بین الاقوامی

جوانی کے مساہل ۔اور پرشانیاں

بلوغت جو ھے جسم کا حصہ ھے۔ کچھ کمیلز ھوتے ھے۔ جن کوہم ہارمونز کہتے ھے۔ وہ بلوغت کا باعث بنتے ھے۔ انھون نے ظاہری طور پر تبدیلی لانی ھوتی ھے بچے میں جو بالغ ھورہا ھوتا ھے۔ اور اس طرع سے اندرونی طور پر بھی۔ اور یہ جو ہارمونز ھوتے ھے

ان کازیادہ اثر ھوتا ھے۔ خواتین کےاوپر یہ انزاٹی پیدا کرتے ھے۔ گبھراہٹ پیدا کرتے ھے۔ اس گبھراہٹ کی وجہ یہ ہارمونز ہی ھوتے ھے۔ اور کچھ گبھراہٹ کی وجہ تبدیلی آنی ھوتی ھے۔ وہ تبدیلی ظاہری طور پر بھی ھوتی ھے۔ اور ایک خاص چیز یہ ھوتی ھے۔ کہ رول بدل جاتا ھے۔ لڑکی کو ایک طرع سے بڑوں والا رول ادا کرنے تاکید کی جاتی ھے۔

ہمارے معاشےے میں بچی کو یہ کہا جاتا ھے کہ اب وہ بڑوں والا رویہ اختیار کرے گی۔ اور پردہ شروع کرے گی ۔ جو سوشل کلچر ھوتا ھے اس کے مطابق۔ ایساکلچر بھی ھے کہ KPK اور افغانستان میں کہ 11 سال کی بچی مکمل برقعہ ڈالےگی۔

اب یہ ضرورت ھے۔ ٹھیک ھے بچوں کو بتایا جاے۔ کہ وہ اب بالغ ھوگے ھے۔اب وہ کس طرع سے اپنی زندگی گزارے۔ اور کیسے انھون نے اپنے رویے میں تبدیلی لانی ھے۔ شخصیت میں تبدیلی لانی ھے۔ سوچ میں تبدیلی لانی ھے۔ لیکن ان کی خاص طور پر جس ہم نے سمجھنا ھے وہ جسمانی تبدیلیاں ھوتی ھے۔ اس کےبارےمیں بتانا بہت ضروری ھے۔ اب سمجھ لے کہ مسلہ یہ ھے کہ 9کلاس میں bio بچے جب پڑھتے ھے۔ تو ان میں اکثر استاد جو تولیدی نظام کا chapter ھوتا ھے۔ وہ چھپایا دیا جاتا ھے۔ اور وہ پڑھاتے نہیں ھے۔

کہ یہ کیا باتی ہم ان سے کرے گے۔ تواس میں پہلے بات تو یہ ھے کہ بہت کم سکول ایسے ھے جو co education نا ھو۔ اور وہاں پر چاہیے یہ ھوتا ھے ۔ کہ لڑکے اور لڑکیوں کو الگ الگ کر کے استاد ان کو تولیدی نظام کے بارے می سمجھاے۔

ماں اور بیٹی کا تعلق ایسا ھوتا ھے ۔ کہ ماں بیٹی کو سمجھا دیتی ھے۔ کہ پریڈ کے دنوں کیسے ہینڈل کرنا ھے۔ اور یہ نارمل چیز ھے۔ لیکن باپ اور بیٹے کا تعلق ایسا نہیں ھوتا زیادہ تر آجکل اتنا فری نہیں ھوتا۔ جتنا ماں اور بیٹی کا ھوتا ھے۔ تو باپ عام طور پر بچے میں جنسی طور پر تبدیلی کے بارے میں آگاہی نہیں دیتا ۔ اور سکول میں استاد اکثر یہ کام کر سکتے ھےتو وہ بھی نہیں کرتے۔ کہ ان کو سکول میں اس بارے میں پڑھاتے ہی نہیں۔

تو اس میں سب سے بہتر ھے۔ کہ ڈاکٹرز کو بلایا جاے۔ اور ڈاکٹرز آکر جو لڑکے بالغ ھورہے ھے۔ 9یا10 کلاس میں جو 14سے 15 سال کی عمر کے ھے۔ ان کوخاص طور پر ڈاکڑز جو ھے وہ لیکچر دے۔ اور ان کو بتاے کہ یہ جو تبدیلیاں ھوتی ھے۔ ان کے کیا اثرارت ھوتے ھے۔ اور ان کوکیسے handl کیاجاتا ھے۔

بہت ساری چزیں لڑکوں میں مردوں میں بلوغت کے حوالے سے کہ یہ کوی بیماری ھے اوران بیماریوں کو روکنا ھوتا ھے۔ تو یہ چزیں ظاہر ھے ایک ڈاکڑ بہتر طریقعےسےان کو سمجھا سکتا ھے۔ اور ان کو اعتبار بھی دلا سکتا ھے۔

اس کم علمی کی وجہ سے یہ ھوتا ھے کہ بے شمار لڑکے جو ھے وہ ایک ذہنی دباو کا شکار ھوجاتے ھے۔ کہ سٹسم ہمارا ٹھیک نہیں چل رہا ۔ اور امراض لاحق ھوگی۔ تو اس کم علمی کا فاہدہ یہ جو دھوکے باز فراڈیے حکیم ھے ۔ وہ اس چیز کا فاہدہ اٹھاتے ھے۔ جیسے یہ وال چاکنگ ھوتی ھے کہ مردانہ کمزوری کا علاج وغیرہ۔

تو بہترین یہ چیز ھوگی کہ جو لڑکے 14اور 15 سال کے بچے ھوتے ھے۔ اور جو لڑکیاں ھوتی ھے۔ تو استاد ان کو تولیدی نظام تفصیل سے پڑھاے۔ اور ساتھ ڈاکڑز کو بلاے۔ لڑکیوں کے سکول میں لیڈی ڈاکٹرز کو بلایا جاے اور ان کو لیکچر دیا جاے۔۔

کوی اشیو نہیں ھے۔ ہر بندہ تیار پبلک سروس کے لیے۔ کسی بھی ڈاکڑ یا لیڈی ڈاکڑ کو کہا جاے گا۔ کہ بچوں کو لیکچر دینا ھے۔تو وہ بہت خوشی سے آکر وہ لیکچر دے گے۔اور بچوں کو بچیوں کو سمجھاے گے۔ کہ آپ کے اندر جو جنسی تبدیلی آرہی ھے۔ یہ ایک نارمل چیز ھے۔ یہ بیماری نہیں ھے۔اور اس میں جو تبدیلیاں آتی ھے۔ان کو آپ نے کسے دیکھنا ھے handl کرنا ھے۔ تو اس چیز سے بچوں میں ایک خود اعتمادی پیدا ھوگی۔ اور سکولوں کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کرے۔

تاکہ لڑکے اورلڑکیوں کے جو مساہل ھوتے ھے بلوغت کے حوالے سےوہ نا ھو۔ اور ان کو اپنے آپ کو سمجھنے میں آسانی ھو۔ اور معاشرہ ایک صحت مند سوچ کے ساتھ نوجوان نسل کو آگے بڑھتا ھوا پاے گے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button