بلاگز

موبائل اور انٹرنیٹ کے فوائد و نقصانات

موبائل اور انٹرنیٹ نے دنیا کا نظام بدل کر رکھ دیا ہے صرف یہی نہیں جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے نت نئی چیزیں دریافت ہو رہی ہے اور اس دنیا سے باہر نکل کر ناسا یا خلا میں کام اور بھی آسان ہوتا جا رہا ہے موبائل اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے کہا جاتا ہے کے قربِ قیامت دور قریب اور قریب دور ہوتا جائے گا اور اب آپ دیکھئے کے کیسے دور بیٹھے انسان کی تصویر بمع آواز ہم بیک وقت سن اور دیکھ سکتے ہیں. ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے لوگ اب موبائل پیغامات سے بات چیت کرتے ہیں.
اس موبائل اور انٹرنیٹ کے پہلے فوائد دیکھتے ہیں کیونکہ میں ہمیشہ مثبت سوچتا ہوں.
موبائل اور انٹرنیٹ سے ہم دنیا بھر کی کسی بھی معلوماتی چیز کے بارے ہم پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں اور اب ایسی ایسی چیزیں آ چکی ہیں کے صرف موبائل سے ہی آپ کہیں بھی ہوں جنگل میں بھی ہوں تو آپ سیٹلائیٹ کے زریعے یا پھر موبائل نیٹ ورک کوریج کے سگنلز کے زریعے رابطے میں رہتے ہیں.
اسکول، کالج، یونیورسٹی یا کوئی بھی ادارہ اب اس موبائل فون اور نیٹ کے بغیر نہیں چل سکتا انسان اب ان دونوں چیزوں کا محتاج ہو چکا ہے. اس کے زریعے آپ صرف معلومات ہی نہیں بلکہ اب تو آن لائن کام، ڈیجیٹل طریقے سے پیسے بھی بھیج سکتے ہیں. صرف چند سیکنڈز اور منٹس میں آپ کوئی بھی کسی کو بھی دنیا تو کیا سیٹلائیٹ سے کنیکٹ ہو کر اپنا پیغام خلا میں بھی بھیج سکتے ہیں موبائل میں اب وائی فائی ہونا ایک اور جدت ہے جس سے آپ بغیر کسی تار کے اپنے گھر یا کہیں بھی انٹرنیٹ کے زریعے رابطے میں رہ سکتے ہیں.
آن لائن اسٹریمنگ آپ جس وقت چاہیں جب مرضی چاہیں براہ راست اسٹریمنگ دیکھ سکتے ہیں اور اپنی ویڈیو بھی براہ راست موبائل کے کیمرے سے آ کر اپلوڈ کر سکتے ہیں.
موبائل اور انٹرنیٹ ایک لامحدود ٹیکنالوجی ہےجب پاکستان میں کورونا آیا تو اسی ٹیکنالوجی ست فائدہ اٹھایا گیا اور ان لائن پڑھائیاں ہوئیں اگر اس دور میں آپ کے پاس موبائل فون اور انٹرنیٹ نہیں تو آپ ناکام ہیں آپ اس کے بغیر نہیں زندہ رہ سکتے.اب تو گھر کا روزکا سودا مثلاً آٹا دال چاول وغیرہ بھی موبائل فون ایپ سے منگوایا جاتا ہے ظاہر ہے جب آپ کے پاس موبائل ہوگا تو لازمی انٹرنیٹ چاہئے ہوگا ایسا نہیں ہو سکتا کے آپ موبائل استعمال تو کریں مگر نیٹ نا استعمال کریں.حکومتی سطح پر بھی اب ایسا نظام آ چکا ہے کے جس میں انٹرنیٹ کا ہونا لازمی ہے آپ اسی سے اندازہ لگا لیں کے پاکستان میں ہر دوسرے کے پاس موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے.جس طرح اس کے فوائد اگر لکھے جائیں تو صفحات اور قلم کی دوات ختم یا پھر ڈیجیٹل ڈیوائس پر لکھتے لکھتے موبائل کی بیٹری ختم ہوجائے لیکن اس کے فوائد ختم نا ہوں گے اور اب تو فائیو جی ٹیکنالوجی آ چکی ہے جو انٹرنیٹ کی دنیا میں تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہے.
اب آتے ہیں نقصانات کی طرف
چونکہ ہمارا مذہب اسلام اور ملک پاکستان ہے تو ہمارے ہاں اس کے نقصانات بھی لامحدود ہیں.سب ست پہلے موبائل فون اور انٹرنیٹ پر کیا دیکھا اور کیا کیا جا رہا ہے وہ اہم ہے اگر اسے منفی طریقے سے استعمال کیا جائے تو نسلیں تباہ ہوں گی ہمارا معاشرہ مغرب جیسا نہیں جہاں بے ہودگی برائی گندگی عام ہے.موبائل فون پر جو نت نئی ایپس آچکی ہیں اس نے ہماری نوجوان نسل کو مزید تباہ کیا ہے وہ اسے غلط استعمال کی طرف لے جاتے ہیں اس کا سدِباب کرنا والدین کی زمہ داری ہے.جب آپ کسی نوجوان کو موبائل فون دیتے ہیں اور اس پر نگرانی نہیں کرتے تو یہی سب سے بڑی خرابی کی ابتدا ہوتی ہے اب وہ بچہ موبائل فون پر کیا کر رہا ہے کیا دیکھ اور سن رہا ہے اگر نظر نہیں رکھی جائے گی تو اندیشہ اس بات کا زیادہ ہوتا ہے کے نقصان ہوگا.
موبائل فون سے خاص کر نوجوان نسل مسیجز ویڈیوز اور تصاویر دیکھنے بھیجنے اور سننے میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی کرتی ہے.
موبائل فون ایپس پر اگر ہم پابندی لگائیں تو میرے خیال سے یہ درست نہیں اس کی وجہ یہ ہے کے اس کا متبادل کوئی اور ایپ تو ضرور ہوگی بات ہے اصل کے والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کے وہ کیا ان ایپس کو کس سینس میں استعمال کرتے ہیں جیسے بجلی کتنی فائدے مند چیز ہے مگر نقصان بھی کتنا ہے
میں زاتی طور پر موبائل یا انٹرنیٹ پر پابندی کے حق میں نہیں بلکہ نوجوان نسل پر نظر رکھنے کا حامی ہوں اگر سختی یا پابندی نہیں ہوگی تو معاشرہ بگڑے گا.
جیسا کے میں نے پہلے لکھا کے اگر موبائل فون یا انٹرنیٹ کے فوائد لکھنے بیٹھیں تو یہ ختم نا ہوں گے بلکل ایسے ہی اس کے نقصانات بھی بہت ہیں.
اسی کے ساتھ میں اب اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے تحریر کا اختتام کرتا ہوں.

سید محمد مدنی

I am Mr. Syed Muhammad Madni a freelance journalist and write columns on Urdu Globally. Follow me on Twitter @M1Pak.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button