صحت

زندگی کیا ہے؟ کیا موت حقیقت ہے ؟

زندگی بنیادی طور پر موت سے مختلف ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟ ماہر طبیعیات ایرون شروڈنگر نے زندگی کی تعریف کچھ یوں کی ہے،

زندہ چیزیں خرابی اور توازن کی طرف جانے سے بچتی ہیں”
اسکا کیا مطلب ہے ؟ فرض کریں آپکا ڈاؤنلوڈ فولڈر کائنات ہے۔ شروعات میں یہ بہت منظم تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ مزید سے مزید درہم برہم ہوتا چلا گیا۔ توانائی کا استعمال کرکے آپ اسکو دوبارہ منظم اور صاف کرسکتے ہیں۔ یہی زندہ چیزیں کرتی ہیں لیکن زندگی کیا ہے؟

اس سیارے پر موجود ہر زندہ چیز خلیات سے ملکر بنی ہے۔ بنیادی طور پر خلیہ ایک پروٹین پر مبنی روبوٹ ہے جو کسی چیز کو محسوس یا تجربہ کرنے کیلئے بہت چھوٹا ہے۔ اسکے پاس وہ خصوصیات موجود ہیں جو ہم زندگی کیلئے مختص کرتے ہیں۔ اسکی ایک دیوار ہے جو اسکو اردگرد سے محفوظ رکھتی ہے اور ترتیب (آرڈر) پیدا کرتی ہے۔ یہ اپنے آپکو ریگولیٹ کرتا ہے اور ایک مستقل حالت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ چیزوں کو کھاتا ہے تاکہ زندہ رہ سکے، یہ بڑھتا اور ترقی کرتا ہے, یہ ماحول کیساتھ ردعمل کرتا ہے اور یہ ارتقاء سے مشروط ہے اور یہ اپنے جیسے مزید بناتا ہے۔

لیکن سارے حصے جو ایک خلیے کو بناتے ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں۔ اشیاء دوسری اشیاء سے کیمیائی طورعمل پذیر ہوتی ہیں جو تعاملات کو شروع کرتی ہیں جو مزید تعاملات کو شروع کرتے ہیں جو آگے مزید تعاملات کو شروع کرتے ہیں۔ ایک واحد خلیہ میں ہر سیکنڈ کے اندر کئی ملین تعاملات ہوتے ہیں جو ایک پیچیدہ آرکسٹرا بناتے ہیں۔ ایک خلیہ کئی ہزار اقسام کی پروٹیز بناسکتا ہے کچھ بہت سادہ جبکہ کچھ پیچیدہ مائیکرو مشینیں۔ ایک کار کو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے ہوئے تصور کریں جسکا ہر حصہ لگاتار نیا بناتے جارہے ہوں ان چیزوں کیساتھ جو آپ نے راستے سے اکٹھی کی ہوں۔ یہی خلیہ کرتا ہے لیکن اسکا کوئی حصہ زندہ نہیں ہے، ہر چیز مردہ مادہ ہے جو کائنات کے قوانین کے تحت حرکت کررہا ہے۔

تو کیا زندگی ان تمام کیمیائی تعاملات کا مجموعہ ہے جوچل رہے ہیں؟
تمام زندہ چیزیں بالآخر مر جائیں گی۔ اس سارے عمل کامقصد نئی چیزوں کو پیدا کرکے اسکو روکنا ہے، اور اس سے ہماری مراد ڈی این اے ہے۔ زندگی ایک طرح سے محض بہت سی اشیاء ہیں جو جینیاتی معلومات لئے پھرتی ہیں۔ ہر زندہ چیز ارتقاء پذیر ہے اور وہ ڈی این اے جو اپنے گرد بہترین زندہ چیز بنائیگا کھیل میں باقی رہیگا۔ تو کیا پھر ڈی این اے زندگی ہے ؟

ڈی این اے ایک پیچیدہ مالیکول ہے مگر وہ خود سے کچھ نہیں کرسکتا۔ یہاں پر وائرسز سارے معاملے کو مزید پیچیدہ بنادیتے ہیں۔ یہ دراصل ڈی این اے یا آر این اے کے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جنکو کچھ کرنے کیلئے خلیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ مردہ میں شمار ہوتے ہیں یا زندہ میں اور اسکے باوجود زمین پر دو سو پچیس ملین کیوبک میٹر وائرس موجود ہیں۔ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ایسے وائرس بھی موجود ہیں جو مردہ خلیات پر حملہ کرکے انہیں دوبارہ اپنے رہنے کے قابل بناتے ہیں جوکہ فرق کو مزید دھندلا کردیتا ہے۔

