بلاگز

ہم کو زندگی میں بہت سے لوگ ملتے ہیں کچھ ضرورت سے زیادہ اچھے ہوتے اتنے کہ یقین نہیں آتا کہ کوئی اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے ؟

کیا ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بےلوث ہوں بنا کسی غرض کے آپ کا ساتھ دینے والے ہوں اور تب کام آنے والے ہوں جب کوئی پوچھے بھی نا

پھر آتے بہت برے لوگ مطلب کے جن کا کام ہی بس مطلب نکال کے استعمال کر کے آپ کو پھینک دینا ہوتا وہ ہر جگہ اپنا مطلب اپنا فائدہ اپنی لالچ دیکھتے ۔ کوئی جئیے یا مرے ان کو پرواہ نہیں۔ کس سے کس وقت کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کو سب پتہ ہوتا ہے اور ہم لوگ اکثر ایسے ہی بندوں پہ یقین کرتے ہیں اور یقین جانیے یہی یقین ہمیں لے ڈوبتا ہے۔
ایسے لوگ نا پیروں تلے زمین رہنے دیتے اور نا سر پہ سائبان کے لیے آسمان۔۔۔
پنجابی زبان کی اک کہاوت ہے کہ
‘ اوتھے مارو جتھے پانی نا لبھے’
اس قسم کے ہوتے ہیں یہ لوگ جن کے لیے کوئی رشتہ کوئی احساس معنی نہیں رکھتا۔ اور ہم لوگ اندھا یقین ایسے ہی لوگوں پہ کرتے ہیں۔۔۔
اک تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اچھوں کے ساتھ اچھے اور بروں کے ساتھ برے ہوتے ہیں مطلب جیسے کو تیسا کرنے والے۔ اچھا بن کے ملو تو اچھے ملے گے اور اگر برا کرو گے تو اس کو گھر تک چھوڑ کے آنے والے ہوتے۔۔ مدد پڑنے پہ ساتھ بھی دینے والے اور بدلہ لیتے وقت خود کے ساتھ کتنا برا ہو سکتا یہ بھی نہیں سوچنے والے۔۔۔
ہم لوگ ہر طرح کے انسانوں سے ملتے ہیں ان کو جانتے ہیں پہچانتے ہیں مگر پھر بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ہمارا دل ہمارا دماغ کہی نا کہی گھنٹی بجا رہا ہوتا کہ کچھ ہونے والا یا کچھ ہو جائے گا رک جاؤ پر پھر بھی ہم خود کی بھی اک نہیں سنتے اور دھوکہ کھا لیتے اور بعد میں الزام دیتے۔۔
میں نے بہت سارے ایسے لوگ دیکھے جن کو برسوں پرانے تعلقات سے نسبت ہوتی کہ 35 سال 40 سال کا واسطہ پر جب آپ قریب سے جانتے تو کھوٹ نکلتا۔۔۔
اک سونگ سنا تھا کبھی کہ’ کئی چہرے ہیں اس دل پر نا جانے کون سا میرا ‘ کہ اتنے چہرے ہوتے نا کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کیسا نکل آئے۔
لوگوں کو پہچاننا بہت مشکل کام ہے مطلب چہرے پہ چہرا اور اصل چہرہ کونسا کوئی پتہ نہیں۔
اچھا اک مزے کی بات ہم ان پر یقین کر لیتے جن کو جانتے نہیں پر ان پہ یقین کبھی نہیں کرتے جو پاس رہتے ساتھ رہتے اپنے ہوتے یا پھر ہمیں وہ لوگ یقین کے قابل نہیں لگتے۔۔
ہمارا واسطہ ان سب کیٹگری کے لوگوں سے پڑتا ہے بہت اچھوں سے بہت بروں سے اور نارمل سے پر ہمیں خود کے لیے چننا نہیں آتا کہی دل بیچ میں آ جاتا اور کہیں دماغ۔۔۔۔ بہت کم جگہ یہ دونوں اکٹھے ہوتے ہیں اور جہاں یہ اچھے نکل آئے وہاں قسمت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔۔۔۔
خیر یہی زندگی ہے دوست اک جوا جو جیت گیا وہ خوش جو ہار گیا وہ کام سے گیا
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button