بریکنگ نیوزویڈیوز

زبیر عمر کی پرسنل ویڈیو کیسے لیک ہوئی ؟

ن لیگ پانامہ کے بعد کمزور ہونا شروع ہو گئی تھی جو الیکشن میں عمران کی کامیابی اور نواز شریف کے ملک سے بھاگنے پر بلکل خاتمے کی جانب بڑھنے لگی۔ ایسے میں ن لیگ نے ایک چال چلی اور شہباز شریف کی صورت میں ایک الگ گروپ بنوا دیا گیا۔ گاہے گاہے اس گروپ کی مریم نواز سے اختلاف کی خبریں گردش کرتی رہیں۔ اس طرح لوگوں میں ایک امید برقرار رہی اور دو دھڑوں کا استعمال کر کے دونوں نظریات کے حامل لیگیوں کو پارٹی سے وابستہ کیے رکھا۔ ن لیگ کا ووٹر بھی اس سے صورتحال میں دو حصوں میں تقسیم ہوا تو دونوں میں سے ایک دھڑے کے ساتھ مل گیا یوں ن لیگ کے بڑے ڈیزاسٹر سے محروم رہی۔

محمد زبیر کا تعلق مریم گروپ سے تھا لیکن وہ شہباز شریف کی حکمت عملی پہ چلتے تھے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرتے تھے۔ یہ سب خود نواز شریف کی ہدایت پہ ہی ہوتا تھا۔ تاہم اب قوم کو پتہ چلنا شروع ہو گیا کہ یہ اندر سے ایک ہی ہیں اور ڈرامے کر رہے ہیں۔ ایسے میں مریم نواز کی جانب سے یہ کہہ کر عوام کو انگیج کرنے کی کوشش کی گئی کہ جس لیگ نے باجوہ کو ایکسٹینشن دی تھی میرا اس سے تعلق نہیں ہے۔ لیکن کسی نے توجہ نہیں دی اور یہ ڈرامہ فلاپ ہو گیا۔

زبیر عمر کو بار بار مریم نواز کی جانب سے جھوٹا ثابت کیا جاتا رہا۔ جنرل باجوہ سے ملاقات کے وقت بھی ایسا ہی سین سامنے آیا۔ اب ایک اصلی گروپ سامنے آتا گیا جو پارٹی سے ناراض تھا۔ زبیر عمر کی مریم نواز سے تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے ان کا اس گروپ میں عمل دخل بڑھ گیا اور وہی اسے لیڈ کرنے لگے۔ اب بہت جلد اس گروپ کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان سامنے آنے والا ہے۔ اسیے میں مریم نواز کی جانب سے ویڈیو ریلیز کر کے باقی گروپ جو خبردار کر دیا گیا ہے کہ سب کی باری آئے گی۔ ابھی عین ممکن ہے کہ کچھ دیگر ممبران کی ویڈیوز بھی سامنے آئے کیوں اس گروپ میں جو بھی رزسٹ کرے گا اسے سبق ملے گا۔

زبیر عمر ن لیگ کا انتہائی وفادار رہا ہے۔ لیکن مریم نواز کی جانب سے اس کی تمام محنت کو ٹھکرایا جاتا رہا جس کی وجہ سے وہ پارٹی سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ مریم نواز نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے پاس واقعی ویڈیوز موجود ہیں ۔ انھوں نے صرف لڑکیاں ہی فراہم نہیں کیں بلکہ کیمرے بھی نصب کیے رکھے ۔ مجھے تو اس گھٹیا جماعت کو سپورٹ کرنے والوں کی ذہنی حالت پہ ترس آتا ہے کہ ان کی لیڈر خود ایسی ویڈیو رکھنے کا اعلان کرتی ہے اور وہ اس سے ملک کی سربراہی کی توقع رکھتے ہیں۔

فاطمہ خان

Fatima Khan is a Freelance Journalist at Urdu Globally, a voracious writer and Social Media Activist playing her role in socio-political movements in Pakistan

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button