صحت

ADTH بچوں کی ایک خطرناک بیماری ھے۔ جو ان کی دماغی صہت پر اثر انداز ھوتی ھے۔

ایک مرض جو بہت ضروری ھے ۔ بچوں کی شخصیت کے بارے شناخت کرنا۔ کہ بچہ اپنی قابلیتوں اور تعلیمی صلاحتیوں کواستمال کر کے اچھا شہری بن سکے۔

بچے کی جو بچپن میں تربیت ھے وہ کس انداز سے ھونی چاہیے۔ تاکہ آگے جاکر اس کے رویہ میں جو مساہل پیدا ھوتے ھے۔ وہ پیدا نا ھو۔ دیکھے بچے جو ھے۔ وہ ایک فطرت ۔اللہ تعالی کی ایک فطرت پر پیدا ھوتے ھے۔ کوی بچہ تمیز دار یا بدتمیز پیدا نہیں ھوتا۔ نا ہی وہ عادتیں لے کر آتا ھے اپنی جینس میں۔ کہ ایک بچہ نے تمیز دار رہنا ھے بدتمیز رہنا ھے۔

یہ جو ساری چزیں ھے ۔ بچے کو اس کا ماحول سکھاتاھے۔ دیکھے ایک والدین کی حثیت سے ہم کو یہ ماننا چاہیے کہ ہم ہی بچے کو تمیز دار بناتے ھے اور ہم ہی بدتمیز بناتے ھے۔

سب سےپہلا جو بچے کے لیے رول ماڈل ھوتا ھے۔ وہ والدین ھوتے ھے۔ اس میں جو باپ ھے۔ بچہ سب سے پہلے اس کو فالو کرے گا۔ بیٹی ماں کو فالو کرے گی۔ جیسے باپ کا رویہ ھوگا۔ اگر باپ اونچی طرز کا بولتا ھے۔ تو بچہ بھی ویسے ہی بولے گا۔ اگر والد گفتگو میں گالیاں نکالتا ھے تو بچہ بھی گالیاں نکالے گا۔ اور سیکھ جاے گا۔

اس طرع سے جورویے انداز گفتگو ماں کے ھوگے۔ اس طرع کا انداز گفتگو اس کی بیٹی ھوگا۔ تو جب ہم ماں باپ بن جاتے ھے ۔ تو اس بات کا خیال کرنا ھوتا ھے۔کہ ہم جوحرکات کر رہے ھے۔ گفتگو کر رہے ھے وہ بچے کے ذہن پر نقش ھورہی ھے۔ اور بچہ اسے ریکاڈ کر رہا ھے۔

اور بچہ کویہ ھوتا ھے۔ کہ میرے والدین جو کررہے ھے وہ بلکل ٹھیک کر رہے ھے۔ اور مجھے بلکل ایسا ہی کرنا ھے۔ اس وجہ یہ ھوتا ھے۔ کہ ایک خاندان ۔ایک گاوں۔ اور ایک گھر کا ماحول بن جاتا ھے۔ وہ ماحول اس وجہ سے بنا ھوتا ھے۔ کہ کوی اسےختم کرنے یا بہتر کرنے کا سوچتا ہی نہیں ھے۔

تو ہمیں بچوں کے ساتھ یہ چزیں ذہن میں رکھنا ضروری ھے۔ کہ بچہ ہمیں فالو کر رہا ھے۔ اور ہر چیز اس کے دماغ میں نقش ھورہی ھے۔ یہاں تک کہا جاتا ھے کہ بچہ ماں کےپیٹ میں ھے اور ماں کا جو موڈ ھے اس پر اثر انداز ھوتا ھے۔

دیکھے عام سی بات ھے اگر پیٹ میں گڑبڑ ھے تو انسان محسوس کرتا ھے۔ اور آوازیں سنتا ھے تو جب اندر کی آواز باھر آسکتی ھے۔ تو باھر کی آواز اندر بھی جا سکتی ھے۔ تو اس چیز کو ذہن میں رکھیں کہ ماں جب حاملہ ھوتی ھے۔ تو اس کا جو موڈ ھے وہ بچے کی شخصیت پر اثر انداز ھوتا ھے۔ اور وہ کیاخوراک رکھتی ھے وہ بچے کی جسمانی ساخت کے اوپر اثر انداز ھوتی ھے۔اس طرع سے ماں اگر حمل کے دوران اچھی خوراک استمال کرتی ھے۔ یہ سمجھتے ھوے کہ میں نے بچے کے حصہ کا بھی کھانا ھے۔

خاص طور ہر پھل سبزیاں تو اس سے بچے کی دماغی نشورنما بھی اچھی ھوتی ھے۔ اور بچہ بہت ساری دماغی ذہنی امراض سے بچا رہتاھے۔ اس طرع سے حمل کے دوران ہر طرع کی میڈسن سے بھی اجتناب کریں۔ چھوٹی تکلیف کو برداشت کریں۔اور بغیر ڈاکڑ کے مشورے کے کوی میڈسن حمل کے دوران استمال نا کرے۔ 9 ماہ تک عورت کو کوی میڈسن استمال نہیں کرنا چاہیے۔

لیکن پہلے 3ماہ بلکل نہیں۔اس کے بعد اگلے3 ماہ اور پھر اس کے آگے 3 ماں کچھ ادوایات ھے جو ھے save سمجھی جاتی ھے۔ وہ استمال کی جاے۔ وہ بھی ڈاکڑ کےمشورے کے مطابق۔ مگر پھر بھی چھوٹی تکلیف کو برداشت کیا جاے۔ کیونکہ اس کےاوپر بڑی ذمہ داری ھوتی ھے۔

کیونکہ اگر بچہ کسی دماغی یا جسمانی امراض کے ساتھ پیدا ھوتا ھے۔ تو اسے والدین نے ہی برداشت کرنا ھے۔ اور اس طرع سے ماں سبزیاں سلاد کےپتے استمال کرے۔ اس میں فالو کیسڈ زیادہ ھوتا ھے۔ جتنا زیادہ فاکو کیسڈ ھوگا دماغ کی نشورنما اتنی ہی اچھی ھوگی۔

تو اگر ماں موڈ اچھا رکھتی ھے۔حمل کے دوران اور بیٹھ کر اونچی آواز میں تلاوت کرتی ھے۔ قران پاک کی۔ توبچہ پیٹ میں قران سنتا رہے گا۔ اس طرع سے ماں کا موڈ۔ ماحول ۔ یہ تمام چزیں بچے کی شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔

اگر آپ چاہتے ھے بچہ تمیز سے بولے نرمی سے بولے۔عزت کرے۔ تو اس بچے کی عزت کیجے۔اس کے ساتھ نرمی کی زبان استمال کیجے۔ اچھی زبان میں گفتگو کیجے۔ بچہ زبان بھی وہ بولے گا جو والدین بولتےھے۔ جیسے پٹھان کا بچہ پٹھان کی زبان بولے گا ۔ اور پینجابی کا بچہ پینجابی بولے گا۔

تو جیسے آپ چاہتے ھےکہ بچہ کیسی زبان اور کیسی تمیز اختیار کرے وہ آپ بچٕے کے ساتھ اختیار کیجے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button