یا پھر دوسری بات خود آپ کے ذہن میں خیال آتا ھے۔

وہ جو خیال ھے ۔ ایک سوچ ھے۔ وہ ایک عمل میں ڈلتی میں ھے۔ گفتگو میں ڈلھتی ھے۔یا آپ زبان سے اس کا اظہار کرے گے۔ یا عمل سے اس کا اظہار کریں گے۔ یہ سوچ ہی بنیادی کردار ادا کرتی ھے ۔ انسان کے رویے بناتی ھے۔ اور رویے جو معاشرتی velu. ھوتے ھے۔ سوساہٹی کے رواج ۔رسم۔آداب۔ جب عمل ان کے درمیان میں رہتا ھے۔ تو وہ عمل نارمل کہلاتا ھے۔ جس کو نارمل انسان کہتے ھے۔جب وہ حددو سے باھر نکلتا ھے۔ توکہاجاتا ھے۔کہ انسان کا رویہ ٹھیک نہیں ھے۔ یہ نارمل نہیں ھے۔ اور جب وہ چیز زیادہ بڑھ جاتی ھے۔

تو پھر ظاہر ھے انسان ذہنی علاج کی طرف چلا جاتا ھے۔ تو بنیادی چیز جو ھے وہ یہ سوچ ہی ھے۔ سوچ سے ہی ہمارے سارے ذہنی امراض جنم لیتے ھے۔ اور اس سوچ کو ہی ٹھیک کرکے ہلدی کرکے۔ ہم ذہنی امراض سے بچ سکتے ھے۔ اور دوسروں کو بچا سکتے ھے۔ اور اس بگڑی سوچ کو ہی بہتر کرکے ہم ذہنی امراض سے باھر آسکتے ھے۔

یعنی ایک طرف انسان کی خواہش ھے۔ اور دوسری طرف اس کی حقیقت ھے۔جتنا اس انسان کی خواہش اور حقیقت میں فرق ھوگا۔ اتنا ہی تضاد پیدا ھوگا۔ اتنا ہی اس کے اندر پرشانی پیدا ھوگی۔ گبھراہٹ پیدا ھوگی۔ وہ جو گبھراہٹ کی سوچ ھے ۔ وہ انسان کے رویے پربھی اثر انداز ھوگٕی۔ اور جسمانی طور پر بھی ہمارے اوپر اس کے اثرات ھو گے۔

اسی طرع سے انسان ایک چیز کو حاصل کرنا چاہتا ھے۔ اس کا ایک مقصد ھے ۔اس مقصد کی طرف وہ رواں دواں ھے۔ لیکن اس میں روکاٹیں آتی ھے۔ وہ انھیں حاصل نہیں کرپاتا۔
تو ایک رویہ یہ ھے کہ مایوسی کی سوچ پیدا ھوجانا شروع ھوجاتی ھے۔ وہ مایوسی کے خیالات ڈپرشین کی طرف لے جاتے ھے۔ایسے ہی سوچ انسان کو آتی ھے ۔ اگر وہ سمجھتا ھے کہ یہ سوچ ٹھیک نہیں۔ تو وہ کہتا ھے میرا وہم ھے۔ مجھے شک ھے۔

جب وہ خود دیکھتا ھے کہ اس کی سوچ نارمل نہیں ھے۔ اور اسے شک یا وہم کہتا ھے۔ اور اسی کے اوپر بھی وہ رویہ اختیار کرتا ھے۔یعنی وہم بھی اسے شدید گبھراہٹ پیدا کرتا ھے۔ تو وہ بار بار ایک کام کرنا شروع کردیتا ھے۔ جیسے ہم کہتے ھے ۔کہ ایک بندے کو مسلسل احساس ھورہا ھے کہ اس کے ہاتھ ناپاک ھے۔ تو وہ بار بار ہاتھ دھو رہا ھے۔

اب یہ ہی سوچ انسان نہیں دیکھتا ۔ اب سوچ تو منفی ھوتی ھے لیکن وہ کہتا ھے ۔ میں بلکل ٹھیک سوچ رہا ھوں۔میری سوچ بلکل ٹھیک ھے۔تو نفیسات کی زبان میں ہم کہتے ھے۔ یہ ڈی لوجن ھے۔ یعنی اس شخص کا جو پس منظر ھوتا ھے۔ معاشرتی تعلیمی۔ اس سے وہ ہٹ کر ھوتا ھے۔ وہ سوچ اس سے میل نہیں کھاتی اس کی نارمل زندگی کے ساتھ۔ نفسیات میں سے ڈی لوجن کہتے ھے۔ اور اس ڈی لوجن میں جب اس کا موڈ ساتھ بہت اوپر ھوگا۔ یا وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے گا۔ تو نفسیات میں بولے گے ۔ یہ مینک ھے۔ جب اس میں موڈ ہمیں نہیں نظر آے گا۔ تو ہم کہے گے ۔ پاگل پن ھے۔
تو اس طرع سے سوچ جوھے۔ وہ تمام ذہنی امراض کی بنیادی سوچ ھوتی ھے۔ کہ ہم نے اس میں یہ دیکھنا ھوتا ھےکہ انسان سوچ کیا رہا ھے۔ جو وہ سوچ رہا ھے اس کی سوچ کے پیچھے کیا عوامل ھے۔

تو پھر ہم باقی چزیں دیکھتے ھے۔ اس مریض میں اور کیا کیا چزیں ھے۔ لیکن یہ ہی جو سوچ ھے بیمار سوچ ھے۔ آہستہ آہستہ اس شخص کو معاشرے سے دور کرتی چلی جاتی ھے۔ تو جب معاشرہ دیکھتا ھے کہ یہ سوچ ابنارمل ھے۔ تو معاشرے کے اندر سب سے پہلےط فرد کا اپنا گھر آتا ھے۔ پھر اس کے working place ۔ آتے ھے۔ یا وہ طالب علم ھے۔ بچہ یا نوجوان ھے۔ تو اس کا تعلیمی نظام آتا ھے۔ جس سکول کالج میں پڑھ رہا ھے۔

تو وہاں جو رویے اس کے ھوتے ھے جو سوساہٹی رویے اختیارکرتی ھے۔کبھی سپوٹنگ ھوتا ھے۔ اور کبھی سپوٹنگ نہیں ھوتا۔ یعنی وہ سوچ اور رویہ مثبت نہیں ھوتا۔ اس کی سوچ کو سمجھا نہیں جاتا۔ وہ جو رویہ ھوتے ھے۔سوساہٹی کے وہ مریض اور سوساہٹی کے اندر فاصلہ بڑھ جاتا ھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button