صحت

انسان کی نشورنما کہا سے شروع ھوتی ھے۔

ایک ایسی چزیں ھے۔ جن کو نفسیاتی امراض تو نہیں کہتے۔ بلکہ یہ بولے گے۔ بچوں میں نفسیاتی علامات ھوتی ھے۔

جب بھی کسی بندے پر نفسیاتی دباو پڑتا ھے۔تو اس کےری ایکشن پرھوتا ھے۔ کہ اس کی تعلیم۔عمر۔جنس۔سوشل مقام۔ یہ ساری چزیں جو اس کی شخصیت کا حصہ ھوتی ھے یہ تمام مل کر اس پر اثر انداز ھوتی ھے۔ اور علامات بنتی ھے۔ بچوں کے اندر اکثر یہ ھوتا ھے کہ بچوں میں جو سٹریس پڑ رہا ھوتا ھے۔

بچے اس سٹریس سے آگاہ نہیں ھوتے۔ ان کو نہیں معلوم ھوتا کہ وہ اس وقت کسی ذہنی دباو کا شکار ھے۔ اور ان کے اوپر کوی انزاٹی ھے۔ لیکن علامات ھوتی ھے۔ کیونکہ ان کوپتا نہیں چلتا ۔ کیونکہ انزاٹی ھوتی ھے ۔ ڈپرشین ھوتا ھے۔
اور لاشعوری طور پر ہی ان کی علامات ھوتی ھے۔ ان میں سب سے بڑی وجہ یہ ھوتی ھے ۔ کہ اگر بچوں میں بہن بھاہیوں میں وقفہ کم ھو۔ کہ بچہ ابھی سوا سال کا ھے ۔اور اس کا چھوٹا بہن بھای پیدا ھوگیا۔تو اس میں یہ ھوتا ھے کہ جو بڑا بچہ ھے۔ وہ ماں سے دور ھوجاتا ھے۔وہ جو ماں سے فاصلہ پیدا ھوجاتا ھے۔ بچے کے اور ماں کے درمیان۔ جب ایک اور چھوٹا بچہ آجاتا ھے۔ تو ماں اس کی طرف متوجہ ھوجاتی ھے۔ تو جو بچہ بڑا ھوگا۔ اس میں انزاٹی پیدا ھوجاے گٕی۔

وہ بچہ لاشعوری طور پر وہ بولنا دیر سے شروع کرے گا۔ چلنا دیر سے شروع کرے گا۔ اور اس کے اندر چڑاچڑا پن پیدا ھوجاے گا۔ کیونکہ لاشعوری طور پر اس کی علامات یہ ظاہر ھورہی ھے۔ اگر وہ بچہ چار سال کا ھے اور اس کا دوسرے بچے سے فاصہ ڈھای تین سال کا ھے تب بھی۔

اگر بچے اور ماں کے درمیان فاصلہ ھے۔ تو اس وجہ سے اگر اس نےپہلے بستر پر پیشاب کرنا بند کردیا تھا ۔ اب وہ دوبارہ کرنا شروع کر دے گا۔اگر وہ ٹھیک بولنا شروع ھوگیا تھا تو وہ تولتا بولنا شروع ھوجاے گا۔ اسی طرع فیڈر اگر چھوڑ دیا ھے۔ تو دوبارہ فیڈر مانگے گا۔ ان سب کی وجہ کیا ھوتی ھے۔ وجہ یہ ھوتی ھے ۔کہ وہ اور چھوٹا بن کر لاشعوری طور پر ماں کے قریب ھونا چاہتا ھے۔

اچھا خاص طور پر یہ علامات ایسی صورت میں زیادہ ھوگی ۔ جہاں ماں باپ اور بچے ھوں۔ لیکن جہاں ایسے گھر جہاں نانی دادی خالہ پھوپھی ھو۔ وہاں کسی حد تک بچے میں ایسی علامات کم ھوگی ۔ کیونکہ اسے پتا ھوتا ھے کہ وہ کسی اور کا بھی لاڈلہ ھے۔ بہرحال ماں کا رویہ بچے کے اوپر بہت اثر انداز ھوتا ھے۔

اچھا اب آگے بڑھتے ھے۔ بچوں میں انگوٹھا چوسنا ۔ ناخن کاٹنا۔ بال نوچنا۔ اس طرع کی جو صورت حال ھوتی ھے۔ وہ وقتی ھوتی ھے۔ اس میں ایسی کوی تشوشیں ناک بات نہیں ھوتی۔ اگر کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرکے ماں بچے پر توجہ دے تو۔

لیکن اگر باپ کا رویہ بہت زیادہ غصہ والا ھے گھر میں یا ماں کے ساتھ تو اس کا اثر بھی بچے پر بہت ھوتا ھے۔ جو لوگ سروس کرتے ھے۔ ان کی جو پسٹنگ ھوتی ھے۔ جس کی وجہ سے بچوں کے سکول تبدیل کرواے جاتےھے۔ تو نیا ماحول ھوتا ھے۔ تو یہ چیز بھی بچے میں بہت زیادہ انزاٹی پیدا کرتی ھے۔ اس میں کوی میڈسن کی ضرورت نہیں ھوتی ۔ بہت ہی کم بچے ایسے ھے جن کو میڈسن کی ضرورت پڑے۔ زیادہ تر والدین جب اس چیز کو سمجھ جاے ان کی کونسلن کی جاے تو وہ اس چیز پر قابو پا لیتے ھے۔
تو یہ چیزیں ھوتی ھے۔ جن پر والدین پرشان ھوتے ھے۔ اس طرع کے جو disorderجو ھوتے ھے کہ بچے بولنا اور چلنا دیرسے شروع کرتے ھے۔ تو اس کے لیے پہلے تو بچوں کے ماہر ڈاکڑ کو دکھایا جاے ۔ کہ ان کو کوی جسمانی عارضہ تو نہیں۔ اس کے بعد ماہر نفسیات سے رابطہ کیا جاے ان کی ذہنی نشورنما کے لیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button