صحت

انسان کا سب سے بڑا دشمن نفسیاتی امراض ھے ۔ جو اس کی زندگی کو متاثر کرتے ھے۔

والدین اور ستاد اگر بچوں میں کوی نشورنما مسلہ ھے۔ تو والدین کو اس چیز کو دیکھنا چاہیے۔ جتنا بھی جلدی والدین بچوں میں کوی جسمانی نقاص کا اندازہ ھوتا ھے۔ تو بچوں کو ڈاکڑ کے پاس لےکرجانا چاہٕے۔ اسی طرع سے اس میں کوی نفسیاتی امراض کی کوی بات نظر آتی ھے۔ تو فورا ماہر نفسیات سے رابطہ کرنا چاہٕے

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ھوے بات کرتے ھے۔ بچوں میں ایک اشیو ھے۔ آجکل بچوں میں ایک ہراس منٹ ھورہی ھے۔ بچوں کے ساتھ جو گرے ھوٕے رویے اختیار کرتے ھے۔ اور ایسے واقعات جو ھوتے ھے۔ کہ بچوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ بد فعلی کی گی اور پھر قتل کر دیا گیا۔

اس کا سدباب کرنے کے لیے والدین اور استاد کو بھی کوشش کرنا چاہیے۔ایک ماہر نفسیات کے مطابق مشہورہ ھے۔ کہ بچوں میں جو تعلیم ھے۔ اس میں جو co.education ۔ ھے وہ ہر دوسری تیسری کلاس تک ھونی چاہیے۔ 5کلاس میں co۔education۔نہیں ھونا چاہٕیے۔اور سکول کا انتخاب کرتے ھوے کوشش کی جاے جس میں co.education۔نا ھو۔

لڑکوں کو لڑکوں کے سکول میں اور اسی طرع لڑکیوں کو لڑکیوں کے سکول میں ھونا چاہٕیے۔اسی طرع یہ نظام استاتذہ کے لیے بھی ھونا چاہیے۔ اب چھوٹے بچے جو سے 10 سال کی عمر کو جو پہنچتے ھے۔ ان کو احساس دلانا چاہٕے۔ نا تو آپ نے کسی کو toch کرنا ھے۔ اور نا ہی کسی کو اپنے جسم کو toch کر دینے ھے۔ جو بلوغت یعنی جوانی کے زمانے میں جا رہے ھے۔ان کو یہ بات بہت ہی اوپن طریقعے سے سمجھا دینا چاہیے۔ باپ بیٹے کو سمجھاے۔ اور اسی طرع ماں بیٹی کو سمجھاے۔ اور یہ فرض استاتذہ کا بھی بنتا ھے۔

اور اس طرع سے بچوں کو مخالف جنس کے پاس ٹیوشن کے لیے بھی مت بجھیے۔ حتی کے اس بات کا بھی خیال کرے اگر بچہ قران پڑھنے جاتا ھے۔تو اگر لڑکا ھے تو کسی مرد کے پاس جاے۔ اور لڑکی ھے تو کسی عورت کے پاس جاے۔اور بچوں کو استاد کے پاس اکیلا مت چھوڑے بہتر ھوگا۔ گھر کے لان یا برآمندے میں بیٹھ کر پڑھے ۔ جہاں سے نظر آ سکے والدین کو۔کہ بچہ کیا پڑھ رہا ھے۔

أس چیز کے اوپر توجہ بہت رکھنی چاہیے۔ اور ضروری ھے۔دیکھے یہ جو وقت ھے۔ 9 سے 15سال تک جب بچہ پوری طرع سے بالغ ھوجاتا ھے۔ اور اچھے برے کی تمیز کر لیتا ھے۔ یہ بہت اہم سٹیج ھوتی ھے۔ اور اگر اس دوران بچے کے ساتھ کوی ایسا حادثہ ھوجاتا ھے۔ تو اسکے بہت ہی خطرناک نتاہج ھوتے ھے۔ اس کی شخصیت کے اوپربھی۔ اور وہ بہت عرصے تک اس اشیو کو ذہن سے نکال نہیں پاتا۔ جو زخم ھے وہ بھر نہیں پاتا۔ اور بچے کی شخصیت متاثر ھوجاتی ھے۔

تو یہ چند احتیاط والدین اور استاتذہ کریں ۔تو بچوں کا بچپن ایسا گزر سکتا ھے۔ جسے ہم خشگوار بچپن کہتے ھے۔ جس میں ایسے حادثات سے بچا جاے۔ اس چیز کا بھی بہت خیال رکھنا ھے کہ گھر اگر دوست بھی آتے ھے۔تو لڑکے یا لڑکیاں کمرہ بند نا کرے۔ کھڑکیاں بند نا کرے۔تاکہ والدین دیکھ سکھے کیا چل رہا ھے۔ اور بچوں کے دوستوں پر والدین کی نظر ھونا چاہیے کہ وہ کس طرع کے ھے۔ یہ بہت ہی اہم اور ضروری چیز ھے ۔جس پر والدین کو بھی اور استاتذہ کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ تاکہ دہنی نشورنما برباد نا ھو

متعلقہ مضامین

Back to top button