بلاگز

اسلام اور سائیکالوجی

ہمارا پیارا مذہب (اسلام) ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اگر کوئی اسلام پر چلنے کی کوشش کرے ، دین کو پڑھنے اور سمجنھے کی کوشش کرے تو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ایک جامع ذخیرہ نہ صرف موجود ہے بلکی عملی طور پر اس کو اپنی زندگی میں لانے کے افادیت بھی رکھے ہیں۔

سائیکولوجی میں ہم لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے ، حالات زندگی میں پریشانیاں ، مشکلات ، رکاوٹیں، الجھنیں اور مصیبتوں کے ساتھ کس طرح اپنے اپ کو ایڈجسٹ کیا جائے۔کس طرح زندگی کے حصول کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ لوگ ڈپریشن ، اینزائٹی ، منفی خیالات، گبھراہٹ ، گھریلو مسائل ، ازدواجی مسائل کا حل سائیکولوجیکل طریقے سے حل کرنے کی بھرپورکوشش کرتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی جانا ھے کہ اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔ کیا ان پریشانیوں کا حل اسلام کے رو سے ممکن ہے۔
اپ کو حیرت ہوگی کہ جس وقت سائیکولوجی کی بنیاد بھی نہیں بنی تھی اس وقت اسلام ہی لوگوں کی نفسیاتی مسائل کا بہترین معالج تھا اور ہے۔
اسلام نے ہمیں دل کی روحانی بیماریوں سے بچنے کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ اس پر اللہ رب العزت نےقرآن کریم میں بہت بار ان بیماریوں کے نہ چھوڑنے پر وعید نازک کی ہے۔
وہ دل کی بیماریاں کون کون سی ہو سکتی ہیں۔ ( حسد ، عناد ، بغض ، جھوٹ ، بہتان ، غرور ، ریا کاری )
یہ دل کی وہ بیماریاں ہیں اگر کسی بھی انسان نے ان عادتوں کو چھوڑنے کی کوشش کی تو زندگی میں وہ کبھی دکھی نہیں ہو سکتا۔ زندگی میں اس کا کبھی دشمن نہیں ہو سکتا۔ اس کو ہمیشہ خوشی اور دلی اطمینان رہیگا۔
ان بیماریوں کے چھوڑنے سے اپ کے ذندگی میں کچھ اچھے عادات خود بن جائیں گے۔
وہ عا دات ہے۔ وسیلہ رحمی، اخلاق، سچائی، نیکی، خلوص ، اور عاجزی،
یہ ساری اچھی عادتیں بری خصلتوں کے چھوڑنے سے ہی اۓگی، جیسے اگر غرور نہ کروگے تو عاجز رہو گے، غیبت نہ کروگے تو سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہونگے، جھوٹ نہ بولوگے تو سچا کہلاوگے
سایئکالوجی اور سائنس کہتی ہے لوگوں کو معاف کرنا سیکھو دماغ کو بہت انرجی ملے گی۔ ہماری ساری انرجی فضول سوچ اور بدلے کی اگ میں چلی جاتی ہے۔ اسلام نے پہلے بتایا کے سب کو معاف کرو۔
سائیکالوجی اور سائنس اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اپنے حال میں خوش رہنا سیکھو، لوگوں کے ساتھ مواذنہ چھوڑوگے تو زندگی میں جینا سیکھ سکتے ہو۔ اسللام ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے،
میرا ان لوگوں سے انتہائی مودبانہ سوال ہے جو اسلام کو سائنس اور سائیکولوجی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو مشکلات کا حل سائنس سے تو لینا چاہتے ہیں لیکن اسلام اور مسنون دعاوں پر یقین نہی رکھتے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button