صحت

نفسیاتی امراض میں اضافہ ۔کیا وجوہات ھے۔

اکثر یہ دیکھنے میں آیا ھے کہ جو چھوٹا بچہ ھوگا ۔9سے10سال کا یا اس بھی کم عمر کا تو اس کے ہاتھ میں والدین نے موباہل دیا ھوا ھوتا ھے

اور وہ ٹچ کرکے اپنی یوٹویب پر کارٹون لگا کر دیکھ رہا ھوتا ھے اپنی مرضی کے۔تو والدین بڑا خوش ھوتے ھے کہ دیکھے جی کتنا چھوٹا بچہ ھے اور کتنا اچھا فون استمال کر رہا ھے۔

یہ ہی چیز ھے جو بچے کی شخصیت کو خراب کرتی ھے۔ اب اس میں ھوتا کیا ھے۔ کہ ہمارا جو جاگنے اور سونے کا نظام ھے۔ وہ روشنی کے ساتھ تعلق رکھتا ھے۔جہاں سے روشنی دونوں آنکھوں کے ذریعے دماغ میں جاتی ھے۔ تو جہاں یہ کراس ھوتا ھے وہاں ناخن کے ساہز کا ایک چھوٹا سا عضو ھوتا ھے ۔ جسے ہم کہتے پانیر باڈی۔ وہ جو پانیر باڈی ھے اس کو آپ کو یوں سمجھے جیسے وہ دماغ کا ڈیجٹل سیل ھے۔ جو سگنل دیتا ھے۔ اس کے اوپر جب روشنی پڑتی ھے ۔تو جو پانیر باڈی سٹسم جو ھوتا ھے وہ ہمارے دماغ کو active کرتا ھے۔
توجو پانیر باڈی ھوتی ھے۔ جس پر روشنی پڑے گی تو وہ سارٕے سٹسم کو actve کر دے گا۔ اور ہمارا پورا دماغ جاگ جاے گا۔ اور ہم بیدار ھوجاے گے۔ اب ھوتا یہ ھے کہ جو ہمارا زیادہ وقت جو ھے جب وہ سکرین کےسامنے گزرتا ھے۔ تو پانیر سیل سیل جو ھوتا ھے ۔ وہ over charge ھوجاتا ھے۔

جس کی وجہ سے وہ مسلسل دماغ کو active رکھتا ھے۔ جس کی وجہ سے نیند دیر سے آتی ھے ۔اگر بچہ جاگ رہا ھوتا ھے تو اس کے اندر ایک طرع کی ہای پری پیدا ھوجاتی ھے۔ پھر بہت زیادہ اچھل کود۔ مار دھاڑ بچے بہت زیادہ ہای پر active ھوجاتےھے
تو جب وہ بچہ سوے گا تو ایک تو دیر سے سوے گا۔ اور سونے کے دوران اس کی dreaming timing جو ھے وہ ڈسٹرب رہے گی۔ اور بچہ نا فریش اٹھے گا اور نا ہی اس کے دن معملات درست ھوگے۔ تو اس چیز کو مدنظر رکھنا ھے جو disorder ھے۔ جسے ہم ATHT یعنی ہاپیر ایکٹو ڈس آڈر کہتے ھے۔ یعنی بہت زیادہ بچے over active ھوجاتے ھے

اورپرفامنس بھی کمزور ھوجاتی ھے۔تو یہ جو فون کا استمال ھے ۔ سکرین ٹاہم جو بچوں میں بڑھ رہا ھے۔ اس کی وجہ سے disorder بڑھ رہا ھے۔
ایک اور چیز جو والدین کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ جب بچے زیادہ تر اکیلے وقت فون ہر گزارے گے۔ تو ان انٹرشکف کم ھوگا۔ یعنی وہ بچے دیر سے بات کرے گے۔ یہ بھی چیز بہت آجکل عام ھوری ھے۔ کیونکہ بچے کے ساتھ جب والدین بات چیت کرتے ھے۔ یا کہانی سناتے ھے۔ تو بچہ جلدی بولنا شروع کردیتا ھے۔ جب وہ اکیلا خاموش پڑا کارٹون دیکھتا رہے گا۔ تو وہ جلدی بولنا شروع نہیں کرے گا۔

تو یہ جو ATH ھے۔ جب بچے بڑے ھوجاتے ھے۔ تو وہ ذرا سی بات پر غصہ اور لڑای جھگڑا کرتے ھے۔ اس سے جو بچے جو نوجوانی میں ھوتے ھے ان کی شخصیت پر برا اثر پڑتا ھے۔ یہ چیز جب بڑھتی چلی جاے گی۔ تو ظاہر پورا معاشرہ خراب ھوجاے گا۔
تو اس چیز کا والدین خاص خیال رکھیں۔کہ چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں فون نا پکڑاے۔ جب تک وہ سکول نا جانے لگ جاے۔اس کے بعد بھی احتیاط کریں۔اگر بچہ دیر سے سوے گا تو ہر چیز اس کی اپ سیٹ رہے گی۔ پورا باہیو لوجیکل سٹسم جو اللہ تعالی نے بنایا ھے ذہن کے اندر فٹ کیا ھے۔ وہ disorder ھوجاے گا۔ اس سے سونے جاگنے کھانے پینے کا نظام متاتر ھوجاے گا۔ اس حوالے سے والدین کو خیال کرنا چاہیے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button