یا پھر مائٹوکانڈریا جنکو خلیے کا پاور پلانٹ کہا جاتا ہے اور جوکہ ماضی میں آزادانہ طور پر رہتے تھے اور بڑے بیکٹیریا کیساتھ شراکت میں شامل ہوگئے۔ یہ ابھی تک اپنا ڈی این اے رکھتے ہیں اور اسکو تقسیم بھی کرسکتے ہیں لیکن یہ زندہ نہیں ہیں یہ مردہ ہیں۔ یعنی انھوں نے اپنے ڈی این اے کی بقا کیلئے اپنی زندگی کا سودا کیا۔ اسکا مطلب ہے جاندار اشیاء غیر جاندار اشیاء میں ارتقاء کرسکتی ہیں جب تک کے یہ انکے جینیاتی کوڈ کیلئے سودمند ہو۔ تو شاید زندگی وہ انفارمیشن ہے جو اسکےمسلسل وجود کو ممکن بناتی ہے۔

لیکن مصنوعی ذہانت کے بارے میں کیا ؟

تقریباً عام تعریف کے لحاظ سے ہم کمپیوٹر میں مصنوعی زندگی پیدا کرنے کے بہت قریب ہیں۔ وہ وقت بہت دور نہیں جب ہم وہ ٹیکنالوجی تیار کر لیں جو ہمیں وہاں تک لے جائے۔ اور یہ کوئی سائنس فکشن نہیں ہے مختصر تعداد میں ابھی بھی لوگ اس پر کام کررہے ہیں۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر وائرس جاندار ہیں۔

تو پھر زندگی کیا ہے؟ اشیاء؟ پروسیسز؟ ڈی این اے؟ انفارمیشن؟ یہ بہت الجھا ہوا ہے۔ ایک بات یقینی ہے کہ یہ تصور کہ جاندار اشیاء غیر جاندار سے بنیادی طور اس لئے الگ ہیں کیونکہ وہ اپنے کچھ غیر مادی وجود رکھتی ہیں یا پھر انہیں وہ قانون کنٹرول کرتے ہیں جو غیر جاندار اشیاء کو نہیں کرتے، مکمل غلط ہے۔ چارلس ڈارون سے پہلے انسانوں نے اپنے اور باقی جانداروں کے درمیان لکیر کھینچی۔ ہمارے اندر کچھ جادوئی تھا جو ہمیں خاص بناتا تھا۔ ایک دفعہ جب ہم نے تسلیم کرلیا کہ ہم بھی باقی جانداروں کی طرح ارتقاء کی پیداوار ہیں تو ہم نے ایک اور خط کھینچا۔

لیکن جتنا زیادہ ہم نے یہ جانا کہ کمپیوٹر کیا کچھ کرسکتے ہیں اور زندگی کیسے کام کرتی ہے، جتنا ہم اس مشین کو بنانے کے قریب پہنچے ہیں جوکہ زندگی کہ تعریف پر پوری اتر سکے اتنا ہی ہمارا اپنا تصور دوبارہ خطرے میں پڑگیا ہے اور جلد یا بدیر یہ ہوگا۔

یہاں آپکے لئے ایک اور سوال ہے۔ اگر کائنات کے اندر ہر چیز ایک جیسی چیزوں سے ملکر بنی ہے توکیا کائنات کے اندر ہر چیز زندہ ہے یا مردہ ؟ اور یہ کہ یہ صرف پیچیدگی کا سوال ہے۔ کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم کبھی نہیں مرتے کیونکہ ہم کبھی زندہ ہی نہیں تھے؟ کیا زندگی اور موت ایک غیر متعلقہ سوال ہے اور ہم اسکو ابھی تک سمجھ نہیں پائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود کائنات کا اس سے زیادہ حصہ ہوں جتنا ہم نے سوچا تھا۔ ہماری طرف مت دیکھیں ہمارے پاس آپکے لئے کوئی جوابات نہیں ہیں صرف سوالات ہیں سوچنے کیلئے۔ آخر اس قسم کے سوالات کے متعلق سوچنا ہی وہ چیز ہے جو ہمیں زندہ ہونے کا احساس دلاتا ہے اور کچھ سکون مہیا کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button